Saturday , November 18 2017
Home / اداریہ / نریندر مودی پر رشوت کا الزام

نریندر مودی پر رشوت کا الزام

ہر قدم پر مجھے ملتے ہیں خود اپنے ہی نشاں
ہمسفر، دوری منزل کبھی ایسی تو نہ تھی
نریندر مودی پر رشوت کا الزام
کانگریس نائب صدر راہول گاندھی نے اب راست نریندر مودی پر رشوت کا الزام عائد کردیا ہے ۔ راہول کا کہنا ہے کہ مودی جس وقت گجرات کے چیف منسٹر تھے انہوں نے برلا اور سہارا انڈیا جیسی کمپنیوں سے کروڑ ہا روپئے حاصل کئے تھے ۔ مودی کے خلاف یہ الزام شائد پہلی مرتبہ عائد کیا گیا ہے کہ انہوںنے شخصی طور پر رقومات حاصل کی تھیں۔ راہول گاندھی نے ان الزامات کی تائید میں کچھ دستاویزات بھی پیش کئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ خود ان کمپنیوں کے دستاویزات میں مودی کی گئی ادائیگیوں کا تذکرہ موجود ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ سارے ملک میں بدعنوانیوں کے خاتمہ کے نام پر کرنسی نوٹوں کا چلن بند کردیا گیا ہے کانگریس کے نائب صدر کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف اس طرح کے الزامات عائد کرنا اہمیت کا حامل ہے ۔ راہول گاندھی یہ کہہ رہے تھے کہ اگر انہیں پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرنے کا موقع دیا جاتا ہے اور وہ وہاں منہ کھولیں گے تو زلزلہ آجائیگا ۔ اگر راہول گاندھی کا حوالہ مودی کے خلاف انہیں الزامات کی سمت تھا تو شائد وہ بہت زیادہ جوش میں آگئے تھے لیکن یہ حقیقت ہے کہ مودی کا امیج جس طرح سے پارٹی اور میڈیا کی جانب سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اس کے پیش نظر راہول کے الزامات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ۔ بی جے پی قائدین اور خاص طور پر مودی کی یہ روایت رہی یہ کہ وہ خود پر اٹھنے والی انگلیوں کو چٹکلے بازی کے ذریعہ ہنسی مذاق کا موضوع بناکر اصل مسئلہ سے عوام کی توجہ ہٹانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اب رشوت کے الزامات کے جواب میں بھی مودی نے یہی طریقہ اختیار کیا ہوا ہے ۔ انہوں نے راہول کے تقریر کرنے اور بات کرنے کے قابل ہوجانے سے متعلق ریمارکس کرتے ہوئے اپنی ریلی کے شرکا کو ہنسی مذاق کا موقع تو فراہم کردیا لیکن انہوں نے جو الزامات عائد کئے تھے ان کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا ۔ یہ ایک مخصوص حکمت عملی ہوسکتی ہے کہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹادی جائے اور چٹکلے بازی یا لطیفوں کے ذریعہ بات کا رخ ہی بدل دیا جائے ۔ یہ سیاسی جماعتوں کی روش ہمیشہ سے رہی ہے ۔ الزامات کی وضاحت کی بجائے رخ بدلنا سیاسی جماعتوں کا شیوہ رہا ہے ۔
لیکن مودی چونکہ ملک کے وزیر اعظم ہیں اس لئے ایسی چٹکلے بازی سے انہیں گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں اپنے اور حکومت کے امیج کو پاک و صاف رکھنے کیلئے جو الزامات عائد کئے گئے ہیں ان کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر یہ الزامات غلط ہیں تو پھر ان دستاویزات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جو راہول گاندھی پیش کر رہے ہیں۔ اگر وہ بھی غلط ہیں تو پھر یہ سب کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی گنجائش اور جواز بھی پیدا ہوجاتا ہے ۔ مودی کو اپنے امیج کو پاک و صاف رکھنے کیلئے یہ سب کچھ کرنے کی ضرورت ہے لیکن ان کا جو انداز ہے اور جس انداز سے انہوں نے راہول کے تعلق سے شخصی تبصرے کئے ہیں ان سے یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ وہ ان الزامات کا جواب دیں۔ ایسا نہیں ہے کہ راہول گاندھی ایک غیر ذمہ دار شخص ہوں جن کی ہر بات کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے ۔ وہ ایک ایسی جماعت کے نائب صدر ہیں جس نے کئی دہوں تک اس ملک پر حکومت کی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ فی الحال یہ جماعت اپنے سیاسی وزن سے محروم ہو لیکن جو الزامات عائد کئے جارہے ہیں انہیں اس طرح سے ہنسی مذاق کا موضوع بناکر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ملک کے عوام کی اکثریت بھی ان الزامات کی سچائی جاننے کیلئے بے چین ہوسکتی ہے ۔ یہ بھی صحیح ہے کہ یہ الزامات اس وقت سے متعلق ہیں جب نریندر مودی ایک ریاست کے چیف منسٹر تھے لیکن اب چونکہ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں اس لئے انہیں اب مزید ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں اس طرح کے الزامات کا جواب دینا چاہئے ۔
نریندر مودی کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو خاطر میں نہیں لاتے ۔ صرف اپنا مطمع نظر ان کے سامنے ہوتا ہے ۔ وہ مخالفین کو برداشت کرنے کو تیار نہیں رہتے ۔ یہ ان کا اپنا شخصی مزاج ہوسکتا ہے لیکن دنیا کی ایک بڑی جمہوریت کے وزیر اعظم رہتے ہوئے انہیں عوامی زندگی میں شفافیت کی مثال پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ جمہوریت میں مخالفانہ رائے کو اہمیت دینا کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اپوزیشن کی صفوں سے اٹھنے والی آواز پر کان دھرنا پڑتا ہے ۔ اس کا جواب دینا پڑتا ہے اور انہیں اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے ۔ یہ بات ان کے شخصی مزاج یا طرز کارکردگی کی نہیں بلکہ ملک کے جمہوری اصولوں سے بھی تعلق رکھتی ہے اور جمہوریت اور اس کی روایات کی پاسداری کرنا سب کی ذمہ داری ہے ۔ بحیثیت وزیر اعظم ہندوستان سب سے زیادہ ذمہ داری خود نریندر مودی کی بھی بنتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT