Tuesday , October 16 2018
Home / ہندوستان / نانو کار پلانٹ کو 3 ہزار کروڑ، ماہی گیروں کیلئے 3سو کروڑکی گنجائش نہیں

نانو کار پلانٹ کو 3 ہزار کروڑ، ماہی گیروں کیلئے 3سو کروڑکی گنجائش نہیں

کانگریس کو مرکز میں اقتدار پر علیحدہ وزارت سمکیات کی تشکیل کا وعدہ۔ گجرات میں پہلے مرحلہ کی پولنگ کیلئے راہول گاندھی کی انتخابی مہم شروع
پوربندر 24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) گجرات میں آئندہ ماہ کے اسمبلی چناؤ سے قبل ماہی گیر برادری سے رابطہ قائم کرتے ہوئے نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج وعدہ کیاکہ پارٹی کو مرکز میں اقتدار ملنے کی صورت میں علیحدہ وزارت برائے سمکیات تشکیل دی جائے گی۔ انھوں نے گجرات کی بی جے پی حکومت پر تنقید کی کہ ماہی گیروں کو اپنی کشتیوں کے لئے ڈیزل خریدنے کے سلسلے میں دی جانے والی سبسیڈی روک دی گئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے راہول نے الزام عائد کیاکہ گجرات کے مچھیروں کو اب سمندر میں دور تک جانے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے جس کی وجہ آلودگی ہے جو 10 تا 15 صنعت کاروں کے سبب پیدا ہوئی، جو ’’مودی جی کے دوست‘‘ ہیں۔ راہول نے گجرات کے اپنے دو روزہ انتخابی دورہ کے آج پہلے دن اِس ساحلی ٹاؤن میں ماہی گیروں سے اپنے خطاب میں اعتماد ظاہر کیاکہ کانگریس ریاست میں فاتح بن کر اُبھرے گی جہاں پارٹی 22 سال سے بے ا قتدار ہے۔ راہول نے کہاکہ ماہی گیروں کا کام کسانوں کی محنت کے مماثل ہے۔ کچھ عرصہ قبل آپ لوگوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اگر زرعی شعبہ کے اُمور سے نمٹنے کے لئے وزارت ہے تو ماہی گیروں کیلئے کیوں نہیں۔ مجھے آپ سے اتفاق ہے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ مرکز میں کانگریس حکومت کی تشکیل کے بعد ایسی وزارت بنائی جائے گی۔ اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ بی جے پی زیرقیادت ریاستی حکومت نے نریندر مودی بطور چیف منسٹر کی میعاد کے دوران ٹاٹا موٹرس کو اُس کے نانو کار پلانٹ کے لئے 33,000 کروڑ روپئے دے دیئے۔ اُنھوں نے دریافت کیاکہ جب کانگریس کا اقتدار تھا، مچھیروں کو ڈیزل کی خریداری پر 25 فیصد سبسیڈی حاصل ہوا کرتی تھی۔ وہ سبسیڈی جو سالانہ محض 300 کروڑ روپئے ہوتی تھی، اُسے یہاں کی بی جے پی حکومت نے برخاست کردیا۔ یہ کس قسم کی جادوئی حکمرانی ہے؟ وہ نانو فیاکٹری کے لئے 33 ہزار کروڑ روپئے دے سکتے ہیں لیکن وہ آپ کے لئے 300 کروڑ روپئے نہیں دے سکتے۔ مجھے معلوم ہوا کہ اب آپ لوگوں کو مچھلی پکڑنے کے لئے گہرے سمندر تک جانا پڑتا ہے۔ کیوں؟ اس کی وجہ آلودگی ہے۔ لیکن یہ کس کے سبب ہوا؟ یقینا ماہی گیروں کی وجہ سے نہیں بلکہ اِس کا سبب بعض 10 تا 15 صنعتکار شخصیتیں ہیں جو مودی کے دوست ہیں۔ اُنھوں نے آپ کی تمام رقم لے لی اور اُن 10 تا 15 شخصیتوں کو دے دی۔ راہول نے مزید کہاکہ ماہی گیروں کے لئے کوئی ٹھوس اقدام کرنے کے بجائے مودی نے اپنے بعض صنعت کار دوستوں کو بندرگاہیں تحفے میں دیئے۔ مودی کے ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ پر طنز کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے وعدہ کیاکہ کانگریس حکومت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے جب گجرات میں پارٹی برسر اقتدار آجائے گی۔ ’’مجھے اعتماد ہے کہ کانگریس یہ الیکشن جیتے گی۔ اُس کے بعد دفتر چیف منسٹر اور اسمبلی کے دروازے آپ کے لئے کھول دیئے جائیں گے تاکہ آپ اپنی من کی بات ہمیں بتاسکیں۔ ابھی تک وہ دروازے صرف امیروں کے لئے کھلے ہیں اور صرف اُن کی آواز سنی جارہی ہے۔ آپ کی آواز کبھی حکومت تک نہیں پہونچی‘‘۔ راہول گجرات میں دو روزہ دورے پر ہیں اور آئندہ ماہ 89 اسمبلی نشستوں کے لئے پولنگ کے پہلے مرحلہ سے قبل اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت کررہے ہیں۔ اِس مہم کے دوران راہول اپنی روٹ پر پوربندر، احمدآباد، گاندھی نگر، ارولی، مہیسا نگر اور داہوڑ اضلاع کا احاطہ کرتے ہوئے دلتوں، ڈاکٹروں، ٹیچروں اور دیہاتیوں سے رابطہ کریں گے۔ ریاست میں 2 مرحلہ والے انتخابات میں جملہ 182 نشستوں کے لئے پولنگ ہوگی جو 9 اور 14 ڈسمبر کو مقرر ہے اور 18 ڈسمبر کو ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT