Friday , January 19 2018
Home / مذہبی صفحہ / نبی کی محبت بڑی چیز ہے

نبی کی محبت بڑی چیز ہے

جنگ بدر کے بعد حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مشرکین نے دھوکہ سے گرفتار کرلیا۔ صفوان بن امیہ نے اپنے باپ کا انتقام لینے کے لئے انھیں خرید لیا۔ جب انھیں قتل کرنے کے لئے لے جایا گیا اور قتل کا تماشہ دیکھنے کے لئے مجمع لگا ہوا تھا تو ابو سفیان نے (جو اس وقت تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے) حضرت زید بن دثنہ سے کہا: ’’زید!

جنگ بدر کے بعد حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مشرکین نے دھوکہ سے گرفتار کرلیا۔ صفوان بن امیہ نے اپنے باپ کا انتقام لینے کے لئے انھیں خرید لیا۔ جب انھیں قتل کرنے کے لئے لے جایا گیا اور قتل کا تماشہ دیکھنے کے لئے مجمع لگا ہوا تھا تو ابو سفیان نے (جو اس وقت تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے) حضرت زید بن دثنہ سے کہا: ’’زید! میں تمھیں قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم یہ پسند نہ کروگے کہ تم آرام سے اپنے گھر پہنچ جاؤ اور تمہاری جگہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہوں؟۔ حضرت زید سے ابوسفیان کی زبان کا یہ تیر برداشت نہ ہوسکا، تڑپ کر بولے: ’’خدا کی قسم! مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ میں آرام سے اپنے گھر پہنچوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے مبارک میں کانٹا ہی چبھ جائے‘‘۔ ابوسفیان نے کہا: ’’میں نے کسی کو کسی سے اتنی محبت کرتے نہیں دیکھا، جتنی محبت اصحابِ محمد، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت زید بن دثنہ کو شہید کردیا گیا۔ یہ تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے جاں نثار اصحابِ رسول۔ کیا ہمیں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی محبت ہے؟۔
ہمارے دِلوں میں بھی عشقِ رسول شعلہ فگن ہے، کیونکہ مسلمان خواہ کتنا ہی بدعمل اور گنہگار ہو، مگر عشق رسول کی آگ اس کے دل میں ضرور ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے دل خالی ہو جائے تو ہم مسلمان ہی نہیں رہتے، لیکن ہمارا یہ عشق رسول ضوفشاں نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اطاعت و اتباع کی چمنی جو روشنی پھیلانے کا ذریعہ بنتی ہے، بدعملی اور گناہوں کی وجہ سے دُھندلا گئی ہے، عشق رسول کی روشنی باہر نہیں آرہی ہے۔ اگر ہم اس چمنی کو توبہ و استغفار اور اطاعت و اتباع کے کپڑے سے صاف کرلیں تو ہم خود اور دوسرے بھی محسوس کریں گے کہ ہر مسلمان کا دل عشق رسول سے منور ہے۔ آج بھی اگر کوئی مسلمان عشق رسول کے شعلے کو بھڑکائے تو زندۂ جاوید ہو جائے گا۔ حجاز کے حضرت بلال حبشی اور مقدونیہ کے سکندر رومی کا موازنہ نہ کرو، کون فنا ہوا اور کس کو حیات جاوداں ملی۔ یہ فیضان کس کے عشق کا ہے۔

