Saturday , December 16 2017
Home / اداریہ / نتیش کمار کی بی جے پی سے قربتیں؟

نتیش کمار کی بی جے پی سے قربتیں؟

اٹھ رہی تھیں گھر کی دیواریں ابھی
دشمنی کو آئے ہماسئے بہت
نتیش کمار کی بی جے پی سے قربتیں؟
چیف منسٹر بہار نتیش کمار ایسا لگتا ہے کہ ایک بار پھر بی جے پی سے قربتیں بڑھانے لگے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں نتیش کمار کے رویہ اور ان کے انداز میں کافی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ نتیش کمار کئی عرصہ سے وزیر اعظم نریندر مودی کے کٹر حریف سمجھے جاتے تھے ۔ ایک وقت تھا کہ قومی منظر نامہ میں نتیش کمار کو نریندر مودی کا ہم پلہ اور ان کا مدمقابل سمجھا جاتا تھا ۔ نتیش کمار نے خود بھی نریندر مودی کی شدت سے مخالفت کی تھی اور ہر مسئلہ پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ خاص طور پر نریندر مودی کی جانب سے نتیش کمار کے ڈی این اے سے متعلق کئے گئے ریمارک کو انہوں نے بہار اسمبلی انتخابات میں اہم موضوع بناتے ہوئے اسے بہار کے عوام کی عزت و وقار سے جوڑ دیا تھا ۔ نتیش کمار نے بہار اسمبلی انتخابات میں عظیم اتحاد تشکیل دیتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی ۔ آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو کی فراخدلانہ پالیسی اور جامع حکمت عملی نے اس اتحاد کو اقتدار دلایا تھا اور نتیش کمار دوبارہ چیف منسٹر بنے ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات کے بعد سے ملک میں جو حالات بنے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے شائد نتیش کمار بھی چڑھتے سورج کی پوجا کرنے میں یقین کرنے لگے ہیں۔ نتیش کمار نے بہار میں نشہ بندی کے بعد سارے ملک میں نشہ بندی کیلئے مہم چلانے کا اعلان کیا تھا لیکن اس پر بھی وہ قائم نہیں رہے ۔ اس کے بعد جب ملک میں نوٹ بندی لاگو کی گئی اور سارے ملک میں تقریبا تمام اپوزیشن جماعتوں نے اس پر احتجاج کیا تو نتیش کمار نے خود اپنی اقتدار کی حلیف آر جے ڈی سے اختلاف کرتے ہوئے نوٹ بندی کی تائید کی تھی ۔ وہ دھیرے دھیرے نریندر مودی کے خلاف اپنی تنقیدوں میں بھی نرمی پیدا کرنے لگے تھے ۔ اب وہ اپنی پارٹی جنتادل یونائیٹیڈ کے قومی صدر بھی بن گئے ہیں۔ جب تک شرد یادو پارٹی کے صدر رہے پارٹی کے بی جے پی سے اختلافات کی نوعیت بھی شدید رہی ۔ نتیش کمار نے نریندر مودی کو این ڈی اے کا وزارت عظمی امیدوار نامزد کئے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے بی جے پی سے اپنے اتحاد کو ختم کیا تھا ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ وہ اپنی سوچ میں بھی تبدیلی پیدا کر رہے ہیں اور اپنے سیاسی راستے کا بھی از سر نو تعین کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
نتیش کمار نے اب تازہ ترین اقدام میں صدارتی انتخاب میںمشترکہ امیدوار نامزد کرنے کے مسئلہ پر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی جانب سے طلب کردہ اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں شرکت کرنے سے گریز کیا ہے اور وہ دوسرے ہی دن یعنی ہفتے کو نئی دہلی آئیں گے اور اس موقع پر وہ اپوزیشن قائدین سے ملاقاتوں کی بجائے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے منعقد کئے جانے والے ظہرانہ میں شرکت کرینگے ۔ اپنی سرکاری اور پہلے سے طئے شدہ مصروفیات کی بنا پر اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں عدم شرکت کا پھر بھی جواز ہوسکتا ہے لیکن دوسرے ہی دن وزیر اعظم کے ساتھ ظہرانہ میں شرکت سے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہونی شروع ہوگئی ہے ۔ اس پر اب کئی طرح کی قیاس آرائیوں کا آغاز بھی ہوگیا ہے ۔ یقینی طور پر نتیش کمار کے اس اقدام سے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہونا لازمی امر ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک میں بی جے پی کی جانب سے اپوزیشن جماعتوںکو ختم کرنے کی کوششوں میں شدت پیدا ہوگئی ہے اور اس سے جمہوری اقدار کی پامالی ہو رہی ہے ملک میں ایک جماعتی نظام کی سمت پیشرفت کی کوششیں ہو رہی ہیں اور ایسے میں اپوزیشن جماعتوں میں اتحاد پیدا کرنے کی کوششوں میں رخنہ اندازی پیدا کرنا بلکہ ان کوششوں کو بالواسطہ طور پر سبوتاج کرنے کی کوشش کرنا مناسب عمل نہیںہے ۔ اس سے بی جے پی کو ایک اور موقع ملے گا کہ وہ اپوزیشن کی صفوں میں انتشار پیدا کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے سے دور کرتے ہوئے اپنے عزائم اور منصوبوںکو پایہ تکمیل تک پہونچائے ۔
نتیش کمار اگر ایک بار پھر بی جے پی سے قربتیں بڑھانا چاہتے ہیں اور اس سے اتحاد کرنا چاہتے ہیں تو وقتی طور پر بھی انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور مستقبل میں تو اس سے خود جنتادل یو کے وجود پر سوالیہ نشان لگ جائے گا ۔ جو بی جے پی اپنا ساتھ دینے والی جماعتوں کو حاشیہ پر رکھنے کا ریکارڈ رکھتی ہے اگر نتیش کمار اسی جماعت کے ساتھ اپنا سیاسی سفر آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو یہ ان کی فاش غلطی ہوگی اور اس سے ملک میں سکیولر طاقتوں کو اور اپوزیشن اتحاد کی کوششوں کو نقصان ہوسکتا ہے ۔ ملک کے سکیولر ڈھانچہ میں اگر نتیش کمار یقین رکھتے ہیں تو انہیں اپنے وقتی اور ذاتی فائدہ اور مفادات کی تکمیل کیلئے بی جے پی سے قربتیں بڑھانے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس سے اپوزیشن کو بھی نقصان ہوگا اور خود جے ڈی یو کا وجود خطرہ میں پڑجائیگا ۔ نتیش کمار ایک گھاگھ سیاستدان ہیں اور انہیں بی جے پی کے جال میں پھنسنے سے گریز کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT