Tuesday , December 12 2017
Home / سیاسیات / ناندیڑ کی انتخابی کامیابی سے مہاراشٹرا میں کانگریس کے حوصلے بلند

ناندیڑ کی انتخابی کامیابی سے مہاراشٹرا میں کانگریس کے حوصلے بلند

پارٹی ورکرس و قائدین کو عوام سے رجوع ہونے کی ترغیب ،صدر مہاراشٹرا پردیش کانگریس کا بیان
نئی دہلی۔22 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس مہاراشٹرا یونٹ میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا تھا کیونکہ پارٹی کے طاقتور لیڈر نارائن رانے نے اپنے سخت ترین ردعمل کے بعد پارٹی چھوڑ دی تھی۔ اس دوران ناندیڑ واگھلو میونسپل کارپوریشن انتخابی نتائج آئے اور پارٹی کیلئے یہ نتائج ڈوبتے کو تنکا کا سہارا ثابت ہوئے۔ مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی صدر اشوک چوہان نے کامیابی حاصل کی اور 81 نشستوں کے منجملہ 73 پر قبضہ کرلیا جہاں ریاستی حکمراں پارٹی بی جے پی کو صرف 6 نشستیں حاصل ہوسکیں۔ گزشتہ ماہ میں پارٹی چھوڑنے والے سابق چیف منسٹر نارائن رانے نے چوہان پر تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ ان میں کوئی قابلیت ہی نہیں ہے لیکن مابعد 2014ء عام انتخابات کے بعد پارٹی نے لگاتار محنت کرکے کامیابی حاصل کی ہے۔ کانگریس کے ایک لیڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش پر کہا کہ ناندیڑ انتخابات کے نتائج نے مہاراشٹرا میں پارٹی ورکرس کے حوصلے بلند کردیتے ہیں جہاں بی جے پی 16 بلدی اداروں کے منجملہ 12 بلدی اداروں پر غیرمعمولی کامیابی حاصل کی تھی۔ ایک اور لیڈر نے کہا کہ ہماری پارٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے اپنے ورکرس اور قائدین کی وجہ سے ہی نقصان پہونچا ہے، کیونکہ یہ لوگ عوام سے رجوع نہیں ہورہے تھے جبکہ عوام کو حکمران پارٹی بی جے پی سے شدید شکایت تھی کہ جیسا کہ ناندیڑ کے نتائج نے ثابت کردیا ہے

اور ہم پارٹی ورکرس اور قائدین کو ترغیب دے رہے ہیں کہ وہ عوام سے رجوع ہوکر ان کے مسائل کی یکسوئی کے لئے کام کریں۔ اب ہم عوام کے درمیان پہنچ کر بی جے پی کے خلاف ان کی ناراضگی کا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پارٹی کے قائدین بی جے پی زیرقیادت مرکزی و ریاستی حکومتوں سے عوام کی بڑھتی ناراضگیوں کو ظاہر کرتے ہوئے عوام کے غصہ کو کانگریس کے حق میں ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عوام کو راحت پہونچانا اور ان کے مسائل دور کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کرنا ہی ان کا اصل منشاء ہے۔ موجودہ حکومت کے کھوکھلے وعدوں سے عوام کو واقف کرواکر ہم عوام سے ٹھوس وعدے کررہے ہیں۔ اے آئی سی سی جنرل سیکریٹری انچارج مہاراشٹرا موہن پرکاش نے بلدی انتخاب میں پارٹی کی کامیابی کا خیرمقدم کیا اور وزیراعظم نریندر مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ پر شدید تنقید کی کہ ان واقعات سے بی جے پی کے حریف پارٹی کو کامیابی پر مبارکباد نہیں دی جبکہ یہ جمہوریت میں عوام کا فیصلہ تھا۔

TOPPOPULARRECENT