Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ناکافی بارش ، تلنگانہ میں بدترین خشک سالی کے اندیشے

ناکافی بارش ، تلنگانہ میں بدترین خشک سالی کے اندیشے

اضلاع میں فصلوں کو نقصان ، شہر میں پانی کی قلت کا اندیشہ ، کئی بورویلز ناکارہ
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : رواں مانسون کے دوران تلنگانہ میں ناکافی بارش کے سبب اضلاع میں کسانوں اور دارالحکومت حیدرآباد میں شہریوں کی تشویش میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ کسانوں کو بدترین خشک سالی کا سامنا ہے تو شہریوں کو آئندہ موسم گرما میں پینے کے پانی کی شدید قلت کے اندیشے ہیں ۔ اس دوران بعض مقامات پر زیر زمین پانی کی سطح میں زبردست کمی کے سبب بورویلز بھی ناکارہ ثابت ہونے لگے ہیں ۔ اس سال کے موسم خریف میں بارش نہ ہونے کے سبب اچھی فصل کے لیے کسانوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے ۔ تلنگانہ کے کئی اضلاع میں فی الحال خشک سالی جیسی صورتحال ہے ۔ اضلاع کھمم ، نلگنڈہ ، رنگاریڈی ، میدک ، ورنگل وغیرہ میں خاطر خواہ بارش نہ ہونے کے سبب صورتحال تشویشناک ہے اور کسانوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ عادل آباد میں گذشتہ تین دن کے دوران بارش کے بعد مقامی کسانوں نے اطمینان کی سانس لی ہے ۔ ورنگل میں ناکافی بارش کے سبب خریف کی فصلوں کے لیے آبپاشی دشوار ہوگئی ہے جہاں زیر زمین سطح آب جولائی 2015 میں زمینی سطح سے 10.04 میٹر نیچے ہوگئی ہے جو جولائی 2014 میں زمینی سطح سے 9.31 میٹر نیچے تھی ۔ ورنگل کے کئی علاقوں میں اس سال انتہائی معمولی بارش ریکارڈ کی گئی ۔ زراعت کے سرکاری عہدیداروں اور ماہرین نے کہا ہے کہ 10 اگست تک اطمینان بخش بارش نہ ہونے کی صورت میں کسانوں کو بھاری نقصانات برداشت کرنا ہوگا ۔ مکئی کی فصل مکمل طور پر تباہ ہوسکتی ہے ۔ دیگر فصلوں کی پیداوار میں کمی کے اندیشے ہیں ۔ ناکافی بارش کی صورت میں اضلاع کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا جاتا ہے ۔ لیکن اس کے باضابطہ اعلان کے لیے حکومت اختتام ستمبر تک انتظار کیا کرتی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT