Friday , September 21 2018
Home / ہندوستان / نریندر مودی حکومت امیروں کی دوست : راہول

نریندر مودی حکومت امیروں کی دوست : راہول

نئی دہلی۔20اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) دارالحکومت دہلی میں کسان ریلی سے خطاب کے ایک دن بعد کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی آج پارلیمنٹ میں بھی ایکشن میں دیکھے گئے اور انہوں نے حصول اراضیات بل پر وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ این ڈی اے حکومت امیروں کی دوست ہے ۔ لوک سبھا میں زرعی صورتحال پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے

نئی دہلی۔20اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) دارالحکومت دہلی میں کسان ریلی سے خطاب کے ایک دن بعد کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی آج پارلیمنٹ میں بھی ایکشن میں دیکھے گئے اور انہوں نے حصول اراضیات بل پر وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ این ڈی اے حکومت امیروں کی دوست ہے ۔ لوک سبھا میں زرعی صورتحال پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے راہول گاندھی نے بی جے پی زیر قیادت حکومت پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھا اور کہا کہ یہ حکومت کارپوریٹس اور دولت مند طبقہ کیلئے کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران مودی کے ’’ اچھے دن ‘‘ کے تیقن کا مضحکہ اڑایا اور کہا کہ اچھے دن والی حکومت کسانوں کو اقل ترین امدادی قیمت اور زرعی کریڈٹ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے گیہوں پر اقل ترین امدادی قیمت میں صرف دس روپئے کا اضافہ کیا ۔ یو پی اے حکومت کے دوان زرعی ترقی کی شرح 4.2 فیصد تھی جو این ڈی اے دور حکومت میں یہ صرف 2.6 فیصد ہوگئی ہے ۔ راہول نے بی جے پی پر موافق امیر ہونے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ یہ حکومت امیروں کی اور کارپوریٹس کی حکومت ہے ۔ یہ حکومت سوٹ اور بوٹ کی حکومت کی ہے ۔ راہول کا اشارہ وزیر اعظم مودی کی جانب سے صدر امریکہ بارک اوباما کے دورہ ہند کے موقع پر ذیب تن کئے گئے مہینگے سوٹ کی سمت تھی ۔ انہوں نے وزیر اعظم کو تجویز پیش کی کہ وہ ملک کے غریبوں کے تعلق سے سوچنا شروع کردیں۔ وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ امیروں کی بجائے غریبوں کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ اراضیات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس لئے کارپوریٹس چاہتے ہیں کہ اراضیات حاصل کریں ایسے میں حکومت کسانوں کی اراضی حاصل کرنا چاہتی ہے اور آرڈیننس کا سہارا لے رہی ہے ۔ حکومت پر تنقید میں کہا کہ کابینہ میں صرف وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری دل کی بات کہتے ہیں۔ نتن گڈکری نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف خدا پر اور حکومت پر یقین نہ رکھیں۔ ان کے اس حوالہ پر ایوان میں ہنگامہ شروع ہوگیا ۔ راہول نے بی جے پی ارکان سے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ سچائی ہے پھر کیوں شور کیا جا رہا ہے ۔ وزیر پارلیمانی امور وینکیا نائیڈو کو مداخلت کرنی پڑی اور کہا کہ ہرکسی کو ایوان میں اظہار خیال کرنے کا حق حاصل ہے ۔ قبل ازیں حکومت نے حصول اراضی آرڈیننس کی ایک نقل ایوان میں پیش کی‘ جس کی مزاحمت متحدہ اپوزیشن نے کی ۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس نے واک آؤٹ بھی کیا ۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی اُمور راجیو پرتاپ روڈی نے جیسے ہی آرڈیننس کی نقل ایوان میں پیش کی جو صدرجمہوریہ کی جانب سے 3اپریل کو جاری کیا گیا ہے ایوان میں شوروغل مچ گیا ۔ کانگریس ‘ بائیںبازو ‘ ترنمول کانگریس ‘ سماج وادی پارٹی ‘ آر جے ڈی اور دیگر ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے اور نعرہ بازی کرنے لگے ۔ شوروغل پر اسپیکر سمترا مہاجن اجلاس دیڑھ گھنٹے تک ملتوی کرنے پر مجبور ہوگئیں لیکن ایوان کا اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ کانگریس و ترنمول کانگریس ارکان نے بعد ازاں واک آؤٹ کیا ۔

TOPPOPULARRECENT