Friday , November 24 2017
Home / ہندوستان / نجیب کی گمشدگی کی تحقیقات ‘ سی بی آئی ٹیم جے این یو پہونچی

نجیب کی گمشدگی کی تحقیقات ‘ سی بی آئی ٹیم جے این یو پہونچی

مشتبہ افراد اور دیگر طلبا سے ملاقاتیں۔ گمشدگی سے قبل کے حالات سے آگہی کی کوشش
نئی دہلی 19 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) سی بی آئی کی ایک ٹیم نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا دورہ کرتے ہوئے یہاں کے طالب علم نجیب احمد کے لاپتہ ہوجانے کی تحقیقات شروع کیں۔ نجیب احمد 16 اکٹوبر 2016 کو اپنے ہاسٹل سے لاپتہ ہوگیا تھا ۔ سی بی آئی کی ٹیم ان الزامات کی تحقیقات کررہی ہے کہ نجیب احمد اور اے بی وی پی کے طلبا کے مابین ماہی ۔ مانڈوی ہاسٹل کے قریب جھگڑا ہوا تھا ۔ اس کے علاوہ سی بی آئی کی ٹیم ان حالات کا بھی جائزہ لے رہی ہے جن میں یہ جھگڑا ہوا تھا اور پھر بعد میں نجیب احمد لاپتہ ہوگیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ سی بی آئی ٹیم امکان ہے کہ مشتبہ افراد سے اور ان افراد سے بھی ملاقات کریگی جن کے نام اس مسئلہ میں سامنے آئے ہیں۔ نجیب کی والدہ فاطمہ نفیس نے حال ہی میں سی بی آئی عہدیداروں سے ملاقات کی تھی جو اس کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ انہوں نے نجیب کے اپنے ہاسٹل سے لاپتہ ہوجانے سے قبل کے حالات سے انہیں واقف کروایا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ نجیب احمد 13 اکٹوبر 2016 کو تعطیلات کے بعد ہاسٹل واپس آیا تھا ۔ 15 – 16 اکٹوبر کی درمیانی شب اس نے اپنی والدہ کو فون کرکے بتایا تھا کہ یہاں حالات ٹھیک نہیں ہے ۔ نجیب کے روم کے ساتھی نے بعد میں ان کی والدہ کو بتایا کہ نجیب ایک لڑائی میں زخمی ہوگیا ہے ۔ اس بات چیت کے بعد فاطمہ نے اترپردیش میں بلند شہر سے بس پکڑی اور وہ دوپہر میں دہلی پہونچی ۔ آنند وہار پہونچنے کے بعد انہوں نے نجیب سے فون پر بات کی تھی اور اس سے کہا تھا کہ وہ ہاسٹل میں ان سے ملاقات کرے ۔ انہوں نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ جب وہ ماہی ہاسٹل کے کمرہ نمبر 106 پہونچیں وہاں نجیب کا کوئی نام و نشان نہیں تھا ۔ جب دہلی پولیس نجیب کا پتہ چلانے میں ناکام ہوگئی تو فاطمہ نے دہلی ہائیکورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔

TOPPOPULARRECENT