Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / نبی خانہ مولوی اکبر اور مکہ مدینہ علاء الدین وقف بلڈنگ کی عمارتوں کے کرایہ داروں کو نوٹس

نبی خانہ مولوی اکبر اور مکہ مدینہ علاء الدین وقف بلڈنگ کی عمارتوں کے کرایہ داروں کو نوٹس

اضافہ کرایہ کی عدم ادائیگی پر سرزنش ، چیرمین وقف بورڈ کا بورڈ کے عہدیداروں اور فورس کے ساتھ دورہ
حیدرآباد ۔ 19۔ جولائی (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی نے آج بورڈ کے عہدیداروں کے ہمراہ نبی خانہ مولوی اکبر پتھر گٹی اور مکہ مدینہ علاء الدین وقف مدینہ بلڈنگ کی عمارتوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر کرایہ داروں سے ملاقات کر کے اضافی کرایہ ادا نہ کرنے پر سرزنش کی گئی۔ وقف بورڈ سے مربوط دو تحصیلدار اوما مہیشوری اور ممتاز بیگم کے علاوہ دیگر اعلیٰ عہدیدار رینٹ کلکشن ٹیم اور ٹاسک فورس ٹیم اس دورہ میں موجود تھی ۔ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مقامی پولیس کو پہلے ہی اطلاع دے دی گئی تھی ۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کرایہ داروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کے سلسلہ میں انہیں تعاون کرنا چاہئے ۔ دونوں اوقافی جائیدادوں کے زیادہ تر کرایہ دار 200 روپئے تا 500 روپئے ماہانہ کرایہ ادا کر رہے ہیں جبکہ مارکٹ ریٹ 20 تا 25 ہزار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرایہ داروں کو اضافی کرایہ کے سلسلہ میں نوٹس جاری کی گئی لیکن وہ کرایہ میں اضافہ سے انکار کر رہے ہیں۔ دورہ کے موقع پر طئے کیا گیا کہ نبی خانہ مولوی اکبر کے کرایہ دار ہفتہ کے دن حج ہاؤز میں صدرنشین وقف بورڈ اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کریں گے جبکہ مکہ مدینہ علاء الدین وقف کے کرایہ دار پیر کے دن حج ہاؤز میں عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے کرایہ میں اضافہ کے مسئلہ پر بات چیت کریں گے۔ نبی خانہ مولوی اکبر کے تحت 300 سے زائد اور مکہ مدینہ علاء الدین وقف کے تحت 700 ملگیات ہے۔ اگر تمام کرایہ دار اضافی کرایہ ادا کرنا شروع کردیں تو نہ صرف ان عمارتوں کا مینٹننس بہتر ہوگا بلکہ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدرنشین محمد سلیم نے کہا کہ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کے سلسلہ میں باقاعدہ مہم شروع کی جارہی ہے جس کا مقصد مختلف فلاحی اسکیمات کا آغاز کرنا ہے ۔ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے سلسلے میں وقف بورڈ مختلف تجاویز رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بیواؤں کے لئے وظائف اور غریبوں کیلئے تعلیمی اور طبی امداد بورڈ کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ اسی دوران چیف اگزیکیٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی نے بتایا کہ دورہ کے موقع پر نبی خانہ مولوی اکبر کی حالت انتہائی خستہ پائی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کا برا حال ہے اور مینٹننس نہ ہونے کیلئے کرایہ دار ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کرایہ میں اضافہ نہیں ہوگا ، اس وقت تک عمارت کے مینٹننس کا کام انجام نہیں دیا جاسکتا ۔ انہوں نے بتایا کہ مینٹننس کے سلسلہ میں تقریباً 8 تا 10 رکنی عملہ کی ضرورت ہے، ان کی تنخواہوں پر ماہانہ ایک لاکھ روپئے سے زائد کا خرچ آئے گا ۔ نبی خانہ مولوی اکبر کے موجودہ کرایہ داروں سے جو رقم حاصل ہورہی ہے ، وہ تنخواہوں کیلئے بھی ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اوقافی جائیدادوں کے کرایہ داروں کو اضافی کرایہ ادا کرنے کیلئے راضی کیا جائے گا۔ شہر کے مرکزی مقام پر یہ جائیدادیں محفوظ ہیں لیکن افسوس کرایہ دار وقف بورڈ کو مارکٹ ریٹ سے ادا کرنے تیار نہیں۔

TOPPOPULARRECENT