Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / نامپلی کو ترقی یافتہ حلقہ میں تبدیل کرنا میری اولین ترجیح:فیروز خاں

نامپلی کو ترقی یافتہ حلقہ میں تبدیل کرنا میری اولین ترجیح:فیروز خاں

حیدرآباد ۔ 9 ۔ اپریل (سیاست نیوز) حلقہ اسمبلی نامپلی سے تلگو دیشم پارٹی کے امیدوار محمد فیروز خاں نے واضح کردیا کہ وہ صرف اور صرف عوامی خدمت کے جذبہ کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کسی عہدہ کے بغیر بھی گزشتہ 10 برسوں سے حلقہ اسمبلی نامپلی کے عوام کی بلا لحاظ مذہب و ملت خدمت کی ہے۔ حلقہ نامپلی کے سلم بستیوں اور غریبوں نے ان ک

حیدرآباد ۔ 9 ۔ اپریل (سیاست نیوز) حلقہ اسمبلی نامپلی سے تلگو دیشم پارٹی کے امیدوار محمد فیروز خاں نے واضح کردیا کہ وہ صرف اور صرف عوامی خدمت کے جذبہ کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کسی عہدہ کے بغیر بھی گزشتہ 10 برسوں سے حلقہ اسمبلی نامپلی کے عوام کی بلا لحاظ مذہب و ملت خدمت کی ہے۔ حلقہ نامپلی کے سلم بستیوں اور غریبوں نے ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے رائے دہندوں نے تلگو دیشم پارٹی ٹکٹ پر مقابلہ کرنے کا مشورہ دیا۔ محمد فیروز خاں جنہوں نے آج اپنا پرچہ نامزدگی داخل کردیا، سیاست کو ایک انٹرویو میں اعلان کیا کہ وہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے منتخب ہونے پر نامپلی کو ایک ترقی یافتہ حلقہ میں تبدیل کردیں گے۔ نامپلی اسمبلی حلقہ کا کوئی علاقہ پسماندہ اور بنیادی سہولتوں سے محروم نہیں رہے گا۔ کوئی بھی تعلیم یافتہ نوجوان بیروزگار نہیں رہے گا بلکہ وہ حکومت سے نمائندگی کرتے ہوئے خود روزگار اسکیمات کے تحت نوجوانوں کو مختلف کاروبار سے جوڑنے کے اقدامات کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بلا لحاظ مذہب و ملت عوامی خدمت ہمیشہ ہی ان کا جذبہ رہا ہے۔ گزشتہ 20 برسوں سے انہوں نے اپنے فلاحی اور سماجی خدمات کے ذریعہ عوام میں اپنی شناخت بنائی ہے۔ فیروز خاں نے کہا کہ وہ کسی عہدہ کی لالچ میں انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے ہیں بلکہ ان کا واحد مقصد نامپلی اسمبلی حلقہ کو بدعنوان اور مفاد پرست قائدین کے چنگل سے آزاد کرانا ہے۔

یہ وہ قائدین ہیں جنہوں نے منتخب ہونے کے بعد عوام کو نہ صرف نظرانداز کردیا بلکہ نامپلی اسمبلی حلقہ کو مزید پسماندہ بنادیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نامپلی اسمبلی حلقے کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے مثال کے طور پر سارے ملک میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کی خواہش پر ہی انتخابی میدان میں اترے ہیں اور حلقہ کے بزرگوں کی دعائیں اور نوجوانوں کی بھرپور تائید انہیں حاصل ہے۔ فیروز خاں نے کہا کہ وہ حلقہ اسمبلی نامپلی کو اپنا گھر تصور کرتے ہیں، جس طرح انہیں اپنے گھر کی فکر ہوتی ہے، اسی طرح وہ حلقہ کے ہر رائے دہندے کی ترقی کی فکر کریں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ صرف اور صرف تلگو دیشم پارٹی ان کے پیش نظر ہے اور کسی بھی فرقہ پرست جماعت سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ مخالفین کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ انہیں بی جے پی ایجنٹ قرار دیکر سیکولر رائے دہندوں کو منحرف کیا جائے ۔ فیروز خاں نے دعویٰ کیا کہ حلقہ اسمبلی نامپلی کا ہر گھر اور ہر رائے دہندہ ان کی خدمات سے بخوبی واقف ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ مخالفین کے پروپگنڈہ کا شکار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ انتخابات میں لمحہ آخر میں سازش اور دھاندلیوں کے سبب انہیں معمولی فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران انہوں نے حلقہ کی غریب بستیوں میں مفت پانی کی سربراہی عمل میں لائی ہے۔ پانی کی شدید قلت سے دوچار عوام کو انہوں نے ٹینکرس کے ذریعہ 24 گھنٹے پانی سربراہ کیا ۔ حلقہ کے مختلف سرکاری اسکولوں میں غریب طلباء وطالبات میں کتابیں اور بیاگس مفت تقسیم کئے گئے تاکہ غریب طلبہ تعلیم سے محروم نہ ہوں۔ غریب خاندانوں کے ضعیف افراد نے ماہانہ وظائف تقسیم کئے گئے۔ اس کے علاوہ چھوٹے کاروبار شروع کرنے کیلئے بلا لحاظ مذہب و ملت غریبوں میں امداد تقسیم کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مقامی جماعت کے رکن اسمبلی نے حلقہ کے مسائل کو یکسر نظر انداز کردیا تھا۔ فیروز خاں نے بتایا کہ ان کی امیدواری سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر مقامی جماعت کی قیادت نے مبینہ طور پر کانگریس ، ٹی آر ایس اور وائی ایس آر کانگریس کو ٹکٹ دینے سے روکا اور ہر طرح سے ان جماعتوں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی ۔ مقامی جماعت کو اس بات کا خوف ہے کہ فیروز خاں کی کامیابی یقینی ہے اور حلقہ اسمبلی نامپلی سے مقامی جماعت کے امیدوار کی ضمانت ضبط ہوجائے گی۔ فیروز خاں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ خود کو مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کا دعویٰ کرنے والی پارٹی نے تلگو دیشم پارٹی سے ٹکٹ روکنے کیلئے بی جے پی قیادت کو استعمال کیا ۔

بی جے پی قائدین نے چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کرتے ہوئے حلقہ اسمبلی نامپلی انہیں الاٹ کرنے کی مانگ کی اور حلقہ اسمبلی ملک پیٹ سے دستبرداری کی پیشکش کی۔ تاہم چندرا بابو نائیڈو اپنے فیصلہ پر قائم رہے اور انہوں نے عوامی خدمات کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ۔ فیروز خاں نے کہا کہ جو پارٹی اپنے مفادات کیلئے بی جے پی سے رجوع ہوسکتی ہے، وہ کس طرح مسلمانوں کی نمائندہ اور ہمدرد قرار پائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں کانگریس قائدین سے ربط پیدا کرتے ہوئے انہیں ٹکٹ ملنے سے روکا گیا جبکہ چرنجیوی نے نامپلی سے ٹکٹ دیئے جانے پر کافی اصرار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو نے جس طرح حیدرآباد کو ترقی دی ہے وہ بھی نامپلی حلقہ کو مثالی حلقہ میں تبدیل کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کی خدمت کیلئے 24 گھنٹے دستیاب رہیں گے ۔ فیروز خاں نے رائے دہندوں بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ مقامی جماعت کی سازشوں اور پروپگنڈہ کا شکار نہ ہوں اور تبدیلی کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے نامپلی اسمبلی حلقہ کو مسائل سے پاک حلقہ بنانے میں تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ حلقہ نامپلی کو ترقی یافتہ اور ہندو مسلم اتحاد کا گہوارہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT