Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / نبی خانہ مولوی اکبر اور مکہ مدینہ علاء الدین وقف کی ملگیات میں بے قاعدگیوں کی جانچ

نبی خانہ مولوی اکبر اور مکہ مدینہ علاء الدین وقف کی ملگیات میں بے قاعدگیوں کی جانچ

سی ای او رپورٹ پیش کردی، وقف بورڈ کا اجلاس، محمدسلیم چیرمین کا بیان

حیدرآباد۔/10 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے نبی خانہ مولوی اکبر اور مکہ مدینہ علاء الدین وقف کی ملگیات کے الاٹمنٹ میں مبینہ بے قاعدگیوں کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی جانب سے اس سلسلہ میں رپورٹ کی پیشکشی کے بعد موجودہ کرایہ داروں سے کرایہ نامہ لیا جائے گا اور کرایہ جات میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس طرح وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا۔ بورڈ کا اجلاس آج صدرنشین محمد سلیم کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں 43 ایجنڈہ آئٹمس کو منظوری دی گئی۔ نبی خانہ مولوی اکبر کی تقریباً 300 ملگیات کے الاٹمنٹ اور ان کی موجودہ حالت کے بارے میں چیف ایکزیکیٹو آفیسر سے رپورٹ طلب کی گئی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ جس انداز میں ملگیات چند مخصوص افراد کے نام پر موجود ہیں اس میں وقف بورڈ کے عہدیداروں کی ملی بھگت ثابت ہوتی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ رپورٹ کے بعد متعلقہ انسپکٹر اور رینٹ سے متعلق عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہیں تادیبی کارروائی کے طور پر معطل بھی کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کسی بھی بے قاعدگی کو برداشت نہیں کرے گا۔ نبی خانہ مولوی اکبر میں ایک شخص کے نام پر 25 ملگیات ہیں جبکہ اس کے قبضہ میں 100 ملگیات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلڈر نے بے قاعدگیوں کے ذریعہ مخصوص افراد کو ملگیات حوالے کردی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملگیات میں جو کرایہ دار ہیں ان ہی کے ساتھ وقف بورڈ معاہدہ کرے گا اور موجودہ کرایہ میں اضافہ کیا جائے گا۔ نبی خانہ مولوی اکبرکے معائنہ کے موقع پر چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو کئی بے قاعدگیوں کا علم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ملگیوں کی تعداد اور ان میں موجود کرایہ داروں کے سلسلہ میں رپورٹ تیار کی جارہی ہے اس کے علاوہ حقیقی تعداد کا پتہ چلانے نقشہ تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدی نمبرس اور دکان کے نمبرات میں کافی فرق پایا گیا ہے۔ کرایہ دار بلدیہ کو ٹیکس ادا نہیں کررہے ہیں۔ منان فاروقی کے مطابق 240 ملگیات کی بلڈر نے تعمیر کی لیکن ان میں مختلف حصے کرتے ہوئے تعداد میں اضافہ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سب لیز پر دے کر ملگیات سے ماہانہ 15 تا 20 ہزار روپئے کرایہ حاصل کیا جارہا ہے جبکہ وقف بورڈ کو چند سو روپئے ادا کئے جارہے ہیں۔ صدرنشین محمد سلیم نے کہا کہ بورڈ نے اسٹاف کی تعداد میں اضافہ کے سلسلہ میں حکومت کو 50 عارضی ملازمین کے تقرر کی اجازت دینے کی خواہش کی ہے۔ اس سلسلہ میں سابقہ قرارداد کو دوبارہ حکومت کے پاس روانہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ مکہ مدینہ علاء الدین وقف کی ملگیات کی جانچ دوسرے مرحلہ میں کی جائے گی۔ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کے ذریعہ غریبوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ مختلف امراض کے علاج کے سلسلہ میں غریب افراد متحمل نہیں ہوسکتے لہذا انہیں 25 تا50 ہزار روپئے فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ منشائے وقف کے مطابق غریبوں کی مدد کرنا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ وقف بورڈ کے تحت مفت ڈائیلاسیس سنٹر کے قیام کی تجویز برقرار ہے اس سلسلہ میں مقام کا تعین بہت جلد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں 40 پارٹ ٹائم ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے سے متعلق مسئلہ پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے سلسلہ میں حکومت سے گرانٹ کے حصول کی کوشش کی جائے گی اور چیف منسٹر سے منظوری کے حصول کے بعد ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اجلاس میں 8 کمیٹیوں اور 5 متولیوں کے تقرر کو منظوری دی گئی۔ بورڈ نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی کی خدمات میں ایک سال کی توسیع کی سفارش کرتے ہوئے قرارداد منظور کی ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت کی منظوری کے بعد منان فاروقی مزید ایک سال تک برقرار رہیں گے۔ محمد سلیم نے کہا کہ گٹلہ بیگم پیٹ کی 93 ایکر اوقافی اراضی کے تحفظ میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا اور اندرون ایک ہفتہ پولیس اور ریونیو عہدیداروں کی مدد سے تمام ناجائز قبضے برخواست کردیئے جائیں گے جبکہ بھونگیر میں اوقافی اراضی کی متولی کی جانب سے فروخت کے معاملہ کا جائزہ لیا جائے گا اور اسے بورڈ اپنی تحویل میں لے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ میں سرقہ کی کوشش اور جعلی این او سی کے معاملہ میں پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ اجلاس میں ارکان مولانا سید اکبر نظام الدین حسینی صابری ، ملک معتصم خاں، مرزا انور بیگ، صوفیہ بیگم، معظم خاں ایم ایل اے، ایم اے وحید، نثار حسین حیدر آغا اور ذاکر حسین جاوید نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT