Wednesday , April 25 2018
Home / شہر کی خبریں / نامپلی مارکٹ ،بنیادی سہولتوں سے محروم

نامپلی مارکٹ ،بنیادی سہولتوں سے محروم

l عصری بنانے حکومت کے وعدے وفا نہیں ہوئے
l چکن مارکٹ کی گندگی سے عوام کو مشکلات، آصفجاہی دور کی کمان منہدم

حیدرآباد ۔ 7 اپریل (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں علاقہ نامپلی کا شمار قدیم دور میں حیدرآباد کے مضافاتی علاقوں میں ہوا کرتا تھا کیونکہ یہ علاقہ سرسبز و شاداب بھی تھا اور یہاں ماضی میں باغات کی کثرت تھی۔ حضور نظام نواب میر عثمان علی خان بہادر نے جب وہاں ریلوے اسٹیشن کی تعمیر کروائی تو اس اعتبار سے یہ علاقہ نم اور پانی پر مشتمل تھا چنانچہ اس کو نامپلی کا نام دیا گیا اور اس علاقہ میں آبادی کی کثرت کی وجہ سے تاریخی عمارتیں، باغ عامہ، صنعتی نمائش اور ساتھ ساتھ نامپلی مارکٹ کو بھی وجود بخشا گیا اور ان دنوں اس کے ساتھ محبوب چوک اور سبزی منڈی کی بڑی اہمیت تھی۔ اس قدیم نامپلی مارکٹ میں جب کوئی آتا تو گوشت و ترکاری کے ساتھ ہر وہ گھریلو اشیاء کی خریداری کرتا جو اس کیلئے کام آتی ہو۔ اب ریاستی حکومت ریتو بازار اور چھوٹے بازاروں کو اہمیت دے رہی ہے۔ ان قدیم بازاروں کو گرادیا گیا ہے جس کیلئے اب یہ بازار صرف برائے نام ہوکر رہ گئے ہیں۔ نامپلی مارکٹ کے ابتدائی دنوں سے ہی یہاں بکرے کے گوشت، ترکاری، مرغی کا گوشت، کرانہ دکانات، طبی ادویات، اچار کے دکانات، دہی، دودھ گھر الغرض ہر وہ دکان موجود تھی جس سے خریداری کرنے والوں کو بڑی آسانیاں فراہم ہوتی تھی، لیکن اب یہ نامپلی مارکٹ صرف مرغاں مارکٹ کا روپ لے چکی ہے جس کی وجہ سے روزانہ ہر آنے و جانے والوں کیلئے بڑے تکلیف دہ مراحل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس گندگی کی بناء ضعیف اور معمر مرد و خواتین کو تنفس اور دوسرے بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس قدیم مارکٹ کی حکومت اور بلدیہ نے حالت اس طرح بنا رکھی ہے کہ پانی کی نکاسی کا کوئی صحیح نظم نہیں ہے اور مرغیوں کی گندگی جو کئی دن تک اس مارکٹ میں رہنے اور اس کی بو کی وجہ سے راہگیروں، دکانداروں اور خریداری کرنے والوں کو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ؟حالانکہ اس سے متصل سٹی کریمنل کورٹ کی وجہ سے ججس اور وکلاء کا روزانہ آنا جانا ہے۔ نامپلی مارکٹ کے دکانداروں نے بتایا کہ اس مارکٹ کی ازسرنو تعمیر اور نگہداشت کے سلسلہ میں حکومت تلنگانہ کی توجہ کے ساتھ بلدیہ کو اس طرف متوجہ کیا گیا لیکن آج تک کسی بلدی عہدیدار نے اس مارکٹ کا معائنہ اور نہ مسائل کی یکسوئی کیلئے گفت و شنید کی۔ انہوں نے کہاکہ آصفجاہی دور سے لیکر آج تک ایک چھت تلے عوام کو ہر طرح کی سہولت مہیا تھی اور اس کے اندرون داخل ہونے کمان بھی آصف جاہی دور میں قائم کی گئی تھی اسے بھی منہدم کردیا گیا۔ اس مارکٹ میں پانی کی صحیح نکاسی کے نہ ہونے کی بناء دو پہیوں والی گاڑیوں کے جانے و آنے والے افراد پھسل کر گرتے رہتے ہیں جس میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب یہ مارکٹ قائم ہوئی اس وقت لگ بھگ ضروریات زندگی کے سازوسامان کیلئے 150 دکانات تھے اور یہاں لوگوں نے مرغی دکان کھولنے کا تہیہ کیا جس کی وجہ سے ان دکانات کی تعداد گذشتہ سے زائد ہوگئی۔ آصفجاہی دور میں نامپلی علاقہ جو ایک مثالی علاقہ کے طور پر قائم کیا گیا تھا مگر بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے ہر ایک من مانی پر اتر آیا ہے اور قدیم مارکٹ کے تقدس کو ختم کردیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT