Tuesday , December 18 2018

نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

آج سے چودہ سو سال قبل مکہ کی سنگلاخ وادی میں علم و حکمت اور تہذیب و تمدن سے ناآشنا قوم میں ایک ایسی کرشماتی ہستی کی ولادت باسعادت ہوئی، جس نے ساری دنیا کو علم و حکمت سے آراستہ کیا اور بلند پایہ تہذیب و تمدن کی داغ بیل ڈالی۔ اخلاق و کردار کے اعلی جوہر سکھائے، حیات انسانی کے رازہائے سربستہ کو آشکار کیا، دنیا کو حکمرانی و جہاں بانی کا سل

آج سے چودہ سو سال قبل مکہ کی سنگلاخ وادی میں علم و حکمت اور تہذیب و تمدن سے ناآشنا قوم میں ایک ایسی کرشماتی ہستی کی ولادت باسعادت ہوئی، جس نے ساری دنیا کو علم و حکمت سے آراستہ کیا اور بلند پایہ تہذیب و تمدن کی داغ بیل ڈالی۔ اخلاق و کردار کے اعلی جوہر سکھائے، حیات انسانی کے رازہائے سربستہ کو آشکار کیا، دنیا کو حکمرانی و جہاں بانی کا سلیقہ سکھایا، بین الاقوامی اصول و قوانین کی بنیاد رکھی، عدل و انصاف کے پیمانے مقرر کئے، احترام آدمیت، رواداری، وسعت نظری اور بقائے باہم کی عمدہ مثال قائم کی۔ اس ذات اقدس میں ایسے کمالات و فضائل پوشیدہ تھے، جس نے دنیا سے کٹے ہوئے علاقے میں رہ کر تاقیامت ہونے والے احوال و واقعات کو بیان کیا۔ معاشرت اور طرز زندگی کے ایسے نقوش چھوڑے کہ کائنات اس کا متبادل فراہم کرنے سے قاصر ہے، جس نے دنیا کو امن عالم اور بقائے باہم کا سبق پڑھایا کہ امن کے علمبرداروں کے پاس اس سے بہتر کوئی ضابطہ نہیں۔ جس ذات اقدس کی ساری زندگی معجزات و کرشمات سے لبریز ہے، جن کی صورت چودہویں کے چاند سے زیادہ روشن، جن کی سیرت سورج سے زیادہ درخشاں، جن کی گفتار شہد سے زیادہ شیریں، جن کے اخلاق شبنم سے زیادہ نرم، جن کی داد و دہش باد صرصر سے زیادہ تیز، جن کی ملنساری، خندہ پیشانی اور وسعت نظری کے سامنے زمین کی وسعتیں تنگ، جن کی بلند خیالی اور فکری پرواز کے سامنے ساتوں آسمان کوتاہ، جن کی عزیمت، بلند حوصلگی اور ثبات قدمی سے بلند قامت پہاڑ شرمندہ اور جن کے نور سے سارا جہاں تابندہ۔ اس ذات اقدس کے نورانی چہرے اور جمال نبوت کو جس نے دیکھا، وہ دل و جان سے ان پر فدا ہو گیا۔

اسی ذات بابرکت کی صحبت بافیض میں رہنے والے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ’’کسی زلف والی ذات کو میں نے سرخ (دھاری دار) جوڑے میں آپ سے خوبصورت نہیں دیکھا‘‘ (ترمذی: شمائل، ص:۵) اور ایک شرف زیارت سے مشرف ہونے والے صحابی رسول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: ’’میں نے آپ سے حسین کسی کو نہیں دیکھا، ایسا لگتا تھا کہ سورج اپنے چہرے کے ساتھ متحرک ہے۔ جب آپ مسکراتے تو دیواریں کھل اٹھتی تھیں‘‘۔ (القسطلانی، المواہب، جلد۴،ص:۱۳)

دس سال آپﷺ کی خدمت بابرکت میں رہنے والے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ’’ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ کا بدن چاندی کا بنا ہوا ہے‘‘۔ (الوفاء۲:۴۰۶)
اس ذات بابرکت میں فطری طورپر اخلاقی اوصاف و محاس جمع تھے۔ خالق فطرت نے اوصاف و کمالات اور انسانی اعلی خوبیوں پر آپﷺ کی تخلیق فرمائی تھی۔ چنانچہ وہ مقدس ہستی خود اپنی فطری خوبیوں سے متعلق گویا ہے کہ ’’اللہ تعالی نے میری بہترین تربیت فرمائی ہے‘‘۔ (الشفاء، ص:۴۶، حاشیہ:۲۹)

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت منقول ہے کہ ’’میں نے دس سال آپﷺ کی خدمت کی، میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ اپنے کسی ہم مجلس سے دور ہوکر (امتیازاً) بیٹھے ہوں یا کسی مصافحہ کرنے والے سے آپ نے پہلے ہاتھ کھینچا ہو تاآنکہ اس نے خود ہی ہاتھ نہ کھینچ لیا ہو، یا کسی شخص نے آپ سے کھڑے ہوکر گفتگو کرنا چاہی ہو اور آپ پہلے اس سے پھر گئے ہوں تاآنکہ وہ خود نہ پھر جاتا، یا کسی نے (سرگوشی کے لئے) اپنا سر آپ کے قریب کیا ہو اور آپ نے اپنا سر اس کے اپنے سر کو ہٹانے سے پہلے ہٹایا ہو‘‘۔

ایک دوسری روایت ان ہی سے منقول ہے کہ ’’آپﷺ نہ تو برا بھلا کہنے والے تھے، نہ فحش گو اور نہ لعن طعن کرنے والے۔ جب کسی کو عتاب کرنا ہوتا تو فرماتے: اس کی پیشانی خاک آلود ہو‘‘۔ (ابن سعد، طبقات۱:۳۲۱)
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا جنھیں تقریباً دس سال آپﷺ کے اخلاق حسنہ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، وہ بیان کرتی ہیں کہ ’’آپ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عمدہ اخلاق والے تھے۔ آپ نہ تو (قصدًا) فحش گوئی کرتے (اور نہ بلاقصد)، نہ بازاروں میں شور و غوغا کرتے اور نہ ہی برائی کا بدلہ برائی سے لیتے، بلکہ آپ معاف کرنے والے اور درگزر کرنے والے تھے‘‘۔ (شمائل ترمذی)
حضرت علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ جو آپ کے چچازاد بھائی اور بچپن سے آپﷺ کی کفالت و آغوش تربیت میں رہنے کا شرف پانے والے ہیں، آپﷺ کے اخلاق حسنہ کی تعریف یوں بیان فرماتے ہیں کہ ’’آپ خندہ جبیں، نرم خو اور طبعاً مہربان تھے۔ آپ سخت مزاج اور تنگ دل قطعاً نہ تھے۔ کوئی برا اور فحش لفظ زبان سے نہ نکالتے۔ کسی کی عیب جوئی اور بدگوئی نہ کرتے۔ جو آپ کو پسند نہ ہوتا، اس سے منہ پھیر لیتے (عیب نہ لگاتے) آپﷺ نے اپنے نفس کو تین باتوں یعنی فضول جھگڑے، تکبر اور بے معنی گفتگو سے الگ کر رکھا تھا۔ دوسروں کی بابت آپﷺ تین باتوں یعنی کسی کی مذمت کرنے، عیب گیری اور تجسس سے اجتناب فرماتے اور وہی بات کہتے جو انجام کے اعتبار سے فائدہ مند ہوتی۔ لوگوں کے ساتھ مسکراتے اور تعجب کرنے میں شریک رہتے۔ مسافر اور اجنبی کی گفتگو اور سائل کے سوال کی درشتی کو نظرانداز کردیتے۔ آپﷺ کو صرف سچی تعریف پسند تھی، کسی کی بات کو درمیان میں کاٹنے سے گریز فرماتے‘‘۔ (ترمذی، شمائل، صفحہ: ۳۹۳،۳۹۴)
یہ ان حضرات کی گواہی تھی، جو آپﷺ کے جاں نثار تھے، آپﷺ پر جان و دل سے فدا تھے، مگر جو لوگ آپﷺ کے سخت ترین دشمن تھے، وہ بھی آپ کے بلند اخلاق کے مداح تھے۔ قیصر روم (ملک روم کے بادشاہ) نے آپﷺ سے متعلق حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ سے (قبول اسلام سے قبل) سوال کیا تھا کہ ’’کیا آپﷺ نے نبوت سے قبل جھوٹ کہا ہے؟‘‘ تو حضرت ابوسفیان نے جواب دیا تھا کہ ’’نہیں‘‘۔ پھر اس نے پوچھا: ’’کیا کبھی آپﷺ نے کسی کو دھوکہ دیا؟‘‘۔ انھوں نے جواب دیا: ’’نہیں‘‘۔ (بخاری)

ہم مسلمانوں پر فرض ہے کہ آپﷺ کی روشن سیرت سے واقف ہوں اور اپنی نسل کو واقف کروائیں۔ خود عمل کی کوشش کریں اور ساتھ ہی غیر مسلمین تک آپﷺ کی سیرت طیبہ کو پہنچانے کے لئے فکرمند ہوں۔ یہی ہزاروں سوال کا ایک جواب ہے۔
ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو ، خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی ، دنیا میں نہ ہو ، تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

TOPPOPULARRECENT