Thursday , November 23 2017
Home / اداریہ / نتیش کمار کے قومی عزائم

نتیش کمار کے قومی عزائم

پرواز مری سرحد ادراک سے آگے
ہیں ہیچ زماں اور مکاں میری نظر میں
نتیش کمار کے قومی عزائم
گذشتہ سال ہوئے بہار اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد سینئرجے ڈی یو لیڈر نتیش کمار نے عملا قومی سطح پر اپنے رول کیلئے امکانات تلاش کرنے شروع کردئے ہیں۔ پارٹی کے داخلی ذرائع کا جو نتیش کمار سے قربت رکھتے ہیں یہ ادعا ہے کہ نتیش کمار قومی سطح پر خود کو وزارت عظمی امیدوار کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل وہ رائے عامہ ہموار کرنا اور عوام کے تاثرات معلوم کرنا چاہتے ہیں۔سب سے پہلے انہوں نے خود ریاست بہار میں شراب پر امتناع عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ جب یہ امتناع نافذ کردیا گیا تو اس کے مثبت اثرات دیکھنے میں آئے ۔ نتیش کمار کا ادعا تھا کہ اس کے نتیجہ میں بہار میں جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ خواتین کی تنظیموں کی جانب سے شراب پر امتناع کے فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا تھا اور اسی حوصلہ افزائی کے نتیجہ میں نتیش کمار نے ملک گیر سطح پر نشہ بندی کے خلاف مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ نتیش کمار کسی جلد بازی میں بھی دکھائی نہیں دیتے اور مرحلہ وارا نداز میں وہ 2019 کے عام انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ وہ خود کو وزیراعظم نریندر مودی کے متبادل کے طو ر پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ اس کا باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔ بہار میں جب اسمبلی انتخابات ہوئے تھے بی جے پی نے سر دھڑ کی بازی لگاتے ہوئے مہم چلائی تھی ۔ اس کے باوجود اپنے مخصوص انداز میں ترقیاتی کارناموں اور منصوبوں کی بنیاد پر نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کے اتحاد نے بی جے پی کو ناکام کردیا ۔ جے ڈی یو میں اپنے اثر کو واضح کرنے کیلئے نتیش کمار نے پارٹی کی قومی صدارت کا ذمہ بھی سنبھال لیا اور عملا یہی ان کے قومی عزائم کو وسعت دینے کا نقطہ آغاز بھی کہا جاسکتا ہے ۔ بہار کے بعد اب نتیش کمار اپنی پڑوسی ریاست اتر پردیش پر توجہ دینا چاہتے ہیں ۔ حالانکہ انہیں یہاں سماجوادی پارٹی کی تائید حاصل نہیں ہو رہی ہے لیکن وہ اپنے طور پر شراب بندی کی مہم چلا کر رائے عامہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ ابھی یہ تو واضح نہیں ہوسکا ہے کہ نتیش کمار کو انکی اس مہم میں کس حد تک کامیابی مل سکتی ہے لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ سکیولر طاقتوں کیلئے نتیش کمار نے ایک امکان ضرور فراہم کردیا ہے جس پر وہ سنجیدگی سے غور کرسکتے ہیں۔
بی جے پی بھی نتیش کمار کے ان عزائم کو ایسا لگتا ہے کہ بھانپ چکی ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ نتیش کمار کو بہار میں پیش آنے والے واقعات پر نشانہ بناتے ہوئے یہ مشورہ بھی دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے قومی عزائم کو پس پشت ڈال کر بہار میں حکمرانی پر توجہ دیں یا پھر بہار کی کرسی چھوڑ دیں۔ ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بی جے پی کا یہ مشورہ نتیش کمار سے درپیش ہونے والے خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے دیا جا رہا ہے لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ نتیش کمار کو قومی سطح پر پیش کرنے میں جہاں بی جے پی یا اس کی ہم قبیل جماعتوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑیگا وہیں سکیولر جماعتوں میں بھی اس مسئلہ پر اتفاق رائے ہونا آسان نہیں ہوسکتا ۔ جہاں تک سماجوادی پارٹی کی بات ہے تو وہ ملائم سنگھ یادو کے سوا کسی اور کو وزارت عظمی امیدوار کے طور پر پیش کرنے کیلئے کسی بھی حال میں تیار نہیں ہوگی ۔ اسی طرح بہار کی سیاست کو دیکھتے ہوئے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ راشٹریہ جنتادل بھی نتیش کمار کو قومی سطح پر پیش کرنے کیلئے آسانی سے تیار نہ ہو ۔ کمیونسٹ جماعتیں تاہم اس کیلئے تیار ہوسکتی ہیں اور انہوں نے اس تعلق سے مثبت اشارے بھی دئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی متبادل عظیم اتحاد کو پہلے اپنی معاشی پالیسیاں اور ایجنڈہ واضح کرنا ہوگا ۔ دوسری علاقائی جماعتوں نے ابھی تک اس مسئلہ پر کوئی واضح اظہار خیال نہیں کیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ جماعتیں پہلے یہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ نتیش کمار نے جو مہم شراب بندی کی تائید میں شروع کی ہے اس کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو کس حد تک منوا سکتے ہیںاورانہیں کس حد تک عوام کی مقبولیت کی سند حاصل ہوتی ہے ۔
آئندہ دنوں میں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ نتیش کمار کا جو ایک نکاتی ایجنڈہ محض شراب پر امتناع کا ہے اس کو کتنی عوامی مقبولیت ملتی ہے ۔ آئندہ دنوں میں وہ کس حد تک دوسرے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے عوام کی توجہ حاصل کرپاتے ہیںیہ بھی دیکھنا ہوگا ۔ نتیش کمار نے پہلے یو پی کو نشانہ بنایا ہے اور یہاں انہوں نے اجیت سنگھ کی قیادت والی آر ایل ڈی کو اپنی پارٹی میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یو پی میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور اگر نتیش کمار ‘ اجیت سنگھ کے ساتھ مل کر کچھ حد تک یہاں اثر انداز ہوتے ہیں تو پھر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ان کی مہم کو آگے بڑھانا ممکن ہوگا ۔ اگر یو پی میں یہ اتحاد اثر انداز نہیں ہو پاتا ہے تو پھر نتیش کمار کو اپنی حکمت عملی اور اپنے ایجنڈہ میں تبدیلی کرنی ہوگی ۔ ان کے پاس ایسا کرنے کیلئے وقت ضرور ہوگا لیکن اصل شرط یہ دیکھنے کی ہوگی کہ وہ ایسا کرنے میں دوسری جماعتوں کی کس حد تک تائید حاصل کرینگے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT