Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / نریندرمودی کا اتوار کو دورۂ امریکہ ، ڈرون کی خریداری معاہدہ متوقع

نریندرمودی کا اتوار کو دورۂ امریکہ ، ڈرون کی خریداری معاہدہ متوقع

وال مارٹ ، ایپل اور دیگر 20 بڑی امریکی کمپنیوں کے سی ای اوز سے بھی ملاقات، سالانہ 12 ملین روزگار کے مواقع
نئی دہلی ؍ واشنگٹن 22 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کا 25 جون بروز اتوار سے امریکہ کا دورہ شروع ہورہا ہے۔ اِس دوران وہ واشنگٹن میں پہلی مرتبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے اور بحریہ کے نہایت عصری ڈرون کی خریداری سے متعلق ہندوستان کی درخواست کو امریکہ کی منظوری کے لئے زور دیں گے۔ 22 غیر مسلح ڈرونس کی خریداری کیلئے نئی دہلی میں معاہدے کئے گئے تھے جس پر عمل آوری کی توقع کی جارہی ہے۔ یہ ڈرونس خریدنے کا معاہدہ سابق صدر امریکہ بارک اوباما کے تحت ہند ۔ امریکی دفاعی تعلقات میں سے ایک اہم معاہدہ ہے لیکن ٹرمپ نظم و نسق کے تحت اِس معاہدہ کو تعطل کا شکار بنادیا گیا، ٹرمپ نے ایشیائی حریف ملک چین سے دوستی کرنے کے لئے شمالی کوریا کے نیوکلیر پروگرام پر قابو پانے مدد طلب کی تھی۔ نریندر مودی کے اتوار سے شروع ہونے والے دو روزہ دورہ واشنگٹن کے موقع پر امریکہ کی 20 بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز سے بھی ملاقات کا پروگرام طے ہے۔ اِن بڑی کمپنیوں میں وال مارٹ، ایپل بھی شامل ہیں۔ امریکی کمپنیوں کی سی ای اوز سے بات چیت کے دوران آئندہ ماہ سے شروع ہونے والے جی ایس ٹی پروگرام کے ذریعہ حاصل ہونے والے معاشی فوائد پر بھی غور و خوض کیا جائے گا۔ آئی ٹی صنعت پر ویزا کی نئی پابندیوں کے اثرات کے علاوہ ٹیکنالوجی سی ای اوز کے ساتھ بات چیت کے دوران دیگر اُمور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ واشنگٹن میں امریکہ کے تقریباً 20 بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز اور وزیراعظم کے درمیان بات چیت کو اہمیت دی جارہی ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ اِن کمپنیوں کے ساتھ روزگار کے محاذ کو وسعت دینے کی کوشش کی جائے گی اور توقع ہے کہ سالانہ 12 ملین روزگار کے تقریباً 30 ، 40 فیصد روزگار کو پورا کردیا جائے گا۔ امریکی تعاون کے ذریعہ روزگار پیدا کرنے والے نئے مواقع فراہم کئے جانے کی توقع ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی 26 جون کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے اور H1-B ویزا قواعد میں امکانی تبدیلیوں پر ہندوستان کی تشویش سے بھی ٹرمپ کو واقف کروائیں گے۔ دہشت گردی کے بشمول دیگر اُمور پر بھی بات چیت ہوگی۔ ہندوستان کو پھر ایک مرتبہ یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ امریکی حکام کے سامنے H1-B کا مسئلہ اُٹھائے اور اِن سے کہے کہ وہ ہندوستانی کمزوریوں کے معاملے میں فراخدلی کا مظاہرہ کریں۔ واضح رہے کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کو شمالی کوریا کے نیوکلیر پروگرام پر قابو پانے کی بیجنگ کی مدد لینا پڑرہا ہے، اِس خصوص میں اپریل میں ٹرمپ نے صدر چین ژی ژنگ پنگ سے ملاقات کی تھی۔ جس کے باعث نئی دہلی میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہوئی تھی۔ اِس سے ظاہر ہونے لگاتھا کہ اب ہندوستان امریکہ کے لئے طویل ترجیحی ملک نہیں رہے گا لیکن بحریہ کو غیر مسلح نگرانکار ڈرونس حاصل ہوتے ہیں تو وہ بحر ہند پر نظر رکھنے کے قابل ہوجائے گا۔ ہندوستان ڈرون خریدنے والا پہلا ملک ہوگا جو ناٹو اتحاد کا رکن نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT