Saturday , September 22 2018
Home / سیاسیات / نتن پٹیل کی ناراضگی ختم

نتن پٹیل کی ناراضگی ختم

احمد آباد۔31 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) گجرات میں محکموں کے الاٹمنٹ پر ناراض نائب وزیر اعلی نتن پٹیل گزشتہ دو دنوں سے جاری ‘ہائی وولٹج’ سیاسی ڈرامہ کے بعد آج آخر کار مان گئے اور کہا کہ اعلی کمان نے ان کے احساسات کو سمجھا ہے جس کے سبب وہ آج سے ذمہ داری سنبھالیں گے ۔گذشتہ 26 دسمبر کو وزیر اعلی وجے روپاني کے ساتھ حلف لینے کے بعد 28 دسمبر کی رات ایک اور ہائی وولٹج ڈرامہ کے درمیان محکموں کی تقسیم میں ان سے خزانہ، شہری ترقیات اور شہری رہائش اور پٹرو کیمیکل محکمہ لے لیے جانے کے سبب انہوں نے دو دنوں تک عہدہ نہیں سنبھالتے ہوئے باغیانہ تیور اپنا رکھا تھا۔ وہ سرکاری گاڑی بھی استعمال نہیں کررہے تھے اور راجدھانی گاندھی نگر کے بجائے احمد آباد میں واقع اپنی رہائشگاہ میں مقیم تھے۔ مسٹر پٹیل نے آج صبح یہاں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس میں کہا کہ بی جے پی صدر امت شاہ اور پارٹی کے سینئر لیڈر رام لال، وی ستیش سمیت دیگر لوگوں سے ان کی بات چیت ہوئی۔ وہ ناراض نہیں تھے بلکہ نائب وزیر اعلی اور حکومت میں نمبر دو ہونے کے سبب انہیں زیب دیں، ایسے محکمہ چاہتے تھے۔

یہ بات انہوں نے مسٹر شاہ اور دیگر رہنماؤں کو بتائی اور قیادت نے ان کی احساس و جذبات کا لحاظ کیا ہے ۔ مسٹر شاہ نے انہیں فون کرکے عہدہ سنبھالنے کو کہا ہے ۔ وزیر اعلی وجے روپاني آج دوپہر دو بجے تک گورنر کو انہیں کچھ سیکشن مزید سونپنے کے لئے خط دیں گے ۔ انہیں یہ پتہ نہیں کہ یہ کون سا محکمہ ہوگا۔لیکن انہیں پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد ہے ۔بی جے پی کے ریاستی صدر ٹی سندرراجن نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ہمیشہ سیاست میں مسٹر رجنی کانت کا خیر مقدم کیا ہے ۔ جنوب سے لے کر ہندی فلموں میں ایکشن کے دم پر لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والے رجنی کانت کے نئے رول کا اعلان ہوتے ہی تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نئی پارٹی آئی ہے ۔انہوں نے سینئر صحافی چو راما سوامی کو اپنا آئڈیل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا فرض نبھانا چاہتے ہیں۔ وہ بزدل نہیں ہیں اور وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے اور سیاست میں آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “میں تمل ناڈو کے عوام کو نیچے نہیں جانے دوں گا۔ ان سر جھکنے نہیں دوں گا۔ میں اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ لوگوں نے چھ دن تک میرے فیصلے کا انتظار کیا”۔جے للتا کے انتقال کے بعد جنوب کی سیاست میں ایک مقبول چہرے کی کمی محسوس کی جا رہی تھی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ رجنی کانت اس خالی جگہ کو بھر سکتے ہیں۔ وہ اس وقت جنوب کے سب سے بڑے سپر اسٹار ہیں۔ ان کی فلموں کی اتنی مقبولیت ہے کہ لوگ انہیں ‘اوتار’ سے کم نہیں سمجھتے ہیں۔ انہی کی طرح کمل ہاسن بھی مقبول ہیں اور وہ بھی سیاست میں آنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ مسٹر رجنی کانت نے اپنی پچھلی ملاقاتوں میں لوگوں کی دولت، شہرت اور طاقت والوں کے پاؤں پر گرنے کے خلاف کہا تھا کہ کسی کو بھی صرف خدا اور ما ں باپ کے آگے ہی جھکنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT