Monday , January 22 2018
Home / ہندوستان / نامور صحافی و ادیب خشونت سنگھ کا انتقال‘ صدر و وزیر اعظم کا خراج

نامور صحافی و ادیب خشونت سنگھ کا انتقال‘ صدر و وزیر اعظم کا خراج

نئی دہلی ۔ 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے نامور صحافی و ادیب خشونت سنگھ کا 99 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ آنجہانی سنگھ طویل عرصہ سے علیل تھے اور عوامی زندگی سے دور ہوگئے تھے۔ ان کے صحافی بیٹے راہول سنگھ نے بتایا کہ ان کی موت انتہائی پرسکون طور پر واقع ہوئی۔ خشونت سنگھ سوجان سنگھ پارک میں رہا کرتے تھے جہاں انہوں نے آخری سانس لی۔ را

نئی دہلی ۔ 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے نامور صحافی و ادیب خشونت سنگھ کا 99 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ آنجہانی سنگھ طویل عرصہ سے علیل تھے اور عوامی زندگی سے دور ہوگئے تھے۔ ان کے صحافی بیٹے راہول سنگھ نے بتایا کہ ان کی موت انتہائی پرسکون طور پر واقع ہوئی۔ خشونت سنگھ سوجان سنگھ پارک میں رہا کرتے تھے جہاں انہوں نے آخری سانس لی۔ راہول نے کہا کہ ان کے والد نے ایک بھرپور زندگی کا لطف لیا۔ انہیں سانس لینے میں تکلیف کا سامنا تھا لیکن اپنے آخری وقت تک وہ دماغی طور پر بیحد چست تھے۔ بحیثیت ایڈیٹر وہ 1979-80 میں ہندوستان کے مشہور و معروف انگریزی رسالہ السٹریٹیڈ ویکلی سے وابستہ رہے۔ یہ رسالہ اب شائع نہیں ہوتا۔

بعدازاں انہوں نے 1980-83 ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر کے فرائض انجام دیئے۔ 1951-53ء میں وہ یوجنا میگزین کے بانی و ایڈیٹر تھے۔ 1974ء میں انہیں پدمابھوشن کا ایوارڈ دیا گیا تھا لیکن 1984ء میں اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے امرتسر کے سنہری گردوارے پر جو فوج کشی کروائی تھی اس پراحتجاج کرتے ہوئے انہوں نے پدمابھوشن ایوارڈ حکومت کو واپس کردیا تھا۔ 2007ء میں خشونت سنگھ کو پدماوبھوشن کا ایوارڈ دیا گیا جو ہندوستان میں دوسرا سب سے بڑا سیویلین ایوارڈ ہے۔ وہ اپنی خوش مزاجی کیلئے جانے جاتے تھے۔ انہیں اردو زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔

ان کی ناول ’’اے ٹرین ٹو پاکستان‘‘ نے مقبولیت کے تمام ریکارڈس توڑ دیئے تھے۔ 1915ء میں ہڈالی (جو اب پاکستان میں ہے) خشونت سنگھ کا جنم ہوا۔ انہوں نے اسکولی تعلیم نئی دہلی کے ماڈرن اسکول سے مکمل کی اور سینٹ اسٹیفین کالج میں داخلہ لیا۔ اس کے بعد وہ غیرمنقسم ہندوستان کے شہر لاہور کے گورنمنٹ کالج میں پڑھائی کرنے لگے۔ ان کے انتقال پر صدرجمہوریہ پرنب مکرجی، وزیراعظم منموہن سنگھ نے خشونت سنگھ کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیراعظم نے انہیں ’’گفٹید آتھر‘‘ کہا اور یہ بھی کہا کہ وہ ان کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔

بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے۔ سابق ائی پی ایس آفیسر کرن بیدی نے خشونت سنگھ کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ انہیں آج بھی وہ دن یاد ہیں جب وہ خشونت سنگھ کے ساتھ ٹیلنس کھیلا کرتی تھیں۔ مشہور مصنف اور کالم نگار ایم جے اکبر نے بھی خشونت سنگھ کو سب کا پسندیدہ شخص قرار دیا۔ کرکٹ کامینٹیٹر ہرشا بھوگلے نے کہا کہ بالآخر خشونت سنگھ بھی چلے گئے جیسا کہ ہم سب کو بھی جانا ہے۔ اگر سنچری مکمل کرلیتے تو اچھا ہوتا۔ بہرحال انہوں نے اپنے قیمتی 99 سال ہمیں دیئے۔ بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے۔ یاد رہیکہ خشونت سنگھ ایک سیول کنٹراکٹر سرسوبھا سنگھ کے فرزند تھے۔ بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی نے بھی خشونت سنگھ کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

TOPPOPULARRECENT