اقبال کس کے عشق کا یہ فیض عام ہے
رومی فنا ہوا ، حبشی کو دوام ہے
واضح رہے کہ اظہار محبت کے دو انداز ہوتے ہیں، ایک جذباتی اور دوسرا عقلی۔ جو لوگ محبت کا اظہار جذباتی طریقے سے کرتے ہیں، وہ بھی عاشقانِ رسول ہیں اور جو لوگ محبت کا اظہار عقلی انداز سے کرتے ہیں، وہ بھی عاشقانِ رسول ہیں۔ کسی کو دسرے کی نفی نہیں کرنی چاہئے، کیونکہ کسی بھی مسلمان کا دل عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خالی نہیں ہوتا۔ صوفیہ کی زبان میں یوں سمجھیں کہ محبت کا جذباتی اظہار کرنے والے ’’صاحبان تلوین‘‘ ہیں، ان میں تلون ہوتا ہے، یک رنگی نہیں ہوتی۔ ان کے برخلاف جو لوگ محبت کا اظہار عقلی انداز میں کرتے ہیں، وہ ’’صاحبانِ تمکین‘‘ ہیں۔ پرسکون ہوتے ہیں، گویا وہ سوختگانِ عشق ہیں، اچھل کود ختم ہو گئی ہے، مزاج میں ٹھہراؤ آگیا ہے۔ بہادر شاہ ظفر نے کیا خوب کہا ہے:
سوختگانِ عشق کو کیا کام رونے سے ظفرؔ
آب آتش پر ٹپکتا ہے کبابِ خام سے
ویسے دیکھا جائے تو عشق میں اخفا اور سکوت ہی زیادہ مزا دیتا ہے۔ بہرحال اپنے چراغِ دل میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لو تو تیز سے تیز تر کرتے رہنا چاہئے۔
نبی کی محبت بڑی چیز ہے
خدا دے یہ دولت بڑی چیز ہے
اس محبت کا خاص فائدہ ’’رفاقت ِرسول‘‘ کی صورت میں آخرت میں حاصل ہوگا۔ کسی صحابی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! جب آپ سے ملنے کو جی چاہتا ہے اور آپ کو دیکھنے کے لئے دل تڑپنے لگتا ہے تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے ہیں، لیکن آخرت میں آپ تو جنت کے اعلیٰ درجے میں ہوں گے اور ہم معلوم نہیں کہاں ہوں گے، جدائی کے اس خوف سے دل کانپ اُٹھتا ہے‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کی داستانِ عشق سن کر فرمایا: ’’تم آخرت میں اُس کے ساتھ ہوگے، جس سے محبت کرتے ہو‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہم گنہگاروں کے لئے امید بہار کا گلستان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دِلوں کو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دولت سے مالا مال فرمائے اور ہمیں آخرت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جگہ عطا فرمائے۔ (آمین)

نیک اعمال کی مقبولیت
ہر کام اللہ تعالیٰ کے لئے کرنا سارے دین کا خلاصہ ہے، اسی طرح کسی کو ایذا نہ پہنچانا سارے احکام الہٰی کا ماحصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے اعمال اور دِلوں کو دیکھتا ہے‘‘۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ ’’ایمان کیا ہے؟‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اخلاص‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کا حاکم بناکر بھیجا تو انھوں نے درخواست کی کہ ’’مجھے کچھ نصیحت فرمائیں‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’دین میں اخلاص کا اہتمام رکھنا کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا سا عمل بھی کافی ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ اعمال میں سے صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے، جو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کیا گیا ہو۔
حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ علماء کی صحبت میں بیٹھنا ضروری سمجھو اور حکمائے امت کے ارشادات کو غور سے سنو کہ اللہ تعالیٰ حکمت کے نور سے مردہ دِلوں کو اس طرح زندہ فرماتا ہے، جیسے مردہ زمین کو بارش سے زندہ فرماتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے دریافت کیا کہ ’’ہم لوگوں کے لئے بہترین ہم نشین کون ہے؟‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’جس کے دیکھنے سے اللہ تعالیٰ کی یاد پیدا ہو، جس کی بات سے علم میں ترقی ہو اور جس کے عمل سے آخرت یاد آجائے‘‘۔ حدیث شریف میں ہے کہ ’’اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں، جنھیں دیکھ کر خدا یاد آجائے‘‘۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو‘‘۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس مجلس میں اللہ تعالیٰ کی یاد نہیں اور اس کے رسول پر درود نہیں، اس مجلس والوں کو قیامت کے دن حسرت ہوگی۔ (مرسلہ)

TOPPOPULARRECENT