Saturday , May 26 2018
Home / Top Stories / نجیب رزاق کے ملیشیا چھوڑنے پر امتناع ‘ ایمیگریشن محکمہ کی کارروائی

نجیب رزاق کے ملیشیا چھوڑنے پر امتناع ‘ ایمیگریشن محکمہ کی کارروائی

مختصر وقفہ لینے سابق وزیر اعظم کے ٹوئیٹ کے بعد عوام برہم ۔ ائرپورٹ پر اجتماع۔ فیصلے کا احترام کرنے نجیب اور اہلیہ کا اعلان
کوالا لمپور 12 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ملیشیا کے اسکانڈلس و اسکامس کا شکار سابق لیڈر نجیب رزاق کے سفر پر آج امتناع عائد کردیا گیا جبکہ یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ وہ انتخابات میں اپنی پارٹی کی بدترین شکست کے بعد ملک سے فرار ہونے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ان پر ایک بڑے معاشی اسکینڈل میں ملوث رہنے کا الزام ہے اور قیاس کیا جا رہا تھا کہ وہ قانونی کارروائیوں سے بچنے ملک سے فرار ہوسکتے ہیں۔ نجیب رزاق نے اپنی پارٹی کی شکست کے بعد ایک ٹوئیٹ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک مختصر سا وقفہ لینا چاہیں گے اور اپنے خاندان کے ساتھ وقت گذاریں گے ۔ ان کے ٹوئیٹ کے بعد ایک برہم ہجوم کوالا لمپور ائرپورٹ پر جمع ہوگیا اور یہاں سے اندر داخل ہونے والی گاڑیوں پر فقرے کستے رہے تھے اور انہیں روکنے کی کوشش بھی کی گئی تھی ۔ آن لائین یہ اطلاعات گشت کر رہی تھیں کہ نجیب رزاق اپنی شریک حیات روسما منسور کے ساتھ انڈونیشیا فرار ہونا چاہتے ہیں۔ نجیب رزاق کی پارٹی بریسان نیشنل کو گذشتہ ہفتے ہوئے انتخابات میں سابق وزیر اعظم مہاتر محمد کی پارٹی کی قیادت والے اتحاد کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ مہاتر محمد ایک وقت نجیب رزاق کے سرپرست مانے جاتے تھے ۔ انہوں نے نجیب رزاق کی آمرانہ روش کے خلاف مقابلہ کیا تھا اور کامیابی حاصل کی تھی ۔ یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ نجیب رزاق چونکہ ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل کا سامنا کر رہے ہیں ایسے میں وہ ملک سے فرار ہونے کی کوش کرینگے ۔ مہاتر محمد نے اپنے سابق ساگرد نجیب کے خلاف مقابلہ کیلئے اپنیسیاسی سبکدشی کا خاتمہ کیا تھا اور انہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ نجیب رزاق کے جس اسکینڈل میں ملوث رہنے کے الزامات ہیں ان کی تحقیقات کی جائیں گی ۔ نجیب رزاق اور ان کے ساتھیوں نے کسی مالیاتی خرد برد کی تردید کی ہے ۔ مہاتر محمد 92 سال کی عمر میں ملک کے وزیر اعظم بنے ہیں اور وہ دنیا کے سب سے معمر منتخب لیڈر ہیں۔ وہ ماضی میں دو دہوں تک ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ ان پر انتہائی سخت گیر حکمرانی کرنے کے الزامات بھی ہیں۔ آج صبح کی اولین ساعتوں سے ہی آن لائین چرچے چل رہے تھے اور ایک طیارہ کی تصویر بھی گشت کررہی تھی کہ نجیب اس میں روانہ ہونے والے ہیں۔ اس کے بعد ہی نجیب رزاق نے ٹوئیٹ کیا تھا کہ وہ اپنے افراد خاندان کے ساتھ ایک چھوٹا سے وقفہ لینا چاہتے ہیں اور کچھ آرام کے بعد آئندہ ہفتے واپس آجائیں گے ۔ جیسے جیسے اس قیاس آرائی کو تقویت ملتی گئی عوام میں برہمی بھی دیکھی گئی اور پھر ایمیگریشن حکام نے اعلان کردیا کہ نجیب رزاق اور ان کی شریک حیات کو ملک چھوڑنے کی جازت نہیںہے ۔ ڈائرکٹر جنرل ایمیگریشن ڈپارٹمنٹ مصطفر علی نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ ایمیگریشن محکمہ نے نجیب رزاق اور ان کی شریک حیات کے ملک چھوڑنے پر امتناع عائد کردیا ہے ۔نجیب نے اس کے بعد بھی ٹوئیٹ کیا کہ ایمیگریشن محکمہ نے انہیں مطلع کیا کہ وہ اور ان کے افراد خاندان کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے اور وہ اس حکم کا احترام کرتے ہیں ۔وہ اپنے افراد خاندان کے ساتھ ملک ہی میں رہیں گے ۔ قبل ازیں عوام کا ایک ہجوم ائرپورٹ پر جمع ہوگیا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ نجیب کو یہاں سے روانہ ہونے سے روک دیا جائے ۔ اس گیٹ پر بھی بھاری پولیس کو متعین کردیا گیا تھا جہاں سے یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ نجیب رزاق ائرپورٹ میں داخل ہونگے ۔ ایک سفید ویان وہاں پہونچی تھی جس کے شیشے کالے تھے ۔ ہجوم نے اس کو روک لیا اور اسے نقصان پہونچانے کی کوشش کی ۔ تاہم اندر موجود مسافرین نے جب کھڑکی کے شیشے اتارے اور عوام نے یہ اطمینان کرلیا کہ نجیب رزاق اس میں موجود نہیں ہیں تب ہی اس کو وہاں سے گذرنے کی اجازت دی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT