Saturday , June 23 2018
Home / مضامین / نرم ’ہندو توا ‘ سے کام نہ چلے گا!

نرم ’ہندو توا ‘ سے کام نہ چلے گا!

’مودِتوا‘ کو شکست دینا ہو تو دستورِ ہند کے دشمن عناصر کی پیش قدمی روکیں

عرفان جابری
قارئین کرام! زیرنظر عنوان سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میری یہ تحریر کن خطوط پر بڑھنے والی ہے۔ مجھے اس موقع پر ایک شعر یاد آرہا ہے، ملاحظہ کیجئے ؎
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دِل کا
جو چیرا تو ایک قطرۂ خوں نہ نکلا
یہ شعر مجھے 67 سالہ نریندر دامودر داس مودی اور اُن کی حکومت پر بڑا صادق معلوم ہورہا ہے۔ میرے ہمعصر لوگ اور میرے مقابل معمر پیڑھی بخوبی جانتے ہوں گے کہ میں ایسا کیوں کہہ رہا ہوں۔ البتہ، نئی نسل بالخصوص اُن کیلئے جو آنے والے انتخابات میں پہلی یا دوسری مرتبہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے والے ہیں، مجھے یہاں کچھ پس منظر، کچھ تفصیل اور کچھ پیش نظر پر بھی روشنی ڈالنی پڑے گی۔
یہ سال 2001ء کی بات ہے جب گجرات میں چیف منسٹر کیشوبھائی پٹیل کی صحت گررہی تھی اور بی جے پی نے ریاستی اسمبلی کے ضمنی چناؤ میں چند نشستیں ہار دیئے تھے۔ پٹیل حکومت پر اقتدار کا بیجا استعمال، بدعنوانی (کرپشن) اور ناقص نظم و نسق کے الزامات عائد ہورہے تھے؛ نیز 2001ء میں گجراتی ضلع بھج کے تباہ کن زلزلے کے مابعد حالات سے نمٹنے میں کیشوبھائی زیرقیادت اڈمنسٹریشن کی ناقص کارکردگی نے اُن کا موقف بہت کمزور کردیا تھا۔ اُن دنوں مرکز میں اے بی واجپائی اور ایل کے اڈوانی کی سرکردگی میں بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت قائم تھی، اور نریندر مودی دہلی میں رہتے ہوئے پارٹی کے تنظیمی اُمور میں اپنا حصہ ادا کیا کرتے تھے۔ ’ایمرجنسی‘ کے دَور (1975-77ئ) سے آر ایس ایس میں کوئی نہ کوئی سرگرم رول ادا کرنے والے مودی کو حکومتی تجربے کے فقدان کی وجہ سے ابتداء میں واجپائی اور اڈونی نے انھیں کیشوبھائی کا نائب یعنی ڈپٹی چیف منسٹر گجرات بنانا چاہا۔ مگر مودی نے بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ وہ ’’گجرات کیلئے پوری طرح ذمہ دار رہیں گے یا پھر کوئی وابستگی نہیں‘‘۔ چنانچہ 3 اکٹوبر 2001 کو انھیں کیشو بھائی پٹیل کی جگہ چیف منسٹر گجرات بناتے ہوئے بی جے پی کو ریاست کے ڈسمبر 2002ء الیکشن کیلئے تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ 7 اکٹوبر کو مودی نے عہدہ کا حلف لیا۔ 24 فبروری 2002 کو وہ ریاستی مقننہ میں داخل ہوئے، جس کیلئے حلقہ راجکوٹ کے ضمنی چناؤ میں کانگریس کے اشوین مہتا کو زائد از 14 ہزار ووٹوں سے ہرایا۔
11 ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر (نیویارک) صفحۂ ہستی سے مٹ جانے کے 22 روز بعد گجرات حکومت کی باگ ڈور مودی کو سونپنے اور نئے چیف منسٹر کے رکن ریاستی مقننہ بننے کے محض تین روز بعد گودھرا کے قریب یاتریوں والی پاسنجر ٹرین کا جلنا اور چند گھنٹوں میں بڑے پیمانے پر گجرات فسادات کا وقوع ’’اتفاق‘‘ نہ سمجھنے کا میرے پاس کوئی دستاویزی ثبوت تو نہیں مگر اُس ’’فبروری‘‘ سے اِس ’’فبروری‘‘ تک 16 سالہ عرصہ پر نظر ڈالتا ہوں تو بی جے پی کے ایک تنظیمی عہدہ دار سے چیف منسٹر گجرات اور پھر وزیراعظم ہند کی حیثیت سے مودی کے تین سال نو ماہ کی خود ’’ملک کیلئے مایوس کن کارکردگی‘‘ پر افسوس ہے!

آر ایس ایس کی تعصب، تنگ نظری، اور تخریبی سوچ نے ہندوستان کو کافی زک پہنچایا ہے؛ اب بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں! ہندوستان میں ’سکیولرازم‘ کا مطلب مملکت کی جانب سے تمام مذاہب سے مساویانہ برتاؤ ہے۔ دستورِ ہند میں 1976ء کی 42 ویں ترمیم کے ساتھ دستور کے دیباچہ میں واضح ہوگیا کہ انڈیا ’secular‘ قوم ہے۔ تاہم، نہ دستورِ ہند اور نا ہی اس کے قوانین نے مذہب اور مملکت کے درمیان رشتے کی (واضح) تشریح کی ہے۔ شاید اسی پہلو کا دستورِ ہند کے اندرون ملک دشمن عناصر اپنے گھٹیا مفادات کی تکمیل کیلئے ’فائدہ‘ اٹھا رہے ہیں۔ اور انڈیا کو ’یک مذہبی‘ قوم بنانے کے سپنے سجا رہے ہیں جو میری دانست میں ناممکن ہے!

بی جے پی اور خصوصیت سے مودی کو بڑا زعم تھا کہ وہ ملک میں کانگریس کی بدعنوانی سے بھری طویل حکمرانی کے برخلاف ہندوستان کو فراڈ؍ اسکام سے پاک کریں گے ۔ ہم سب جانتے ہیں ایسی باتیں محض سیاسی دعوے ہوتی ہیں، ان میں سچائی کا تناسب بہت کم ہوتا ہے۔ واجپائی کی 1996ء سے مختلف میعادوں میں 2004ء تک این ڈی اے حکومت کو دیکھیں تو اسکینڈلوں؍ اسکامس کی فہرست طویل ہے۔ پھر بھی بی جے پی والے کھوکھلے دعوے کرتے رہے ہیں کہ بدعنوانی تو صرف کانگریس کی دین ہے۔ پھر دس سالہ یو پی اے حکمرانی کے بعد مودی نے بلند بانگ دعوؤں اور ’’گجرات ماڈل‘‘ کو ترقی کا نمونہ بتاتے ہوئے ہندوستانی عوام کو کس طرح دھوکہ دیا، اُس کا ثبوت ’احمقانہ نوٹ بندی‘ اور ’ناقص جی ایس ٹی‘ جیسے اقدامات ہیں ، جو کیا کم تھے کہ اب پنجاب نیشنل بینک کے 11,400 کروڑ روپئے کے فراڈ نے رہی سہی کسر پوری کرتے ہوئے مودی حکومت میں شفافیت و دیانت داری کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔

قوم کو موجودہ طور پر درپیش مسئلہ یہ ہے کہ بی جے پی اور کانگریس کے علاوہ کوئی ٹھوس، قابل بھروسہ، لائق متبادل دستیاب نہیں اور نا ہی مستقبل قریب میں ایسا ہوتا نظر آتا ہے۔ ان حالات میں چند ریاستوں میں بعض علاقائی پارٹیوں کے سواء ہر جگہ ووٹروں کو بی جے پی یا کانگریس میں ہی کسی کو منتخب کرنا ہے۔ ایک دو ماہ میں کرناٹک اسمبلی کے الیکشن ہونے والے ہیں جہاں سدارامیا کی کانگریس حکومت نے مجموعی طور پر اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ اس لئے کرناٹک چناؤ میں ہر سکیولر ووٹر کانگریس اقتدار کی برقراری چاہے گا۔ یہ الیکشن کی رواں سال کے اواخر بی جے پی حکمرانی والی تین ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات کا رجحان طے کرنے کے تناظر میں اہمیت ہے، اور پھر وہاں سے اگلے جنرل الیکشن کے تعلق سے بہت کچھ اشارے مل جائیں گے۔
جہاں تک مرکزی حکومت کا معاملہ ہے، ہمیں بی جے پی اور کانگریس زیرقیادت دو گروپوں میں سے ہی کسی کو چننا پڑے گا۔ نہرو۔ گاندھی قیادت والی کانگریس حکومتوں کے بعد1992ء میں ’’بابری مسجد سانحہ‘‘ ملکی سیاست میں فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ پی وی نرسمہا راؤ کے دَور میں مرکزی حکومت نے ملکی معیشت کیلئے (ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سرکردگی میں) جتنے اچھے اور دور رَس کام کئے، ملکی سیاست و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو اُتنا ہی شدید نقصان پہنچایا، یہاں تک کہ کانگریس پارٹی کو ملک بھر میں بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ 1980ء کے دہے میں وجود پانے والی بی جے پی دو ایم پیز سے آگے بڑھ کر (30 سال میں پہلی بار) 545 رکنی لوک سبھا کے الیکشن میں سادہ اکثریت کے حصول میں کامیاب ہوگئی، جس کا کریڈٹ ’مودِتوا‘ یا سادہ اصطلاح میں ’مودی لہر‘ کو دیا گیا۔ لیکن پونے چار سالہ ’مودی کارگزاری‘ دیکھنے کے بعد یہ حکومت عوام پر ایسا بوجھ بن چکی ہے کہ اسے مزید ایک نئی میعاد کیلئے جھیلنا دوبھر ہے۔

نئے صدر کانگریس راہول گاندھی کو حالیہ گجرات الیکشن کے پس منظر میں وزیراعظم مودی کا متبادل باور کرایا جارہا ہے۔ راہول نے نرم ’ہندتوا‘ کی پالیسی اختیار کررکھی ہے۔ وہ انتخابات کے موقع پر مذہبی مقامات کو پہلے بھی جاتے تھے مگر گجرات سے مندروں کے درشن اتنے بڑھا دیئے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی والوں کو ’غصہ‘ آرہا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ صرف نرم ہندتوا کی پالیسی سے ہندوستان کا بیڑہ پار ہونے والا نہیں۔ اگر مودتوا کو روکنا ہے تو اپوزیشن کو بہت مضبوط حکمت عملی کے ساتھ انتخابی میدان سنبھالنا پڑے گا۔ لیڈروں کو سڑکوں پر اُترنا پڑے گا جو حقیقی قائدین کا وصف ہوتا ہے۔ صرف بیان بازی اور کھوکھلے نعرے دینے سے نہ عوام کا بھلا ہوگا اور نا ہی انڈیا کا۔ جس طرح ’’اب کی بار مودی سرکار‘‘ اور ’’اچھے دن آئیں گے‘‘ کے نعروں نے بی جے پی کو پھر ایک بار مرکزی اقتدار تک ضرور پہنچایا لیکن نہ بے روزگاروں کو روزگار نصیب ہوا، نہ کرپشن کم ہوا، نہ بیرون ملک جمع کالا دھن واپس لایا جاسکا، نہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی بڑھی اور نا ہی دیش کی ترقی ہوئی (جی ڈی پی میں گراوٹ آئی ہے) ؛ ٹھیک اسی طرح صرف ’’سوٹ بوٹ کی سرکار‘‘ اور ’’گبرسنگھ ٹیکس‘‘ جیسے نعروں کے ذریعے حکومت پر تنقید، نیز مودی اقتدار سے اپنے وقت پر ووٹروں کی ناراضگی راہول زیرقیادت کانگریس کو بھی بڑی انتخابی کامیابی دلائے گی … لیکن راہول اور کانگریس اور تمام سکیولر اپوزیشن پارٹیاں اب بھی اگر یہ نہ سمجھیں کہ ہندوستان اور ہندوستانی عوام کا بھلا مرکز اور ریاستوں میں اقتدار پر باری باری پارٹیوں کی تبدیلی سے نہیں ہوگا بلکہ ملک بھر کے مختلف گوشوں میں دستورِ ہند کے منافی روِش کو بدلنا ہوگا، دستور کے دشمن عناصر کی سرکوبی کرنی ہوگی۔ اقلیتوں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے انھیں اُن کی آبادی کے تناسب سے جائز حقوق دینے ہوں گے۔ تب ہی ہم درخشاں انڈیا کو حقیقت بنا پائیں گے!
[email protected]

TOPPOPULARRECENT