Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / ناندیڑ میں سیکولر طاقتوں کی شاندارفتح، فرقہ پرستوں کا بدترین صفایا

ناندیڑ میں سیکولر طاقتوں کی شاندارفتح، فرقہ پرستوں کا بدترین صفایا

ہندوستان جیت گیا فرقہ پرستی ہارگئی ہندو اور مسلم کے نام پر ووٹ مانگنے والوں کا منہ کالا

۔81 بلدی حلقوں میں کانگریس کو 71 نشستوں پر کامیابی، بی جے پی کو صرف 5 نشستیں، شیوسینا اور مجلس کی بدترین ہزیمت

حیدرآباد۔12اکٹوبر (سیاست نیوز) ناندیڑ بلدی انتخابات نے ہندستان کے سیکولر شہریو ں میں نیا حوصلہ پیدا کیا ہے جہاںبھارتیہ جنتا پارٹی کی قومی و ریاستی حکومت بے اثر ثابت ہوئی اور کانگریس کو تاریخ ساز کامیابی کے ذریعہ نئی طاقت حاصل ہوئی اور ناندیڑ کی بلدیہ کے انتخابات میں کامیابی پرکانگریس کے قومی قائدین نے بھی مسٹر اشوک چوہان اور مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی کو مبارکباد پیش کی جہاں کانگریس نے 81نشستوں میں 71نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کو ناندیڑ میں صرف 5نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی اور شیوسینا ایک نشست پر محدود رہی جبکہ کانگریس کی اس تاریخ ساز کامیابی کے ساتھ مجلس کی مہاراشٹرا سے گھر واپسی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ناندیڑ میں کانگریس کی کامیابی کو مقامی امور کے بجائے قومی سیکولر اتحاد کا آئینہ دار تصور کیا جانے لگا ہے اور کہا جارہا ہے کہ ناندیڑ کے انتخابی نتائج ملک کی قومی سیاست پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ معیاد مکمل کرنے والی بلدیہ میں کانگریس کے42کارپوریٹر تھے جبکہ شیوسینا کے 14 کارپوریٹر ہوا کرتے تھے اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کے 2ہی کارپوریٹر تھے لیکن مجلس نے 11کارپوریٹر کامیاب کروائے تھے لیکن ان انتخابات کے دوران سوائے کانگریس کے کسی اور سیاسی جماعت کی لہر نظر نہیں آئی لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کو 3نشستوں کا فائدہ ہوا ہے جبکہ مجلس کو مکمل 11نشستوں کا نقصان ہوا ہے اسی طرح شیوسینا کو 13نشستوں پر نقصان ہوا کیونکہ معیاد کی تکمیل کرنے والی بلدیہ میں شیو سینا کے 14کارپوریٹرس تھے لیکن اب ان کی تعداد گھٹ کر 1پر محدود ہوچکی ہے ۔مسٹر اشوک راؤ چوہان نے نتائج کو سیکولر مہارشٹر کی فتح قرار دیتے ہوئے اسے ناندیڑ کے عوام کی کامیابی سے تعبیر کیا اور کہا کہ ناندیڑ کے حوصلہ افزاء نتائج کانگریس قائدین و کارکنوں کی محنت اور عوام کے کانگریس پر اعتماد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پردیش کانگریس نے جو کوششیں کرنی تھیں وہ کی اور عوام نے کانگریس کو تاریخی کامیابی سے ہمکنار کرتے ہوئے چھوٹے وعدوں اور نفرت کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے ترقی کا راہ کا انتخاب کیا ہے ۔مجلس کے ریاستی صدر سید معین الدین کی والدہ جو ناندیڑ کے بلدی انتخابات میںمجلس کے ٹکٹ پر مقابلہ کر رہی تھیں انہیں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔صدرپردیش مجلس پارٹی کی والدہ کو کامیاب کروانے پر ناکامی کے بعد ان کی پارٹی کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل موصول نہیں ہوا ۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابی نتائج پر محاسبہ کرنے کا روایتی اعلان کرتے ہوئے اکتفاء کیا ۔ناندیڑ بلدی انتخابات میں کانگریس اور مجلس کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے سرکردہ قائدین نے انتخابی مہم میں حصہ لیا اور اپنی پارٹی کے حق میں انتخابی مہم چلائی تھی جن میںکانگریس کی انتخابی مہم چلانے والوں میں جناب محمد علی شبیر قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل‘ جناب عبداللہ سہیل ‘ جناب محمد غوث سابق کارپوریٹر‘کے علاوہ مجلس کے حق میں انتخابی مہم چلانے والوں میں بیرسٹر اسد الدین اویسی صدرکل ہند مجلس اتحادالمسلمین‘ جناب اکبر الدین اویسی قائد مجلس ایوان مقننہ مجلس پارٹی ‘ جناب سید احمد پاشاہ قادری معتمد کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن اسمبلی چارمینار ‘ جناب کوثر محی الدین رکن اسمبلی کاروان کے علاوہ کئی کارپوریٹرس شامل ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT