Wednesday , December 13 2017
Home / ہندوستان / نجیب احمد کی گمشدگی کی تحقیقات، سی بی آئی پر دہلی ہائیکورٹ کی برہمی

نجیب احمد کی گمشدگی کی تحقیقات، سی بی آئی پر دہلی ہائیکورٹ کی برہمی

بیان میں تصادم ، دلچسپی کا مکمل فقدان اور پانچ ماہ بعد بھی کوئی نتیجہ نہیںنکلا ، بنچ کا ریمارک
نئی دہلی ۔16 اکٹوبر۔( سیاست ڈاٹ کام) سی بی آئی کو جے این یو کے ایک طالب علم نجیب احمد کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات پانچ ماہ قبل ان کے حوالے کئے جانے کے باوجود ہنوز کوئی نتیجہ برآمد نہ ہونے اور اس کام میں اس کی دلچسپی کے فقدان پر دہلی ہائیکورٹ کی سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایم ایس سی بائیوٹکنالوجی کا طالب علم 27 سالہ نجیب احمد گزشتہ سال 15 اکتوبر کو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ماہی ۔ مانڈوی ہاسٹل سے لاپتہ ہوگیا تھا ۔ اس سے ایک رات قبل اس کی چند طلبہ سے جھڑپ ہوگئی تھی جن کا تعلق بی جے پی ؍ آر ایس ایس سے ملحقہ طلبہ تنظیم اے بی وی پی سے تھا ۔ جسٹس جی ایس سیستانی اور جسٹس چندرشیکھر پر مشتمل بنچ نے بحث کی سماعت کے دوران کہا کہ یہ انتہائی افسوس اور ناخوشی کی بات ہے کہ سی بی آئی کی طرف سے پیش کردہ موقف کی رپورٹ اور اس کے زبانی بیان میں تضادات پائے گئے ہیں۔ دہلی ہائیکورٹ کی بنچ نے کہاکہ اس مقدمہ میں مشتبہ طلبہ کے فون کالس اور مسیجس کے تجزیہ کے ضمن میں تضادات پائے گئے ۔ عدالت کو جب بتایا گیا کہ سی بی آئی کے ایک انسپکٹر نے موقف رپورٹ تیار کی ہے ۔ بنچ نے برہمی کے ساتھ کہا کہ 16 مئی کے حکم کے مطابق نجیب کی گمشیدگی کی تحقیقات اس مرکزی تحقیقات ادارہ کو منتقل کی گئی تھیں۔ چنانچہ کسی ایسے عہدیدار کی نگرانی میں تحقیقات کی جانی چاہئے جس عہدیدار کا رتبہ ڈی آئی جی سے کم نہ ہو ۔ عدالت نے سوال کیا کہ ’’یہ کس قسم کی تحقیقات ہیں؟ اگر کسی ڈی آئی جی کی نگرانی میں ایسی تحقیقات ہوتی ہیں تونگرانی کے بغیر تحقیقات کیسی ہوسکتی تھیں۔ کیا ڈی آئی جی وہ سب کچھ پڑھ چکے ہیں جو انسپکٹر نے رپورٹ میں لکھا ہے ۔ غالباً انھیں ( ڈی جی پی کو ) رپورٹ پڑھنے کا وقت نہیں مل سکا۔ انھیں ( ڈی جی پی کو ) یہاں آنے دیجئے اور پھر رپورٹ پڑھنے دیجئے ‘‘ ۔ اس بنچ نے مزید کہا کہ ’’موقف رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ اس سے بڑھ کر ( تفصیلات تو ) دہلی پولیس کی رپورٹ میں ہیں۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ ( سی بی آئی کی جانب ) سے دلچسپی کا مکمل فقدان اور مکمل لاپرواہی ہے ۔ اس میں کسی بھی صورت میں کوئی نتیجہ ہی نہیں ہے ۔ حتیٰ کہ کاغذ پر بھی کوئی نتیجہ نہیں ہے ‘‘ ۔ بنچ نے کہاکہ ’’سی بی آئی محض اپنے ہی رویہ کے سبب اس قسم کے ریمارکس اور تاثرات کو دعوت دے رہی ہے‘‘ ۔ ہائیکورٹ بنچ نے نجیب کی گمشیدگی کے پیچھے 9 مشتبہ طلبہ کے فون کالس اور مسیجس کے تجزیہ پر 14 نومبر تک رپورٹ پیش کرنے کی مہلت دی۔ ہائیکورٹ بنچ نے یہ تلخ و تند ریمارکس اُس وقت کئے گئے جب سی بی آئی نے اپنی موقف رپورٹ میں کہاکہ مشتبہ طلبہ کے کالس اور مسیجس کاتجزیہ کیا جارہا ہے لیکن ( سی بی آئی نے ) اپنے زبانی بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ کال ڈیٹا کا پہلے ہی تجزیہ کیا جاچکا ہے ۔ اس تضاد بیانی پر برہم بنچ نے سی بی آئی سے دریافت کیا ’’پھر آپ نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ تجزیہ میں آپ نے کیا پایا ہے‘‘۔ بنچ نے خبردار کیا کہ وہ ڈی آئی جی کو عدالت میں حاضر ہونے کی ہدایت دے گی ۔ سی بی آئی کی یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ پالی گراف ٹسٹ کیلئے مشتبہ طلبہ سے ان کی اجازت لینے کیلئے چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کے اجلاس میں عاجلانہ سماعت کی غرض سے درخواست دائر کرے۔ قبل ازیں یہ سماعت 24 جنوری 2018 ء تک ملتوی کردی گئی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT