Tuesday , December 11 2018

نبی خانہ مولوی اکبر کے ملگیات کے حقیقی کرایہ داروں کی جانچ

کئی بے قاعدگیوں کا انکشاف ، آج بھی جانچ جاری رہے گی ، وقف بورڈ
حیدرآباد ۔ 7 ۔مارچ (سیاست نیوز) پٹیل مارکٹ میں واقع نبی خانہ مولوی اکبر کی 300 ملگیات کے حقیقی کرایہ داروں کا پتہ چلانے کیلئے وقف بورڈ کے عہدیداروں نے آج بھی اپنی مہم کو جاری رکھا۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی ہدایت پر چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی نے عہدیداروں کی ٹیموں کے ساتھ آج دوسرے دن بھی ملگیات کا معائنہ کیا اور کرایہ داروں سے ملاقات کی ۔ اس معائنہ میں اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ملگی کا کرایہ نامہ کس کے نام پر ہے اور کون کاروبار کر رہا ہے ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ملگی کو لیز اور سب لیز پر دے دیا گیا اور ہزاروں روپئے کرایہ حاصل کرتے ہوئے وقف بورڈ کو صرف 200 روپئے ادا کئے جارہے ہیں ۔ مہم کے پہلے دن 70 ملگیات کا معائنہ کیا گیا جس میں زیادہ تر ملگیاں سب لیز پر پائی گئیں۔ اصل کرایہ دار کوئی اور ہے اور دو یا تین افراد کے نام سے یہ ملگیات سب لیز پر دی گئیں۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر اوران کی ٹیم کو کئی بے قاعدگیوں کا پتہ چلا۔ بعض ملگیات رقبہ کے اعتبار سے چھوٹی ہیں لیکن انہیں وسیع کردیا گیا ہے۔ عہدیداروں کی ٹیم آج مسلسل دوسرے دن بھی رات تک اپنی کارروائی کو جاری رکھتے ہوئے حقیقی کرایہ داروں کا پتہ چلانے میں مصروف رہی۔ دو یا تین ملگیات کو ریکارڈ میں ایک ملگی ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کامپلکس کے سیلر میں غیر قانونی پارکنگ کا انتظام ہے اور پارکنگ کے ذریعہ روزانہ ہزاروں روپئے کی آمدنی ہورہی ہے لیکن وقف بورڈ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں نے ان تمام بے قاعدگیوں کی رپورٹ اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ ملگیات کی جانچ کا کام کل بھی جاری رہے گا۔ عہدیداروں کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ناجائز قابضین اور بورڈ کے بعض عہدیداروں میں ملی بھگت پائی گئی۔ قابضین کو گزشتہ کئی برسوں سے بورڈ کے عہدیداروںکی سرپرستی حاصل تھی اور وہ معمولی رقم حاصل کرتے ہوئے وقف بورڈ میں جمع کر رہے تھے ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی موجودگی میں کئی ایسے قابضین کی متعلقہ وقف انسپکٹر اور دیگر عہدیداروں سے ملی بھگت کا واضح ثبوت دیکھا گیا۔

TOPPOPULARRECENT