Thursday , December 13 2018

نام رسالہ ماہنامہ اردو دنیا ماہ اگسٹ 2017ء 

مدیر پروفیسر سید علی کریم ( ارتضیٰ کریم)
نائب مدیر : ڈاکٹر عبدالحئی
مبصر : ڈاکٹر محمد ناظم علی ۔ نظام آباد
ڈاکٹر محمد ناظم علی
ماہنامہ اردو دنیا قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان وزـارت فروغ انسانی وسائل محکمہ اعلیٰ تعلیم حکومت ہند نئی دہلی کی جانب سے شائع ہوتا ہے اس کے علاوہ سہ ماہی فکر و تحقیق ماہنامہ بچوں کی دنیا، خاتون دنیا بھی بڑی آب و تاب سے نکلتا ہے اس طرح NCPUL کی جانب سے جمعہ جمعہ رسائل و جرائد نکلتے ہیں مذکورہ جرائد اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میںممد و معاون ثابت ہورہے ہیں اور ان میں شائع ہونے والا مواد ندرت و جدت پر مبنی ہوتا ہے ۔ تمام مشملات نیاپن اور بصیرت افروز پہلو لئے ہوتے ہیں۔ ہر اردو داں ان کو خریدکر پڑھیں تو انشاء اﷲ مستقبل سنورسکتا ہے اور معلومات میں بے پناہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ قومی سطح پر یہ رسالے شائع ہوتے ہیں ان میں زبان و ادب اور مختلف علوم و فنون سے متعلق مواد بھی قومی و بین قومی ہوتا ہے ۔ نالج سوسائٹی و نالج ویلیج کے دور میں ان سے ہر اردو والے استفادہ کرے تو آگہی حاصل ہوگی ۔
ماہ اگسٹ کاشمارہ یوں تو عام شمارہ ہے لیکن ماہ اگسٹ کاہونے کی وجہ سے اس میں جدوجہد آزادی اور حصول آزادی اور وطن ، محب وطن ، شہیدان وطن ، جانثاران وطن سے متعلق معلومات موجود ہیں اور بعض نادر نکات بیان کئے گئے ہیں تاکہ نئی نسل واقف ہوسکے ۔ ہماری بات اداریہ میں مدیر صاحب نے اردو زبان و ادب کا کردار جو 1857؁ء جدوجہد آزادی سے متعلق ہے اُس پر روشنی ڈالی ہے ۔ وہ کہتے ہیں آزادی کے بعد اس ملک نے ترقی کی نئی تاریخ بھی رقم کی ۔ تعلیم ، ٹیکنالوجی ، سائنس اور دیگر میدانوں میں ہمارا ملک ایک مضبوط طاقت کی حیثیت سے آج عالمی نقشے پر اپنی شناخت رکھتا ہے ۔ یقینا ایک عصری کردار سے ملک کی شناخت پورے عالم میں ہوگی ۔ مزید براں انھوں نے اردو اور آزادی سے متعلق کردار پر جامع روشنی ڈالی ہے ۔ وہ کہتے ہیں اردو اور آزادی کا رشتہ گہرا ہے ۔
ہندوستان میں انگریزی استعماریت تھی تو دیگر زبانوں کے ساتھ اردو نے بھی آزادی ، اتحاد اور اخوت کا پرچم بلند کیا۔ اس زبان کے اخبارات، صحافت ، شاعری ، نغمے ، قومی اور وطنی شاعری کے علاوہ شہیدان وطن ، مجاہدین آزادی ، سیاسی قائدین و عمائدین ، سماجی جہد کاروں نے ملکر وطن کو آزادی لائی ۔ ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ آزادی سے متعلق ان کے کردار کا حصہ اٹوٹ ہے ۔ مزید لکھتے ہیں کہ اردو زبان کا کردار بہت اہم رہا ہے ۔ اردو زبان آج بھی اتحاد و اخوت یکجہتی کے پیغام کو عام کرتی ہے ۔ یہ زبان میٹھی ، شیریں ، محبت ، اتحاد ، اخوت ، سیکولرازم کی زبان ہے یہ تھے مدیر کے تاثرات و تصورات جو نئی نسل کیلئے مشعل راہ ہیں ۔ آپ کی بات کالم میں قارئین کی رائے کو جگہ دی جاتی ہے ، خطوط میں تبصرے ، تنقید اور تجزیہ کا پہلو ہوتا ہے اس کالم سے مشملات کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے محاکمہ کی شمارہ کی قدر کا تعین ہوتا ہے ۔نئی زندگی و توانائی ملتی ہے ۔ اشتیاق سعید نے ضمیرکاظمی سے جو انٹرویو لیا ہے وہ معلومات کا خزانہ ہے۔
 آپ نے قلمی حقائق اور اپنی زندگی کے تجربات پیش کئے تاکہ نئی نسل اپنے میں اصلاح پیدا کرے ۔ انھوں نے کہا کہ اپنی مادری زبان ضرور پڑھیں نہ صرف پڑھیں بلکہ اسکے ادب سے بھی وابستہ ہوں ۔ اپنی تہذیب اپنی زبان کی حفاظت بالکل اُسی طرح کریں جیسے اپنے مذہب کی حفاظت کرتے ہیں ۔ زبان مذہب کو سمجھنے کیلئے ناگزیر ہے۔ زبان ہی خود اور خدا کیا ہے سکھاتی ہے ، اخلاق و کردار سنوارتی ہے ، شخصیت سازی کا مظہر ہے۔ محمد اسلم اصلاحی نے مولانا ابوالکلام آزاد اور عالم عرب میں مولانا کے عربی اور اردو کارناموں کا ذکر کیا ہے ۔ مولانا کی مادری زبان عربی تھی ۔ انھوں نے عربی اور اردو میں بے لوث خدمات انجام دی ہے ۔ محمد ذاکر حسین نے محمد قلی قطب شاہ کے عہد کے قلمی آثار ، کتابوں سے محبت اور کتب خانوں سے دلچسپی کے اظہار کو اپنے مضمون سے ثابت کیا ہے۔ اس مضمون میں محمد ابراہیم قطب شاہ محمد قلی قطب شاہ کے دور کے قلمی آثار علمی ماخذوں سے استفادہ کرکے اُس دور کے حالات کو آشکار کیا گیا ۔ خدا بخش خاں کی کتب سے محبت اور نیت کو اُجاگر کیا گیا۔
احمد حسن نے منشی ہرگوپال تفتہ غالبؔ کے ایک عزیز شاگر میں تفتہ کی حیات اور کارناموں سے بحث کی گئی ۔ تفتہ مکتوب نویس کے علاوہ شاعر بھی تھے ۔ طاہرہ پروین نے ہندوستانی اکیڈیمی الٰہ آباد کی علمی ، ادبی ، مذہبی خدمات کا تذکرہ کیا ۔ اس اکیڈیمی کی خدمات پر مفصل روشنی ڈالی ۔
ساجد حسین انصاری نے شہریار کے فکر وفن اور اسلوب پر روشنی ڈالی ۔ وہ کہتے ہیں ’’شہریار کا سب سے بڑا کمال ان کی لسانی کفایت شعاری اور جذباتی خودمختاری میں مضمر ہے وہ اپنی آواز کو اپنے تجربے کو اپنے شدید ترین ردعمل کو اور ان سب کا احاط کرنے والے بیحد شفاف اور شخصی اسلوب کو پل بھر کیلئے بھی بے حجاب نہیں ہونے دیتے‘‘ ۔
کیفی اعظمی نے کہا   ؎
کرچلے ہم فدا جان و تن ساتھیوں
اب تمہارے حوالے وطن ساتھیوں
اختر شیرانی
وہ باغ وطن فردوس وطن
وہ سرو وطن ریحان وطن
رگھوپتی سہائے فراقؔ گورکھپوری
اے خاک وطن تونے بنایا ہم کو
کچھ ہم بھی بنائیں تیرے بگڑے ہوئے کام
راہی معصوم رضا
ہم تو ہیں پردیس میں دیس میں نکلا ہوگا چاند
اپنی رات کی چھت پر کتنا تنہا ہوگا چاند
شکیل بدایونی
انصاف کی ڈگر پر بچوں دکھاؤ چل کے
یہ دیش ہے تمہارا نیتا تم ہی ہو کل کے
مجروح سلطانپوری
دشمن کی دوستی ہے اب اہل وطن کے ساتھ
ندا فاضلی
جدا جدا ہیں دھرم علاقے ایک سی لیکن زنجیریں ہیں
سمپورن سنگھ کالڑا گلزار
اے میرے پیارے وطن ، اے میرے بچھڑے چمن تجھ پہ دل قربان ہے
تو ہی میری آرزو تو ہی میری آبرو تو ہی میری جان ہے
پنڈت آنند نرائن زتشی گلزار دہلوی
ہم روز نئے ملک بناسکتے ہیں تہذیب کی تقسیم نہیں ہوسکتی
مخدوم محی الدین
حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
کلیم عاجزؔ
اپنا لہو بھرکر لوگوں کوبانٹ گئے پیمانے لوگ
دنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگ
جاوید اختر
جاگے ہیں اب سارے لوگ تیرے دیکھ وطن
گونجے ہیں نعروں سے اب یہ زمین اوریہ گگن
کل تک میں تنہا تھا سونے تھے سب رستے
کل تک میں تنہا تھا پر اب ہیں ساتھ میرے لاکھوں دلوں کی دھڑکن
چکبست نے وطن کی محبت میں کئی نظمیں لکھیں ہیں جن میں فریاد قوم 1914؁ء ، قوم کے سورماؤں کو الوداع ، آواز قوم 1916 ، وطن کا راگ 1917 ، ہوم رول کی وکالت ، حب قومی ، مرثیہ گوپال کرشن گوکھلے ، بال گنگا دھر تلک ، یادکشمیر و یادماضی ، بچوں کے نام پیغام حب الوطنی ، ہمارا وطن دل سے پیارا وطن 1916؁ء ، وطن کو ہم وطن ہم کو مبارک 1916، گائے وغیرہ عنوانات پر نظمیں تخلیق کی ہیں۔
عبدالرحمن نے سرور کی قومی و وطنی شاعری پر معلومات آگہی مضمون تحریر کیا ہے وہ کہتے ہیں نظیر کے بعد سرورجہاں آبادی کے یہاں حب الوطنی کا جذبہ نسبتاً زیادہ واضح نظر آتا ہے ۔ انھوں نے نظم کی تعمیر و ترقی میں ہندوستانی عناصر کو شامل کرنے جیسا اہم اور نمایاں کارنامہ انجام دیا ۔ انھوں نے نظموں کے علاوہ رباعیات میں ہندوستانی رنگ شامل کیا ۔ یہ رباعیات ، نظمیں ہندوستان کے سیاسی ، سماجی ، اقتصادی ، تاریخی اور تہذیبی ، وطنی نظریات کی ترجمان و عکاس ہیں ۔ ان کے اشعار میں وطن پرستی جھلکتی ہے ۔
پھولوں کا کنج دل کش بھارت میں اک بنائیں
حب وطن کے اس میں پودے نئے لگائیں
 مل مل کے ہم ترانے حب وطن کے گائیں
بلبل ہیں جس چمن کے گیت اس چمن کے گائیں
عبدالرحمن نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’شاعری کے ذریعہ عوام کے دلوں میں بغاوت کا جذبہ پیدا کرنے کی بجائے ان کے دلوں میں محبت کاجذبہ بیدار کیا ۔ مزاج میں شرافت اور سادگی کی وجہہ سے انقلاب کا نعرہ بلند کرنے کی بجائے انھیں مصلحت پسندی پر آمادہ کیا ۔ احتجاج کے بجائے دلوں میں مادر وطن کی عظمت کا احساس پیدا کیا ۔ قومی اتحاد اور آپسی محبت کا درس دیا ۔ آزاد ہندوستان کا ایسا واضح اور دل خوش کن تصور پیش کیا جو دوسرے کسی اور شاعر کے یہاں قطعی نظر نہیں آتا۔ اس طرح درگا سرور جہاں آبادی کی زندگی اور قومی شاعری کا بھرپور محاکمہ و تجزیہ ملتا ہے ۔ سعدیہ پروین نہال احمد نے 1857؁ء اور بہادرشاہ ظفر مضمون میں 1857؁ء کے لال قلعہ اور بہادر شاہ ظفر کے دور کے عصری حالات کا نقشہ حقیقی انداز سے کھینچا ہے جس سے اُس زمانے کی سیاسی ، معاشی ، سماجی ، داخلی و خارجی حالات و کوائف کا صحیح اندازہ ہوجاتا ہے ۔ ان کے علاوہ دیگر مشمولات خان محمد آصف کا اردو زبان و ادب کی ترویج میں سائبر سماج کا حصہ ۔ ایم رحمت اﷲ نے قلم کا سپاہی شاہد رام نگری ، صالحہ رشید نے جدوراج بلی عیش سلطانپوری کے شعری محاسن ، شرجیل احمد خاں نے فلسفۂ خیر و شر ، روبینہ تبسم تاریخ فرشتہ کا تنقیدی مطالعہ اکبر کے عہد کے حوالے سے ، حفیظ جالندھری بہ حیثیت افسانہ انگار ، شاہدہ نواز آزادی کے بعد اردو خودنوشت ، مقصود احمد بڑودہ کی ادبی سرگرمیاں اردو کے حوالے سے رسالہ شاہراہ کا ناولٹ نمبرنوشاد منظر نے تحریر کیا ہے ۔ ارشاد قمر نے فکر و تحقیق کا توضیحی اشاریہ جولائی تا  ستمبر اور اکتوبر تا ڈسمبر 1998 ء قسط 4 شائع ہوا ۔ غرض 100صفحات پر مشتمل شمارہ اپنے اندر ہندوستان کی جدوجہد آزادی اور وطن پرستی ، حب وطن کے تعلق سے اردو زبان و ادب نے خدمات انجام دی ہے اس کو پیش کیا ہے ۔ یہ تاریخ جدوجہدآزادی کے تعلق سے اہم ادبی دستاویز ہے نئی نسل اس کو پڑھیں اور آگہی حاصل کریں۔
TOPPOPULARRECENT