Sunday , September 23 2018
Home / سیاسیات / نریندر مودی پر قول و عمل کے تضاد کا الزام

نریندر مودی پر قول و عمل کے تضاد کا الزام

نئی دہلی 21 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) بائیں بازو کی پارٹیوں نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر قول اور عمل کے تضاد کا الزام عائد کیا اور کہاکہ وہ اپنی انتخابی تقاریر اور لفاظی کے خمار کا ہنوز شکار ہیں۔ سی پی آئی (ایم) کے ترجمان پیپلز ڈیموکریسی اور سی پی آئی کے ترجمان ’’نیو ایج‘‘ کی آئندہ اشاعتوں میں اداریے شائع کئے گئے ہیں جن میں اِن پارٹی

نئی دہلی 21 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) بائیں بازو کی پارٹیوں نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر قول اور عمل کے تضاد کا الزام عائد کیا اور کہاکہ وہ اپنی انتخابی تقاریر اور لفاظی کے خمار کا ہنوز شکار ہیں۔ سی پی آئی (ایم) کے ترجمان پیپلز ڈیموکریسی اور سی پی آئی کے ترجمان ’’نیو ایج‘‘ کی آئندہ اشاعتوں میں اداریے شائع کئے گئے ہیں جن میں اِن پارٹیوں نے فرقہ وارانہ صف آرائی کے خطرناک رجحان میں اضافہ کا تذکرہ کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ حالانکہ مودی دس سال تک فرقہ پرستی اور ذات پات کے تنازعات کے تعطل کی بات کرتے ہیں لیکن اُن کے کٹر حامی انتشاری مسائل اُٹھارہے ہیں۔ اپنے اداریہ میں سینئر سی پی آئی (ایم) قائد سیتارام یچوری نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اُنھوں نے دفاع اور انشورنس کے شعبوں میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی پالیسیوں کا اعلان کیا ہے جبکہ سنسد آدرش گرام یوجنا کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ارکان پارلیمنٹ کے سامنے انتخاب کے بہت کم مواقع باقی رہ گئے ہیں۔ قوم سے یوم آزادی خطاب سے وزیراعظم پر ہنوز انتخابی تقاریر کے خمار کا اثر باقی رہنے کا انکشاف ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابھی وزیراعظم ہند کے عہدہ کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوئے ہیں۔ اُنھیں مہربان طبیعت ہونا چاہئے اور جان لینا چاہئے کہ باتیں کرنے کا دور گزر چکا۔ وزیراعظم حکومت ہند کا سربراہ ہے اُن کے لئے اب عمل کا وقت آچکا ہے۔ مودی نے لفاظی کی روایت برقرار رکھی ہے جبکہ اُن کا عمل اِس کے بالکل متضاد ہے۔ یہ رجحان انتہائی خطرناک ہے اور ووٹ بینک سیاست کی بدترین نوعیت ہے۔ سی پی آئی ایم قائد نے کہاکہ ووٹوں کے حصول کے لئے دایاں بازو فرقہ وارانہ صف آرائی کا آغاز کرچکا ہے۔

اُنھوں نے کہاکہ لال قلعہ کی فصیل سے نریندر مودی نے جو خطاب کیا اُسے جدوجہد آزادی کی علامت ہونا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ لال قلعہ مغل سامراج کی علامت ہے جسے اُن لوگوں نے تعمیر کیا تھا جنھیں آر ایس ایس بابر کی اولاد کہتی ہے۔ کیا ہمارے ملک کی حقیقی آزادی یہی ہے۔ آر ایس ایس ۔ بی جے پی آج بھی بابر کی اولاد جیسے جملے ملک گیر سطح پر استعمال کررہے ہیں۔ 1857 ء کی پہلی جنگ آزادی میں بہادر جھانسی کی رانی لکشمی بائی راسخ العقیدہ ہندو تھیں اور تانتیا ٹوپے جیسے مسلمہ محب وطن مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر دونوں اتفاق سے جدوجہد آزادی میں برابر کے شراکت دار تھے حالانکہ بہادر شاہ ظفر بھی بابر کی اولاد تھے۔ سی پی آئی کے رسالے کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ دائیں جانب جھکاؤ صرف معیشت تک محدود نہیں رہے گا۔ اِس کا اثر تمام شعبوں پر ضائع ہوگا۔ حالانکہ وزیراعظم فرقہ وارانہ اور ذات پات کے تنازعات کو دس سال تک معطل کرنے کی معطل کرتے ہیں۔ اُن کے کٹر حامی انتشاری مسائل اُٹھارہے ہیں۔ فرقہ وارانہ کشیدگیوں کے علاوہ فرقہ پرستی کی سیاست کو فروغ دینے والے جذبات، نظام تعلیم، ثقافت اور انتظامیہ کو ترقی دی جارہی ہے۔ ہر قسم کے انتشاری اور اشتعال انگیز مطالبات اور مسائل سنگھ پریوار کی مختلف تنظیموں کی جانب سے اُٹھائے جارہے ہیں۔ نریندر مودی اُنھیں اُن کی اِس حرکت پر ہلکی سی سرزنش کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ بائیں بازو کے ترجمان اِن رسالوں میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دانستہ طور پر ایک راسخ العقیدہ ہندو رانی اور کٹر مذہبی مغل شہنشاہ کا ایک ساتھ تذکرہ کیا گیا ہے جنھوں نے آزادی کے مشترکہ مقصد کی خاطر بلا لحاظ مذہب و ملت شانہ بشانہ جدوجہد کی تھی۔ آج سنگھ پریوار بابر کی اولاد کو قوم دشمن قرار دیتا ہے لیکن بابر کی اولاد بہادر شاہ ظفر ایک محب وطن مجاہد آزادی تھے۔

TOPPOPULARRECENT