نتیش کمار کو خط اعتماد حاصل ، بی جے پی کی مذمت

پٹنہ ۔ 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے آج آر جے ڈی، کانگریس اور سی پی آئی کے علاوہ ایک آزاد رکن اسمبلی کی مدد سے خط اعتماد حاصل کرلیا۔ اپوزیشن بی جے پی اس بات سے بخوبی واقف تھی کہ ارکان کی تعداد نتیش کمار کے حق میں ہے۔ چنانچہ اس نے خط اعتماد سے رائے دہی سے قبل واک آؤٹ کردیا۔ رائے دہی سے قبل نتیش کمار نے بی جے پی کی مذمت

پٹنہ ۔ 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے آج آر جے ڈی، کانگریس اور سی پی آئی کے علاوہ ایک آزاد رکن اسمبلی کی مدد سے خط اعتماد حاصل کرلیا۔ اپوزیشن بی جے پی اس بات سے بخوبی واقف تھی کہ ارکان کی تعداد نتیش کمار کے حق میں ہے۔ چنانچہ اس نے خط اعتماد سے رائے دہی سے قبل واک آؤٹ کردیا۔ رائے دہی سے قبل نتیش کمار نے بی جے پی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی متحد سیکولر طاقتوں نے صدر راج کے نفاذ کی صورتحال پیدا کرنے والی طاقتوں کے کھیل کو ’’بے نقاب‘‘ کردیا ہے۔

جملہ 140 ارکان نے نتیش کمار کی تائید کی اور ان کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔ اسپیکر ادئے نارائن چودھری نے اسمبلی میں اعلان کیا کہ خط اعتماد کی پہلی منظوری ندائی ووٹ کے ذریعہ اور اس کے بعد حکومت کے اصرار پر ایوان کی تقسیم کے ذریعہ کی گئی۔ آر جے ڈی، کانگریس، سی پی آئی اور آزاد رکن نے نتیش کمار کی تائید کی۔ جے ڈی (یو) کے تمام باغی ارکان اسمبلی سوائے مانجھی کے نااہل قرار دیئے جانے سے گریز کیلئے نتیش کمار کی تائید میں آ گئے۔

بی جے پی کے 87 ارکان نے ایوان سے رائے دہی سے قبل ہی واک آوٹ کردیا اور انہوں نے ندائی رائے دہی یا ایوان کی تقسیم میں شرکت نہیں کی۔ بہار اسمبلی میں کارگر تعداد فی الحال 233 ہے۔ 10 نشستیں مخلوعہ ہیں۔ مانجھی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور انہوں نے کہا کہ غیر متعلق رکن پر وہپ لاگو نہیں ہوتا۔ نتیش کمار نے بحیثیت چیف منسٹر چوتھی مرتبہ حلف اٹھایا۔ بی جے پی پر تنقید جاری رکھتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ دہلی کے انتخابات ’’انتخابی سفر میں انحطاط‘‘ کے نقیب ثابت ہوئے۔ آر جے ڈی کے ساتھ جے ڈی یو کے اتحاد پر اپوزیشن لیڈر نند کشور یادو کے اعتراض پر نتیش کمار نے جوابی وار کرتے ہوئے جموںو کشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ بی جے پی کے اتحاد پر سخت اعتراض کیا۔ جے ڈی یو کے باغی ارکان اسمبلی نے جو وہپ کی وجہ سے مجبور ہوگئے تھے، کہا کہ وہ پارٹی میں داخلی ’’ناانصافی‘‘ کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔

TOPPOPULARRECENT