Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / ناگرجنا ساگر ڈیم پر تلنگانہ ۔ آندھرا پولیس ملازمین کا تصادم

ناگرجنا ساگر ڈیم پر تلنگانہ ۔ آندھرا پولیس ملازمین کا تصادم

پانی کی تقسیم پر تنازعہ ۔ دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس کا آج راج بھون میں اجلاس منعقد ہوگا

پانی کی تقسیم پر تنازعہ ۔ دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس کا آج راج بھون میں اجلاس منعقد ہوگا
حیدرآباد 13 فبروری ( پی ٹی آئی ) چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ان کے ہم منصب آندھرا پردیش کے چندرا بابو نائیڈؤ کی کل صبح ملاقات ہوگی تاکہ ناگرجنا ساگر ڈیم کے پانی کی تقسیم کے تعلق سے تبادلہ خیال ہوسکے ۔ آج دونوں ریاستوں کے پولیس اہلکاروں کے مابین آج یہاں ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوگئی ۔ چندر شیکھر راؤ اور چندرا بابو نائیڈو کی ملاقات دونوں ریاستوں کے گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن کی موجودگی میں راج بھون میں ہوگی ۔ چندر شیکھر راؤ کے دفتر سے جاری اعلامیہ میں آج رات یہ بات بتائی گئی ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں چیف منسٹروں کی ملاقات کا فیصلہ اس وقت ہوا جب چندرا بابو نائیڈو نے فون پر چندر شیکھر راؤ سے بات چیت کی اور ناگرجنا ساگر ڈیم پر آج پیدا ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ کہا گیا کہ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے صورتحال کو بات چیت سے حل کرنے رضامندی کا اظہار کیا ۔ قبل ازیں ناگرجنا ساگر ڈیم پر آج کشیدگی پیدا ہوگئی جب تلنگانہ و آندھرا کے پولیس اہلکاروں کے مابین لڑائی ہوگئی ۔ یہ ڈیم تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ اور آندھرا کے ضلع گنٹور کے درمیان واقع ہے ۔ آج کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں ریاستوں کے مابین پانی کی اجرائی کے مسئلہ پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا حالانکہ آبپاشی اور دوسرے محکمہ جات کے عہدیداروں کے مابین بات چیت بھی ہوئی تھی ۔ کلکٹر ضلع نلگنڈہ مسٹر ستیہ نارائنا ریڈی نے بتایا کہ آندھرا پردیش کے عہدیدار تلنگانہ کے عہدیداروں کی بات سننے کو تیار نہںے ہیں۔ سارا ڈیم سپرنٹنڈنگ انجینئر ناگجنار ساگر کے کنٹرول میں ہے ۔ آندھرا کے عہدیدار پولیس کے ساتھ آئے اور انہوں نے دھمکی دی کہ وہ ڈیم کے دروازے کھول دینگے ۔ اگر یہاں کوئی مسئلہ ہے اسے بات چیت کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی پولیس نے پورے تحمل سے کام لیا ہے ۔ انہوں نے تردید کی کہ لڑائی میںکچھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں صرف فریقین کے مابین دھکم پیل ہوئی ہے ۔ تلنگانہ کے وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤ نے یہ ادعا کیا کہ آندھرا پردیش نے اپنے حصہ کے پانی سے زیادہ استعمال کرلیا ہے ۔ انہوں نے حیدرآباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ کو نلگنڈہ اور کھمم اضلاع میں کھڑی فصلوں کو تباہی سے بچانا ہے ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ تلنگانہ کی حکومت پانی کی اجرائی میں فراخدلی سے کام لینے کو تیار ہے تاہم آندرھا پردیش کو پہلے یہ واضح کرنا چاہئے کہ اسے کتنا پانی درکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آندھرا پردیش اس طرح کی تجویز پیش کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کا عملہ اسی رویہ کو دہرا رہا ہے جو انہوں نے متحدہ آندھرا پردیش میں اختیار کیا ہوا تھا ۔ اس دوران حکومت آندھرا پردیش نے تلنگانہ حکومت پر اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا ہے ۔ وجئے واڑہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر آبپاشی ڈی اوما مہیشور راؤ نے کہا کہ حکومت آندھرا پردیش نے پانی کی اجرائی کے تعلق سے مکتوب روانہ کردئے ہیں اور انہوں نے تلنگانہ کے وزیر آبپاشی ہریش راؤ سے بات چیت بھی کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT