Friday , November 16 2018
Home / مذہبی صفحہ / نام ِمحمد صلی اللہ علیہ وسلم

نام ِمحمد صلی اللہ علیہ وسلم

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے گرامی ’’احمد‘‘ اور ’’محمد‘‘ ہیں۔ دونوں اسمائے گرامی کا مادہ ’’حمد‘‘ ہے اور حمد کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کے اخلاقِ حسنہ، اوصافِ حمیدہ، کمالاتِ جمیلہ اور فضائل کو محبت، عقیدت اور عظمت کے ساتھ بیان کیا جائے۔ اسم پاک محمدﷺ مصدر تحمید (باب تفعیل) سے مشتق ہے۔ لفظ ’’محمد‘‘ اسی مصدر سے اسم مفعول

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے گرامی ’’احمد‘‘ اور ’’محمد‘‘ ہیں۔ دونوں اسمائے گرامی کا مادہ ’’حمد‘‘ ہے اور حمد کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کے اخلاقِ حسنہ، اوصافِ حمیدہ، کمالاتِ جمیلہ اور فضائل کو محبت، عقیدت اور عظمت کے ساتھ بیان کیا جائے۔ اسم پاک محمدﷺ مصدر تحمید (باب تفعیل) سے مشتق ہے۔ لفظ ’’محمد‘‘ اسی مصدر سے اسم مفعول ہے۔ اس سے مقصود وہ ذات بابرکت ہے، جس کے حقیقی کمالات، ذاتی صفات اور حقیقی محامد کو عقیدت و محبت کے ساتھ بکثرت اور بار بار بیان کیا جائے۔ لفظ ’’محمد‘‘ میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ وہ ذات ستودہ صفات جس میں خصال محمودہ اور اوصاف حمیدہ بدرجۂ اتم و کمال موجود ہوں۔
اسی طرح ’’احمد‘‘ اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک یہ اسم فاعل کے معنی میں ہے اور بعض کے نزدیک اسم مفعول کے معنی میں۔ اسم فاعل کی صورت میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ مخلوق میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کرنے والی ذات اور اسم مفعول کی صورت میں سب سے زیادہ جس کی تعریف کی گئی ہو۔ (الروض الاف)
آپﷺ کا اسم مبارک ’’محمد‘‘ باب تفعیل سے ہے، جو مبالغہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یہ یہاں محمود (تعریف کیا ہوا) کے مفہوم میں ہے، جس میں مبالغہ کے معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری اپنی کتاب التاریخ الصغیر میں علی بن زید کے طریقے سے روایت فرماتے ہیں کہ ابوطالب کہا کرتے تھے:

وشق لہ من اسمہ لیجلہ
فذوالعرش محمود و ھذا محمد
ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام اپنے نام سے مشتق کیا ہے، سو صاحب عرش محمود اور آپ محمد ہیں۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ ’’محمد‘‘ وہ ہے، جس کی بار بار حمد (مدح) کی جائے۔ نامور عرب شاعر الاعمش کہتا ہے:
الیک ابیت اللحن کان وجیفھا
ابی الاحد القرم الجواد المحمد
ترجمہ: تیری ہی طرف… تو خدا کی ناراضگی سے بچنے… اس کی جائے پناہ ہے، یعنی بزرگ، سخی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف۔
لہذا لفظ ’’محمد‘‘ کا مفہوم ایسی ہستی ہے، جس میں تمام اچھی اچھی عادتیں جمع ہوں۔ (فتح الباری:۶۔۵۵۵)
علاوہ ازیں لفظ حمد کا آپﷺ کی ذات، دین اسلام اور امت مسلمہ کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے۔ آپ کو سورۃ الحمد، لواء الحمد (الحمد نامی علم مبارک) اور مقام محمود سے سرفراز کیا گیا۔ آپ کے لئے کھانے اور پینے سے فراغت اور سفر سے آنے کے بعد کی دعاء ’’الحمد للّٰہ‘‘ (تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے) مقرر کی گئی اور آپ کی امت ’’الحمادان‘‘ ہے۔ (حوالۂ مذکورہ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے زمانۂ جاہلیت میں صرف چند ایسے اشخاص ملتے ہیں، جن کا نام محمد تھا۔ لسان العرب اور تاج العروس میں سات آدمیوں کے نام بتائے گئے ہیں اور بعض نے زیادہ بھی نقل کئے ہیں۔ ان لوگوں کے والدین نے اہل کتاب سے یہ سن کر کہ جزیرۃ العرب میں ایک نبی ظاہر ہونے والے ہیں، جن کا نام ’’محمد‘‘ ہوگا، اس شرف کو حاصل کرنے کے لئے یہ نام رکھ لیا، البتہ کسی نے ’’احمد‘‘ نام نہیں رکھا۔ مشیت الہٰی دیکھئے کہ ’’محمد‘‘ نام کے ان لوگوں میں سے کسی نے بھی نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔ (فتح الباری:۷۔۴۰۴،۴۰۵)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی ’’احمد‘‘ قرآن مجید میں صرف ایک مرتبہ مذکور ہوا اور وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی کے طورپر۔ ارشاد ہوا: ’’میں (عیسیٰ علیہ السلام) اس پیغمبر کی بشارت سناتا ہوں، جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا‘‘۔ (سورۃ الصف۔۶)

آپﷺ کا اسم گرامی ’’محمد‘‘ چار مرتبہ قرآن مجید میں آیا ہے اور ہر مرتبہ آپ کے منصب رسالت کے سیاق و سباق میں (۱) وما محمد الّا رسول (آل عمران۔۱۴۴) ترجمہ: محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کے رسول ہیں (۲) ماکان محمد أبا أحد من رجالکم ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین (الاحزاب۔۴۰) یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور انبیاء (کی نبوت) کے مہر یعنی نبوت کو ختم کردینے والے ہیں (۴) والذین اٰمنوا وعملوا الصلحت واٰمنوا بما نزل علی محمد وھو الحق من ربھم کفر عنھم سیاٰتھم واصلح بالھم (سورۂ محمد۔۲) یعنی اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو (کتاب) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل ہوئی اسے مانتے رہے اور وہ ان کے رب کی طرف سے برحق ہے ان سے ان کے گناہ معاف کردیئے اور ان کی حالت سنوار دی (۴) محمد رسول اللّٰہ (سورۃ الفتح۔۲۹) یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔

ان چاروں آیات میں اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ مبارک ذکر کرکے آپﷺ کی رسالت و نبوت کے منصب کو واضح طورپر بیان فرمایا، تاکہ کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔
اسی مناسبت سے آپﷺ نے اور آپ کی امت نے دنیا کی تمام قوموں اور امتوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کی اور قیامت تک کرتی رہے گی۔ ہر کام کے آغاز و اختتام پر اللہ تعالیٰ کی تعریف اور حمد کا حکم دیا گیا اور امت کا ہر فرد یہ فریضہ انجام دے رہا ہے۔ بالکل اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محامد و محاسن، خصال محمودہ اور فضائل و کمالات کا بیان اور ذکر جس کثرت سے کیا گیا ہے اور ابد تک کیا جاتا رہے گا، اس کی مثال بھی دنیا میں نہیں مل سکتی۔

TOPPOPULARRECENT