Sunday , June 24 2018
Home / اداریہ / نریندر مودی اور آزمائشیں

نریندر مودی اور آزمائشیں

اے رہرو فرزانہ رستے میں اگر تیرے گلشن ہو تو شبنم ہو، صحرا ہو تو طوفاں ہو نریندر مودی اور آزمائشیں

اے رہرو فرزانہ رستے میں اگر تیرے
گلشن ہو تو شبنم ہو، صحرا ہو تو طوفاں ہو
نریندر مودی اور آزمائشیں
بی جے پی لیڈر نریندر مودی کا ہندوستان کے وزیرا عظم بننے کا خواب بالآخر پورا ہونے جارہا ہے ۔ نریندر مودی کی قیادت میں 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے سابقہ ریکارڈز کو توڑ دیا ہے اور بی جے پی کو خود اپنے دم پر اکثریت حاصل ہوگئی ہے ۔ حالانکہ این ڈی اے کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑا گیا تھا لیکن بی جے پی اپنے دم پر اکثریت حاصل کرچکی ہے اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اب شائد ہندوستان میں مخلوط سیاست کا دور ختم ہونے والا ہے ۔ اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ نریندر مودی وزیر اعظم بننے کے بعد حکومت کے کام کاج کس انداز سے چلاتے ہیں۔ مودی نے انتخابی مہم کے دوران جس طرح سے رائے دہندوں کو رجھانے کی کوشش کی تھی اور جو وعدے کئے تھے اور ملک کو ترقی دینے کے جو عزائم ظاہر کئے تھے ایسا لگتاہے کہ ہندوستان کے عوام نے اس پر یقین کرتے ہوئے ان کے حق میں ووٹ دیا ہے ۔ خاص طور پر اس بار نوجوان رائے دہندوں نے مودی کو ووٹ دیتے ہوئے انہیں اقتدار سونپا ہے ۔ اس بارپہلی مرتبہ ووٹ دینے والے رائے دہندوں کی زیادہ تعداد بھی مودی کے حق میں دکھائی دی ۔ نوجوان رائے دہندے ‘ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کی مہم سے متاثر ہوتے نظر نہیں آئے اور وہ ترقی کے حق میں ووٹ دینا چاہتے تھے شائد اسی لئے مودی کے نعروں پر انہوں نے یقین کا اظہار کیا ہے ۔ انتخابات میں کامیابی اور وزارت عظمی سنبھالنے کے بعد نریندر مودی کیلئے آزمائشوں کا دور شروع ہوگا ۔مودی کا ٹریک ریکارڈ پہلے سے ٹھیک نہیں ہے ۔ جہاں انہیں گجرات کے 2002 کے مسلم کش فسادات کیلئے ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے وہیں گجرات کی ترقی کے دعوے بھی درست نہیں کہے جاسکتے ۔ اعداد و شمار کا الٹ پھیر ان کا خاصہ رہا ہے اور بحیثیت وزیر اعظم انہیں اس طرز عمل کو ترک کرنا ہوگا ۔ مودی کے مخالف مسلم امیج کو دیکھتے ہوئے ہی آر ایس ایس نے انتخابی نتائج کے فوری بعد ایک بیان دیتے ہوئے انہیں ہدایت دی تھی کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی اختیار کریں ۔

دیکھنا یہ ہے کہ مودی اس ہدایت پر کس حد تک عمل کرتے ہیں کیونکہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے کبھی بھی مسلمانوں کے تئیں گوشے کا اظہار تک نہیں کیا تھا حالانکہ بی جے پی کے دوسرے قائدین نے ایسی کوشش کی تھی ۔ خود آر ایس ایس نے بھی حالانکہ مودی کو تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی ہدایت دی ہے لیکن یہ بھی یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ آر ایس ایس کی جانب سے مودی پر یہ دباؤ ڈالا جائیگا کہ وہ ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کو یقینی بنانے اقدامات کریں۔ ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جائے اور جموں و کشمیر کو خصوصی موقف دینے والے دستور ہند کے دفعہ 370 کو حذف کیا جائے ۔ یہ ار ایس ایس کی بنیادی پالیسیاں اور نظریات ہیں اور سکیولر ہندوستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے نریندر مودی کو اس سلسلہ میں پڑنے والے دباؤ کو قبول کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کو مسلمان کبھی قبول نہیں کرینگے اور یہ مسئلہ عدالت میں زیر التوا ہے ۔ اس کیلئے اگر کوئی اور راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو یہ مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا ۔ ساتھ ہی یکساں سیول کوڈ کا نعرہ بھی دیرینہ ہے اور اس پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے اور بغیر اتفاق رائے کہ اس پر پیشرفت کرنا درست نہیں ہوگا ۔ جہاں تک جموں و کشمیر کو خصوصی موقف کا سوال ہے وہ اس ریاست کیلئے ضروری ہے اور اگر اس موقف کو ختم کیا جاتا ہے تو مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششوں میں مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہے ۔ اس سے بھی نریندر مودی کو گریز کرنا چاہئے ۔ ان امور پر اتفاق رائے کے بغیر کی جانے والی کوئی بھی کارروائی ‘ مثبت نتائج حاصل نہیں کرسکے گی ۔ آر ایس ایس یقینی طور پر اس سلسلہ میں مودی پر دباؤ میں اضافہ کریگی لیکن نریندر مودی کو ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت میں اس دباؤ کو تسلیم کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ یہ ان کی قانونی اور دستوری ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔ نریندر مودی ملک کے کروڑہا مسلمانوں میں انتہائی ناقابل قبول شخصیت ہیں اور ان کا ٹریک ریکارڈ ہی اس کا ذمہ دار ہے ۔ساری انتخابی مہم کے دوران انہوں نے کبھی یہ تاثر نہیں دیا کہ وہ ملک کے مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔

جب انتخابات میں کامیابی کے رجحانات سامنے آئے تو انہوں نے ٹوئیٹر پر تحریر کیا کہ ’’ ہندوستان جیت گیا ہے ‘‘ ۔ مودی کو بحیثیت وزیر اعظم سارے ہندوستان کو ہی ساتھ لے کر چلنا چاہئے ۔ انہیں مسلمانوں میں جو یکا و تنہا کردئے جانے کا احساس ہے اس کو دور کرنے کیلئے عملا کوشش کرنی ہوگی جو اس ملک کے وزیراعظم کی ذمہ داری ہے۔ اگر واقعی مودی ملک کو ترقی دلانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ان کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ ان کی کامیابی یہ ہوگی کہ وہ ترقی کے ثمرات سے ملک کے تمام طبقات اور برادریوں کو مستفید ہونے کا موقع فراہم کریں۔ مسلمانوں کے تعلق سے برتا جانے والا امتیاز ختم کیا جائے اور ان میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ ملک کی حکومت ان کے ساتھ ہے ۔ ترقی کے معاملہ میں اعداد و شمار کے الٹ پھیر سے کام نہیں چلنے والا کیونکہ ملک کے عوام حقیقی معنوں میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ وزارت عظمی سنبھالنے کے بعد مودی کی اصل آزمائشوں کا دور شروع ہوگا اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ ان آزمائشوں میں کتنے کھرے اترتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT