Thursday , January 18 2018
Home / اضلاع کی خبریں / نرمل میں کسی بھی امیدوار کی کامیابی کا اقلیتی ووٹوں پر انحصار

نرمل میں کسی بھی امیدوار کی کامیابی کا اقلیتی ووٹوں پر انحصار

نرمل17 اپریل ( جلیل ازہر کی رپورٹ ) حلقہ اسمبلی نرمل و اطراف و اکناف کے علاقوں میں جہاں گرمی کی شدت ہے وہیں انتخابی مہم بھی شدت اختیار کرچکی ہے ۔ تمام سیاسی جماعتیں فی الوقت بلدی حدود میں توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی امیدوار کی کامیابی یا ناکامی بلدی حدود کے رائے دہندوں پر منحصر ہے ۔ نرمل کے مختلف وارڈز میں تمام امیدوار پید

نرمل17 اپریل ( جلیل ازہر کی رپورٹ ) حلقہ اسمبلی نرمل و اطراف و اکناف کے علاقوں میں جہاں گرمی کی شدت ہے وہیں انتخابی مہم بھی شدت اختیار کرچکی ہے ۔ تمام سیاسی جماعتیں فی الوقت بلدی حدود میں توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی امیدوار کی کامیابی یا ناکامی بلدی حدود کے رائے دہندوں پر منحصر ہے ۔ نرمل کے مختلف وارڈز میں تمام امیدوار پیدل دورہ کرتے ہوئے گھر گھر پہونچکر اپنی اپنی کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ کانگریس امیدوار مسٹر مہیشور ریڈی اپنے حامیوں کے ہمراہ گھر گھر پہونچکر یہ بتارہے ہیں کہ علاقہ تلنگانہ کی تشکیل کانگریس کی مرہون منت ہے ۔ جبکہ حصول تلنگانہ کے بعد ٹی آر ایس نے انضمام کے وعدے سے انحراف کیا ہے ۔ ریاست اور علاقوں کی ترقی صرف اور صرف کانگریس میں حکومت میں فراہم کرسکتی ہے ۔ لہذا رائے دہندوں کو چاہئے کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال کانگریس کے حق میں کریں ۔ مسٹر اے اندرا کرن ریڈی سابق ایم پی جو سماج وادی پارٹی کے امیدوار ہیں وہ بھی ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے اپنی سابقہ کارکردگی اور عوام کی ان سے اٹوٹ وابستگی پر پھر ایک بار خدمات کا موقع رائے دہندوں سے طلب کر رہے ہیں جبکہ کے سری ہری راؤ ٹی آر ایس امیدوار نے دعوی کیا ہے کہ علحدہ ریاست کی تشکیل صرف اور صرف کے سی آر کی کاوشوں کا ثمر ہے ۔ آج تمام سرکاری ملازمین نوجوان دیہی عوام اور اقلیتیں اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں اور کے سی آر کی قیادت میں ہی سنہرہ تہنگانہ کے قیام کے عوام منتظر ہیں ایک طرف آزادی کے بعد پہلی مرتبہ کسی سیاسی جماعت نے مجھ کو ٹکٹ دیا ہے میں تمام رائے دہندوں سے اپیل کرتا ہوں کہ مجھے ایک موقع دیا جائے ۔ یہ الفاظ مسٹر یسین یگ باہر کے ہے جنہو ںنے حلقہ اسمبلی نرمل سے تلگودیشم امدیوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں ۔ مسٹر بیگ کا کہنا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو کا سنہرہ دور واپس لانے کیلئے تلگودیشم سربراہ مسٹر چندرا بابو نائیڈو کے ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے مجھے کامیابی سے ہمکنار کرایا جائے ۔ ان قائیدن کی کوشش وعدے اپنی جگہ تاہم انتخابی مہم میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ رائے دہندے کسی ھبی قائد کو مایوس ہونے کا موقع ہی نہیں دے رہے ہیں جبکہ رائے دہندہ اپنا فیصلہ محفوظ کرچکا ہے کہ وہ کسی کے حق میں اپنی رائے دے گا ۔ چلچلاتی دھوپ کے باوجود انتخابی مہم عروج پر پہونچ گئی ہے ۔ ہر سیاسی جماعت کے قائدین ایسے حلقہ کو مثالی حلقہ بنانے کا وعدہ کرتے ہوئے عوام سے رجوع ہو رہے ہیں ۔ عوام بھی ان قائدین کے خیرمقدم میں کوئی کمی نہیں کر رہے ہیں تاہم ابھی رائے دہی کیلئے دو ہفتہ باقی ہیں ۔ مزید کیا تبدیلیاں آئیں گی ۔ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ یہ بات سینہ ٹھوک کر کہی جاسکتی ہے کہ نرمل حلقہ اسمبلی میں کسی بھی امیدوار کی کامیابی کا دارومدار صرف اور صرف اقلیتی ووٹوں پر منحصر ہے تاہم ہر قائد اپنی اپنی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT