Friday , November 24 2017
Home / ہندوستان / نربھئے کے والدین کی آزاد سے ملاقات ، حکومت پر قانون میں ترمیم پر زور

نربھئے کے والدین کی آزاد سے ملاقات ، حکومت پر قانون میں ترمیم پر زور

نئی دہلی۔ 21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) 16 ڈسمبر کی اجتماعی عصمت ریزی کی متاثرہ لڑکی کے والدین نے آج قائد اپوزیشن راجیہ سبھا غلام نبی آزاد سے ملاقات کرکے ان سے خواہش کی کہ بچوں کے ساتھ انصاف کا قانون جس کے ذریعہ 16 تا 18 سال کے بچوں کے بھی بڑوں کی طرح گھناؤنے جرائم کے ارتکاب کی صورت میں قابل سزاء قرار دیا جائے، کی منظوری کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی خواہش کی۔ کانگریس قبل ازیں حکومت کے اقدام کو ’’کھلی شرانگیزی‘‘ قرار دے چکی ہے اور نربھئے کے والدین نے کہا کہ وہ انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ حکومت پر آج بچوں کے ساتھ انصاف قانون کی منظوری کیلئے دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کل یہ بل راجیہ سبھا میں پیش کیا جانا متوقع ہے۔ قبل ازیں اب جبکہ سپریم کورٹ نے نابالغ ملزم کی رہائی کے خلاف عرضداشت کو مسترد کردیا ہے کہ 16ڈسمبر کی اجتماعی عصمت ریزی کی شکار لڑکی کے والدین نے عدالتوں پر ناکام ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے قانون میں ترمیم کیلئے آخر کتنی نربھیوں کی ضرورت پڑے گی ۔ عصمت ریزی کی شکار لڑکی کی والدہ آشا دیوی نے کہا کہ وہ اپنی لڑائی جاری رکھیں گی ۔ ہمیں توقع نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کوئی قابل قبول فیصلہ صادر کرے گی تاہم میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ملک کے قانون میں ترمیم کیلئے آخر میری لڑکی کی طرح کتنی لڑکیوں کو قربان کیا جائے گا ؟ عصمت ریزی کا شکار لڑکی کے والد بدری سنگھ پانڈے نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ عدالت کو عوامی تشویش کوئی پرواہ نہیں ہے ‘ ہماری لڑائی صرف نربھئے تک محدود نہیں ہے بلکہ  ہر اُس لڑکی کیلئے ہے  جو خود ایسے قانون کے زیر سایہ غیر محفوظ سمجھتی ہے ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ مجھے آگے بڑھنے سے روک نہیں سکتا ۔ میں اُس وقت تک لڑوں گا جب تک بل کو منظور کرتے ہوئے قانون میں ترمیم نہیں کی جاتی ۔ عدالت کا یہ کہنا ہے کہ قانون کے پاس اب نابالغ ملزم کو مزید سزا دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ‘ تاہم دیگر ملزمین کے خلاف فیصلہ ہنوز التواء میں کیوں ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT