Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / ناندیڑ انتخابی کامیابی میں شیواجی کی ’’3 ۔م‘‘ حکمت عملی کامیاب

ناندیڑ انتخابی کامیابی میں شیواجی کی ’’3 ۔م‘‘ حکمت عملی کامیاب

مراٹھا حکمران نے اقتدار کو مستحکم کرنے ’’مراٹھا، مسلمان اور ماؤڑے‘‘ اتحاد کیلئے پہل کی تھی
ناندیڑ۔ 12 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) چھترپتی شیواجی ایک صاحب بصیرت شخصیت تھے، ان کے دورِ اقتدار میں ہر شخص کیلئے بلالحاظ مذہب گنجائش موجود تھی، لیکن شیواجی کو ہندوؤں کا ’’نجات دہندہ‘‘ اور ’’مسلم دشمن‘‘ پیش کیا جارہا ہے۔ درحقیقت شیواجی ہی تھے جنہوں نے ’’3۔م‘‘ (مراٹھا، مسلمان اور ماؤڑیس) کا فارمولہ پیش کیا تھا جسے کانگریس نے اپنی انتخابی کامیابی کیلئے استعمال کیا۔ چھترپتی شیواجی نے اپنی ’’3۔م‘‘ حکمت عملی اپنی ریاست پر حکومت کرنے کیلئے استعمال کیا۔ ان کے دور اقتدار میں کوئی فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں تھی۔ بی جے پی۔ آر ایس ایس نے اپنے شخصی سیاسی ضروریات کیلئے انہیں مسلم دشمن بناکر پیش کیا۔ ہم محکمہ سراغ رسانی ناندیڑ کے ارکان عملہ کو سلام کرتے ہیں (ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کو) کیونکہ انہوں نے تمام صف بندی کی طاقتوں کو جو بی جے پی، شیوسینا اور ایم آئی ایم میں ہیں، مسترد کردیا۔ کانگریس نے عمران پرتاپ گڑھی کا سیکولر چہرہ پیش کیا تھا جس کا اویسی برادران نے استحصال کیا، ہر موقع پر انہوں نے انتخابات کے وقت فرقہ واریت ووٹوں کو تقسیم کرنے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ درحقیقت مسلمانوں نے انتہائی ہوشیاری سے ووٹ دیا اور ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ ان کی صف بندی سے گریز کیا ہے۔ ’’3۔م‘‘ کی حکمت عملی اور فرقہ وارانہ ماحول جو انتخابات سے پہلے تیار کیا گیا تھا، مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں کو سیکولر پارٹی کے حق میں ووٹ دینے کے لئے مجبور کیا۔

2014ء کے انتخابات میں بی جے پی کو زبردست اکثریت کے ساتھ کانگریس کے اسکینڈلس اور اسکامس کی وجہ سے برسراقتدار لایا گیا۔ مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت نے ’’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘‘ کا تیقن دیا، لیکن تین برسوں کی ’’لو جہاد‘‘، ’’گھر واپسی‘‘، ’’نوٹوں کی تنسیخ‘‘، ’’جی ایس ٹی‘‘، ’’جملہ بازی‘‘، ’’بیروزگاری‘‘ ، ’’کاشت کاروں کی خودکشی‘‘ ،’’صنعتوں کی ناکامی‘‘ اور معاشی انحطاط نے ہر عام ہندوستانی کو متاثر کیا ہے۔ ناندیڑ واگھلا مجلس بلدیہ کے انتخابات میںکانگریس کی کامیابی صرف ایک پارٹی کی نہیں بلکہ اس انتخابات کی نمایاں خصوصیت فرقہ پرست اور انتشار پسند سیاست کی شکست ہے۔ کانگریس کی شاندار کارکردگی ناندیڑ کے ضمنی انتخابات میں واضح طور پر اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ عوام نے بی جے پی، شیوسینا، اے آئی ایم آئی ایم کی تائید میں ووٹ نہیں دیا جو انتشار پسند سیاست کی تشہیر کررہے تھے۔ نتیجہ سے ایک مثال قائم ہوتی ہے کہ عوام نے ہوشیاری سے ووٹ دیتے ہوئے صف آرائی کو مسترد کردیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT