Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / نریندر مودی ، یوگا کرنے سے مہنگائی سے چھٹکارا نہیں ملتا : شیوسینا

نریندر مودی ، یوگا کرنے سے مہنگائی سے چھٹکارا نہیں ملتا : شیوسینا

پارٹی ترجمان ’سامنا‘ میں اداریہ، مہاراشٹرا میں زعفرانی اتحاد کی کشیدگی میں شدت، طلاق لینے کا مشورہ

ممبئی 23 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی پر ایک اور تنقید کرتے ہوئے شیوسینا نے آج کہاکہ یوگا کو ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بنانا ایک قابل قدر کوشش ہے لیکن اس قدیم اور موروثی ورزش سے مہنگائی پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ شیوسینا نے وزیراعظم مودی سے استفسار کیاکہ آیا نریندر مودی یوگا کرنے سے مہنگائی سے چھٹکارا ملے گا۔ اس ورزش سے عوام افراط زر کے درد اور تکلیف سے راحت نہیں پاسکتے۔ نریندر مودی نے دنیا بھر کے 130 ملکوں کو یوگا کرانے کے لئے زمین پر لٹادیا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ انھوں نے یوگا کے نام پر ساری دنیا کو زمین پر لادیا۔ اب مودی کو چاہئے کہ وہ پاکستان کو بھی ہمیشہ کے لئے زمین پر لاکر ٹکادیں اور یہ صرف ہتھیاروں کی مدد سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان کو مستقل ’’سہواسن‘‘ کی ضرورت ہے (یوگا کا ایک آسن جس میں آدمی زمین پر پوری طرح چمٹ جاتا ہے)۔ شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا میں پارٹی نے وزیراعظم کی عالمی یوم یوگا میں شرکت پر تنقید کی اور کہاکہ اس طرح زمین پر لیٹ جانے سے قیمتوں میں کمی نہیں آتی۔ عوام افراط زر سے چھٹکارا نہیں پاتے بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔ اخبار میں لکھا ہے کہ غیر بی جے پی ریاستوں کے چیف منسٹروں نے مودی کی مخالفت کی ہے

اور کہا ہے کہ یوگا کے نام پر وہ عوام کی توجہ مہنگائی کے اثرات سے ہٹانا چاہتے ہیں جبکہ ساری حقیقت یہی ہے کہ یوگا ایک سائنس ہے اس کی مخالفت نہیں کی جاتی مگر مودی جو کررہے ہیں وہ یوگا کے ساتھ ساتھ عوام کو احمق بھی بنارہے ہیں۔ یوگا کے ذریعہ بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن روز مرہ زندگی میں یوگا عوام پر پڑنے والے مہنگائی کے بوجھ سے چھٹکارا نہیں دلاتا۔ افراط زر اور کرپشن کا جو درد ہے وہ یوگا سے نہیں جائے گا۔اس سلسلہ میں یہ بہتر ہوگا کہ وزیراعظم مودی اس سلسلہ میں وضاحت کریں اور عوام کو تفصیلات بتائیں۔ اقوام متحدہ نے گزشتہ سال یوگا کو عالمی درجہ دیتے ہوئے ہر سال 21 جون کو یوم عالمی یوگا منانے کا اعلان کیا تھا۔ ہندوستان اور دنیا بھر کے ملکوں کے عوام کو مختلف طریقوں سے زمین پر لیٹ کر یوگا کرتے دیکھا گیا اور دوسرا عالمی یوم یوگا مناتے ہوئے وزیراعظم مودی نے بھی کہاکہ یوگا ایک مذہبی عمل نہیں ہے۔ شیوسینا جو مہاراشٹرا اور مرکز میں بی جے پی زیرقیادت حکومت کی حلیف پارٹی ہے، مہاراشٹرا میں اکٹوبر 2014 ء کو اتحاد ٹوٹ جانے کے بعد سے شدید نقاد بنی ہوئی ہے۔ نشستوں کی تقسیم کے مسئلہ پر دونوں پارٹیوں میں اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اب یہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف الزامات و جوابی الزامات عائد کررہی ہیں۔ حال ہی میں شیوسینا نے بیرون ملک مودی کے ریمارک پر تنقید کی تھی کہ مودی نے کہا تھا کہ ہندوستان کرپشن کی وباء سے متاثر ہوتا جارہا ہے۔ اس طرح کے ریمارکس سے بیرون ہند ملک کی شبیہ متاثر ہوئی ہے۔ بی جے پی کے ساتھ اپنے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے شیوسینا نے کئی مرتبہ الزامات عائد کئے ہیں۔ پارٹی قائدین کے درمیان لفظی جھڑپ ہورہی ہے۔ شیوسینا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان مادھو بھنڈاری کے مضمون میں کہا گیا تھا کہ اگر شیوسینا کو بی جے پی سے کوئی اعتراض ہے تو اسے ’’طلاق‘‘ لے لینی چاہئے۔ مہاراشٹرا بی جے پی یونٹ کے پندرہ روزہ اخبار میں مضمون لکھتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان نے لکھا تھا کہ آپ طلاق کب لے رہے ہیں؟ مسٹر راوت ! مادھو بھنڈاری نے شیوسینا کے لیڈر راوت کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ کو اتحاد پسند نہیں ہے تو اس کو توڑ کیوں نہیں دیتے اور کب طلاق لی جارہی ہے، اس کا اعلان کریں۔

TOPPOPULARRECENT