Tuesday , December 11 2018

نریندر مودی کا اچانک مایاوتی، ممتا بنرجی اور اکھلیش کی جانب جھکاؤ!

بی جے پی کیلئے علاقائی پارٹیاں اہمیت اختیار کرتی جارہی ہیں ،مرکز میں اقتدار سے محرومی سے بچنے کی کوشش
نئی دہلی 29 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کا جھکاؤ اچانک علاقائی پارٹیوں کے قائدین کی جانب ہوگیا ہے۔ مایاوتی، ممتا بنرجی اور اکھلیش یادو اب مودی کو اچھے نظر آرہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نریندر مودی کو پورے اختیارات دے دیئے ہیں کہ وہ اپوزیشن کی جانب سے پیدا کئے جانے والے خطرات کا کھل کر مقابلہ کریں۔ مودی اور اُن کی پارٹی نے کانگریس مکت بھارت کے نظریہ کے ساتھ اپنی انتخابی مہم شروع کی تھی لیکن یہ نظریہ کارگر ثابت نہ ہوا اور اب اپوزیشن حکمران پارٹی کے خلاف مضبوط ہوگئی ہے۔ آندھراپردیش میں مودی نے علاقائی جذبہ کا مشاہدہ کیا ہے اور مغربی بنگال میں بھی ممتا بنرجی کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کی ہے۔ اترپردیش میں مایاوتی اور اکھلیش یادو کے ساتھ بی جے پی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ اِن پارٹیوں کو کبھی بھی اپنے قریب کرسکتے ہیں لیکن کانگریس ہی کا ملک سے صفایا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اب تک مودی نے جتنے بھی اعلانات کئے ہیں اُن میں سے کئی اعلانات کا نشانہ کانگریس ہی رہی ہے۔ بی جے پی کے بعض گوشوں میں یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ آخر علاقائی پارٹیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے کے لئے مودی کو کس نے اختیار دیا ہے۔ بی جے پی زیرقیادت مودی حکومت نے گزشتہ پانچ سال کے دوران اپنا مضبوط محاذ بنانے کی کوشش کی ہے لیکن اِسے اب بھی اقتدار سے محرومی کا خوف ہے۔ 30 سال کی لگاتار کی جدوجہد کے بعد بی جے پی کو لوک سبھا میں قطعی اکثریت سے کامیابی ملی ہے اور وہ اِس کامیابی سے محروم ہونا نہیں چاہتی۔ اگر اپوزیشن پارٹیاں مضبوط ہوجائیں تو آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملے گی۔ مغربی بنگال میں اگرچیکہ بی جے پی کو 15 فیصد ووٹ ملے ہیں اور یہاں 22 لوک سبھا حلقوں کے منجملہ 2 لوک سبھا نشستوں پر بی جے پی کے ارکان منتخب ہوئے ہیں۔ ممتا بنرجی کو بی جے پی سے قریب کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کے بڑھتے امکانات کو کمزور کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ ممتا بنرجی نے کانگریس کے عظیم اتحاد میں شامل ہونے کا اشارہ کیا تھا۔ مایاوتی نے بھی کانگریس سے اتحاد کرکے انتخابات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعدازاں وہ اپنے فیصلے سے منحرف ہوگئیں۔ ملک بھر میں مودی کے سحر کو برقرار رکھنے کے لئے بی جے پی نے نئی حکمت عملی شروع کی ہے اور وہ حکمت عملی یہ ہے کہ مایاوتی، ممتا بنرجی اور اکھلیش یادو کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا جائے۔ اِس تناظر میں مودی نے ابھی سے خوشامدی کی سیاست اختیار کرنا شروع کردی ہے۔ تلنگانہ میں چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ کو اُنھوں نے بظاہر تنقید کا نشانہ بنایا ہے لیکن داخلی طور پر بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان معاملت کی خبریں زیرگشت ہیں۔ اسمبلی انتخابات کے بعد جب لوک سبھا انتخابات کا وقت آئے گا ٹی آر ایس اور بی جے پی کی قربت بھی بڑھے گی۔ بی جے پی کو یہ خوف ہے کہ اِس کے خلاف اگر اپوزیشن متحد ہوتی ہے تو وہ یکا و تنہا ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT