Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / ناگر جنا ساگر سے سربراہی آب کا مسئلہ ، خوشگوار ماحول میں حل

ناگر جنا ساگر سے سربراہی آب کا مسئلہ ، خوشگوار ماحول میں حل

حیدرآباد ۔ 14 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش کو ناگرجنا ساگر پراجکٹ سے پانی کی سربراہی کا مسئلہ بہر حال دونوں ریاستوں کے مشترکہ گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن کی موجودگی میں دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس مسرس کے چندر شیکھر راؤ ( تلنگانہ ) اور این چندرا بابو نائیڈو ( آندھرا پردیش ) کے ساتھ خوشگوار ماحول میں ہوئی بات

حیدرآباد ۔ 14 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش کو ناگرجنا ساگر پراجکٹ سے پانی کی سربراہی کا مسئلہ بہر حال دونوں ریاستوں کے مشترکہ گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن کی موجودگی میں دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس مسرس کے چندر شیکھر راؤ ( تلنگانہ ) اور این چندرا بابو نائیڈو ( آندھرا پردیش ) کے ساتھ خوشگوار ماحول میں ہوئی بات چیت کے ذریعہ حل ہوگیا اور دونوں ہی چیف منسٹروں نے بہ اتفاق آراء آپس میں سمجھوتہ کیا اور دونوں ریاستوں تلنگانہ و آندھرا پردیش میں فصلوں کو کوئی نقصانات نہ ہونے جیسے اقدامات کرنے سے دونوں ہی ریاستوں کے چیف منسٹروں نے اتفاق کیا اور ضرورت کے مطابق ناگر جنا ساگر پراجکٹ سے پانی جاری کرنے سے دونوں چیف منسٹروں کے ساتھ گورنر کی موجودگی میں منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن نے مسٹر این چندرا بابو نائیڈو اور مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے قبل ازیں علحدہ علحدہ تبادلہ خیال کیا اور پھر بعد ازاں دونوں چیف منسٹروں کو ایک ساتھ بٹھا کر غیر ضروری تنازعات پیدا کرنے سے گریز کرتے ہوئے آپسی تال میل کے ذریعہ خوشگوار انداز میں مسئلہ کی یکسوئی کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ دونوں ریاستوں کے مفادات کو کوئی نقصان نہ پہونچنے پر اولین ترجیح دیتے ہوئے مسئلہ کی یکسوئی کرلیں ۔ گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن کی موجودگی میں دونوں چیف منسٹروں کے ساتھ ہوئی بات چیت کے موقعہ پر وزیر آبپاشی تلنگانہ مسٹر ٹی ہریش راؤ اور وزیر آبپاشی آندھرا پردیش مسٹر ڈی اوما مہیشور راؤ و دیگر وزراء بھی موجود تھے اور دونوں ریاستوں کے محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ عہدیدار بھی اجلاس میں شریک تھے ۔ گورنر کے ساتھ دونوں چیف منسٹروں کی ہوئی بات چیت کے اختتام پر دونوں ہی ریاستوں کے وزراء آبپاشی ہریش راؤ اور اوما مہیشور راؤ نے راج بھون کے احاطہ میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اجلاس کی تفصیلات سے واقف کروایا اور بتایا کہ دونوں ریاستوں تلنگانہ و آندھرا پردیش کے مابین ناگر جنا ساگر پراجکٹ سے پانی کی اجرائی کے مسئلہ پر پیدا شدہ تنازعہ پر آپس میں سمجھوتہ ہوا ہے اور اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ریاست کے ساتھ کسی بھی نوعیت کی نا انصافی نہیں ہونی چاہئے ۔ ان وزراء نے بتایا کہ ناگرجنا ساگر پراجکٹ سے پانی کی اجرائی کے مسئلہ پر دونوں ریاستوں کے آبپاشی محکمہ کے اعلیٰ عہدیدار آپس میں مل بیٹھ کر فیصلہ کریں گے ۔ ان وزراء نے مزید بتایا کہ شہر حیدرآباد کے ساتھ ساتھ پانچ اضلاع کے لیے پینے کے پانی کی ضروریات کی تکمیل کے تعلق سے ہر روز جائزہ لیا جائے گا اور ناگر جنا ساگر پراجکٹ ڈیم پر دونوں ہی ریاستوں کے پولیس عہدیدار و پارٹی قائدین و کارکنوں کو جانے سے روکدینے کے لیے بھی اقدامات کئے جائیں گے ۔ ان وزراء نے مزید بتایا کہ دائیں بازو نہر کے لیے ناگرجنا ساگر پراجکٹ سے پانی چھوڑنے کا حکومت آندھرا پردیش نے مطالبہ کیا ۔ جس پر تلنگانہ حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اب تک ہی آندھرا پردیش کے لیے مختص کردہ پانی کے علاوہ 43 ٹی ایم سی زائد پانی کا ریاست آندھرا پردیش کی جانب سے استعمال کیا اور بتایا کہ اس سلسلہ میں ان کے ( تلنگانہ ورکرس کے پاس) پاس تمام ثبوت موجود ہیں ۔ مسٹر ہریش راؤ نے بتایا کہ تلنگانہ کے اضلاع میں پینے کے پانی کی ضروریات اور فصلوں کو نقصان نہ ہونے جیسے اقدامات کرنے گورنر کے دئیے گئے مشورہ پر ضروریات کے مطابق ہی پانی کا استعمال کرنے سے اتفاق کرتے ہوئے دونوں ریاستوں کی جانب سے کوئی تنازعہ نہ رہنے اور تنازعہ کی خوشگوار اندازمیں یکسوئی ہونے کا اظہار کیا ۔ یہ بات چیت زائد گھنٹہ تک جاری رہی ۔۔

TOPPOPULARRECENT