Friday , December 15 2017
Home / مضامین / نریندر مودی کا دورۂ سعودی عرب

نریندر مودی کا دورۂ سعودی عرب

کے این واصف
وزیراعظم ہند نریندر مودی پچھلے ہفتہ کے روز واشنگٹن سے دو روزہ دورے پر ریاض پہنچے۔ گزشتہ 7 ماہ میں خلیجی ممالک میں مودی دوسری مرتبہ آئے ہیں۔ یہ علاقہ حکمت عملی کے اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے، جہاں 80 لاکھ سے زائد ہندوستانی آباد ہیں اور خلیجی ممالک میں سعودی عرب زیادہ اہمیت کا حامل اس لئے ہے کہ یہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے، جہاں سب سے زیادہ پاسپورٹ ہولڈرز ہندوستانی برسرکار ہیں۔ تقریباً دو سالہ دور میں مودی نے بحیثیت وزیراعظم ہند تقریباً ساری دنیا کا دورہ کرلیا ہے اور اکثر ممالک میں اپنی سرکاری مصروفیات کے علاوہ ان ممالک میں بسے ہندوستانی باشندوں سے ملاقاتیں کیں۔ بعض شہروں میں تو انہوں نے ہزاروں  ہندوستانیوں کے اجتماعات سے خطاب بھی کیا ۔ سعودی عرب جہاں 30 لاکھ سے زائد ہندوستانی آباد ہیں ، میں کوئی بڑا عوامی جلسہ تو منعقد نہیں ہوا لیکن ریاض پہنچتے ہی انہوں نے سب سے پہلے ایل اینڈ ٹی کے لیبر کیمپ کا دورہ کیا۔ اس کیمپ میں تین ہزار سے زائد کارکن رہتے ہیںجس میں سے 50 فیصد ہندوستانی ہیں۔ اسی لئے اس کیمپ میں مودی نے پروٹوکول کو بالائے طاقت رکھ کر کارکنان سے بڑی بے تکلفی سے ملے اور ان میں گھل مل گئے ۔ ان کی رہائش گاہ گئے ،ان کے ساتھ کھایا پیا، ان سے بات چیت کی ، ان کے ساتھ سیلفیاں بنائی وغیرہ۔ اس کے بعد وہ سفارت خانہ ہند ریاض کی جانب سے اہتمام کردہ استقبالیہ تقریب میں شرکت کی، جہاں مملکت میں برسرکار تقریباً 700 سرکردہ ہندوستانی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا ۔ اس تقریب میں انہوں نے اسٹیج پر صرف دو منٹ 47 سکنڈ کی تقریر کی ۔ پھر فوٹو سیشن میں کمیونٹی کے گروپس کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔ اپنی مختصر تقریر میں انہوں نے کہاکہ پہلے تو ہندوستان دوسرے ملکوں کی طرف دیکھا کرتا تھا لیکن اب دوسرے ممالک ہندوستان کی طرف دیکھتے ہیں۔ اس موقع پر ہندوستان میں سعودی عرب کے سفیر انجنیئر ابراہیم بن محمد سلطان اور سعودی عرب میں ہندوستانی سفیر احمد جاوید بھی موجود تھے۔ ریاض کی ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے وسیع ہال میں خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ اس وقت ملک میں مکمل سیاسی استحکام پایا جاتا ہے جو بدقسمتی سے پچھلے 30 برسوں میں نہیں تھا۔ ہندوستان سائنس و ٹکنالوجی اور انسانی وسائل کے شعبوں میں بھی مستحکم ہورہا ہے  اور دنیا میں ’’روشن ستارہ‘‘ بن کر ابھرا ہے۔ ملک کے 8 کروڑ نوجوان ہمارا قابل قدر اثاثہ ہیں اور ہم نوجوانوں کی بھی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جہاں تک مالی شعبہ کا تعلق ہے تو انتہائی مضبوط بن کر ابھرے ہیں اور پوری دنیا کیلئے امید بنے ہوئے ہیں۔ عالمی بینک اور تمام بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے کہا ہے کہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی سے امید کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی ہے ۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان آج سے پہلے دنیا کا ایک ملک ہوا کرتا تھا لیکن اب دنیا کا ا یک اہم ملک بن چکا ہے ۔ اس نے عالمی سطح پر مختصر وقت میں نئی توقعات کو جلا بخشی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وسائل اور افرادی قوت ہے، جس کی آج دنیا بھر کو ضرورت ہے ۔ ہماری اقتصادی ترقی کی وجہ سے دنیا بھر کی نظریں آج ہندوستان پر لگی ہیں۔ دنیا کیلئے ہندوستان بہت کچھ کرسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ جو ہمارا نعرہ ہے ہم اس کے ساتھ اپنی ترقی کی کوششوں کو جوڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشی فروغ کی وجہ یہی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام ہے ۔ مودی نے کہاکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات فروغ پارہے ہیں۔ یہ تعلقات خریدار اور فروخت کنندہ کے تعلقا سے بڑھ کر ہر شعبہ میں قائم ہیں۔ اس موقع پر سفیر ہند برائے سعودی عرب احمد جاوید نے ابتدائی رسمی خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ریاض اور جدہ میں بہت جلد  Labour Resource سنٹر قائم کئے جائیں گے۔

نریندر مودی نے اپنی مختصر سی تقریر میں جو جملہ بار بار دہرایا وہ تھا ’’سیاسی استحکام‘‘ بی جے پی نے عددی اعتبار سے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کی جس کی بناء پر وہ سیاسی استحکام کی بات بار بار کر رہے تھے لیکن کیا صرف عددی اکثریت حاصل کرنا ہی سیاسی استحکام ہے ؟ جس سیاسی استحکام میں رواداری اور بھائی چارگی نہ ہو ، جس استحکام میں انصاف اور مساوات نہ ہو، جس استحکام میں ملک کی اقلیتیں محفوظ نہ ہوں ، جس استحکام میں عوام دستوری مراعات سے محروم ہورہی ہوں کیا ہم اس کو استحکام کہیں گے؟ کیونکہ ہمارا فوکس ہمیشہ این آر آ ئیز کے مسائل اور ان کی فلاح و بہبود کی مانگ پررہتا ہے ، اس لئے ہم اسی کی بات کریں گے ۔

مجموعی طور پر خلیجی ممالک میں کوئی 80 لاکھ اور سعودی میں 30 لاکھ سے زائد ہندوستانی آبادی ہیں۔ یہ سلسلہ کوئی چار دہائیوں سے زیادہ سے چل رہا ہے ۔ گلف این آر آئیز سالانہ 92 بلین ڈالر اپنے وطن ارسال کرتے ہیں جبکہ صرف سعودی عرب سے این آر آئیز کی جانب سے سالانہ 22 بلین ڈالرز ہندوستان بھیجے جاتے ہیں۔ حکومت کی ساری توجہ ہمیشہ دیگر ممالک میں بسے متمول ہندوستانیوں پر رہتی ہے جن کے بیرونی ممالک میں بڑے کاروبار ہیں۔ حکومت ہمیشہ اس کوشش میں رہتی ہے کہ ان ہندوستانی نژاد باشندوں کو ملک میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کیا جائے ۔ ’’پرواسی بھارتیہ دیوس‘‘ پروگرام کا فوکس بھی اسی پر رہتا ہے۔ ان ہندوستانی نژاد افراد کو حکومت ہرطرح کی مراعات اور آسانیاں فراہم کرنے کی پیشکش کرتی ہے ۔ ملک کی معیشت کی بہتری کیلئے حکومت کے اقدام غلط نہیں کیونکہ اس سے ملک کی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے لیکن حکومت کو اس حقیقت پر بھی غور کرنا چاہئے کہ پچھلے چار دہائیوں سے زائد کے عرصہ میں گلف این آر آئیز کی جانب سے وطن بھیجے جانے والی رقم سے ملک کو کتنا زر مبادلہ حاصل ہوا ۔ کس قدر ملک کی معیشت پر اچھا اثر پڑا۔ گلف میں کام کرنے والے یہ لاکھوں افراد نے ملک کی بیروزگاری میں کمی کی ۔ ملک سے باہر رہ کر ملک پر بوجھ بنے بغیر ملک کی معاشی ترقی میں حصہ لیا لیکن ملک سے انہیں کیا ملا ۔ ویسے ملک کی تقریباً ہر ریاست کے لوگ خلیجی ممالک میں برسرکار ہیں لیکن چند ریاستوں جیسے کیرالا ، تلنگانہ ، اترپردیش اور بہار کے لوگ بڑی تعداد میں یہاں آباد ہیں۔ صرف کیرالا کی ریاستی حکومت نے اپنی ریاست میں این آر آئیز امور کی نگرانی کیلئے ایک وزارت قائم کر رکھی ہے جو ریاستی این آر آئیز کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کرتی ہے لیکن دیگر ریاستوں نے متعدد نمائندگیوں کے باوجود اپنی ریاستوں میں این آر آئیز امور کی نگرانی کیلئے کوئی وزارت قائم نہیں کی۔ نہ مرکزی حکومت نے اس سلسلہ میں کوئی قدم اٹھایا۔ کانگریس کے منموہن سنگھ دور حکومت میں مرکز میں این آر آئیز امور کی نگرانی کیلئے ایک وزارت قائم کی گئی تھی لیکن اس وزارت نے بھی خصوصی طور پر گلف این آر آئیز پر کبھی توجہ نہیں کی اور نہ ہی ان کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی خصوصی ٹھوس اقدام کئے ۔ سعودی عرب کے این آر آئیز کو نریندر مودی کے دورے سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کہ وہ جب یہاں آئیں گے تو گلف این آر آئیز کیلئے کوئی خصوصی پیکیج کا اعلان کریں گے لیکن انہوں نے سعودی عرب میں کی گئی تقاریر میں صرف اتنا کہا کہ این آر آئیز جو یہاں ایک بڑی تعداد میں ہیں اور سخت محنت کر رہے ہیں، اسی وجہ سے میں یہاں آیا ہوں۔

گلف  این آر آئیز نے ملک کی معیشت کو سہارا بخشا۔ ملک کو سنوارا۔ اپنے وطن اپنی مٹی اور اپنے عزیزوں سے دوری کی مصیبتیں جھیلیں۔ لہذا حکومت کو چاہئے کہ گلف این آر آئیز کی بازآبادکاری اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے حکومت کوئی بڑا منصوبہ تیار کرے اور ایسی ریاستوں میں جہاں کے باشندے بڑی تعداد میں گلف میں کام کرتے ہیں، ان ریاستوں میں این آر آئیز امور کی وزارتیں قائم کی جائیں تاکہ این آر آئیز کی فلاح و بہبود کیلئے منصوبے تیار کئے جائیں۔ اس سلسلے میں حکومتیں این آر آئیز کی تنظیموں سے رابطے قائم کرے ۔ ان کے اراکین پر مشتمل مشاورتی کمیٹیاں بنائے ۔ یہ تنظیمیں حکومتوں کے ساتھ ہر طرح کا تعاون بھی کرسکتی ہیں ۔ اس سے حکومتوں اور این آر آئیز دونوں کا بھلا ہوگا۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT