Sunday , November 19 2017
Home / اداریہ / نریندر مودی کا دورہ

نریندر مودی کا دورہ

آج احباب ملاکرتے ہیں اغراض کے ساتھ
دوستی حسبِ روایات کہاں ہوتی ہے
نریندر مودی کا دورہ
وزیراعظم نریندر مودی کے 5 قومی دورہ کے پہلے مرحلہ میں افغانستان اور قطر کے دورہ کو اہمیت دی جارہی ہے۔ افغانستان میں صدر اشرف غنی نے مودی کو اپنے ملک کا اعلی ترین سیویلین اعزاز عطا کیا۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی افغانستان کے تعلق سے برسوں پرانی دوستانہ نوعیت کی رہی ہے۔ نریندر مودی کو خصوصی اعزاز دینے کے پس پردہ افغانستان کی موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کا کیا مقصد کارفرما ہے یہ وقت ہی بتائے گا البتہ وزیراعظم مودی کی افغانستان کے ساتھ قربت اختیار کرنے کی کوشش پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے تناظر میں کئی گوشوں میں سرگوشیاں بڑھ گئی ہیں۔ مرکز میں دو سال کی حکمرانی کے دوران مودی کی خارجہ پالیسی پر نکتہ چینی کرنے والی اپوزیشن پارٹیوں نے اسے ناکام قرار دیا ہے۔ بیرون ملک مقیم کروڑہا ہندوستانیوں کی توقعات اور حکومت کی اصل کارکردگی میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ پھر بھی مودی نے مسلم ملکوں میں اپنے دوستوں کی فہرست میں اضافہ کرنے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ یوروپ اور امریکہ کے دورہ متواتر ہوتے آرہے ہیں۔ مسلم ملکوں کے دوروں کو خصوصیت اس لئے حاصل ہورہی ہے کیوں کہ یہاں غیر مقیم ہندوستانیوں کی تعداد زیادہ ہے اور تجارت، معیشت، صنعت کے اعتبار سے مسلم ممالک ہندوستان کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے افغانستان میں آبی ذخیرہ پر ایک بڑے ڈیم کا افتتاح کرنے کے بعد قطر کا دورہ کیا۔ قطر میں کئی اہم موضوعات پر بات چیت کے بعد حوالہ کاروبار اور دہشت گردی کو ملنے والی امداد کو روکنے کے لئے انٹلیجنس معلومات فراہم کرنے کے معاہدہ پر بھی دستخط کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم کو قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمدالثانی کی جانب سے یہ تیقن ملا ہے کہ قطر اس خصوص میں ہر ممکنہ تعاون کرے گا۔ بی جے پی کا دعوی ہے کہ مودی کی خارجہ پالیسی کو ساری دنیا نے تسلیم کرلیا ہے اور عالمی سطح پر مودی کی پالیسیوں کی ستائش ہورہی ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی کی جانب سے افغانستان کے اعلی ترین اعزاز امیر امان اللہ خاں ایوارڈ کا ملنا بی جے پی اور آر ایس ایس کے لئے ایک بڑا بہانہ مل گیا ہے کہ وہ مودی کے تعلق سے پہلے سے زیادہ پروپگنڈہ مہم چلائیں گی۔ حالیہ ہفتوں میں مودی کو یہ دوسرا سب سے بڑا مسلم ملک کا اعزاز ہے اور بلاشبہ ایک منفرد چھلانگ ہے جو مودی نے لگائی ہے۔ اب تک کسی بھی ہندوستانی وزیراعظم کو مسلم دنیا کے دو ملکوں کی جانب سے ایوارڈ نہیں ملا۔ حال ہی میں سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے سعودی عرب کا سب سے اعلی ترین سیویلین اعزاز شاہ عبدالعزیز ایوارڈ سے نوازا تھا۔ ایوارڈس دینے کے پس پردہ بی جے پی نے مودی کی خارجہ پالیسی قرار دیا ہے۔ اگر واقعی مودی کی خارجہ پالیسی موافق مسلم دنیا ہے تو پھر انہیں اندرون ملک مسلم دشمنی نظریات کو ترک کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔ ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوشش کرنے والا مودی کا نظم و نسق خارجہ پالیسی میں موافق مسلم دنیا موقف اختیار کرتا ہے اور اندرون ملک مخالف مسلم پالیسیوں پر عمل کرتا ہے تو یہ دوہرا معیار ہے جس پر مسلم دنیا کو نوٹ لینے کی ضرورت ہے۔ امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی سے مودی کی بات چیت اور وسیع تناظر پر تبادلہ خیال کا مقصد قطر کے امیر اور دولت مندوں سے سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ہندوستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے راستے کی تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کا دعوی کرتے ہوئے مودی نے دوحہ میں قطر کی تاجر برادری اور صنعتی گھرانوں کی شخصیتوں کے ساتھ بھی بات چیت کی۔ ہندوستان میں اس وقت سرمایہ کاری کے فوائد اور بہت سے مواقع پائے جاتے ہیں۔ بلاشبہ ہندوستان میں اس وقت نوجوان نسل کی ایک طاقتور آبادی موجود ہے جو ملک کی ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن بی جے پی حکومت انتخابی وعدوں کے مطابق ان نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ملک کی 80 کروڑ کی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے تو مودی حکومت کو اس طرح کی نوجوانوں کی بڑی طاقت کو ضائع کرنے کے بجائے اسے ملک کی ترقی کے لئے مضبوط گروپ متصور کرنا ہوگا۔ مودی صرف ترقی کی بات کرتے آرہے ہیں۔ بیرون ملک بھی ملک کی ترقی کی ہی بات کررہے ہیں۔ جب تک ملک میں بنیادی کاموں کی تکمیل نہیں ہوتی اور پیداوار کی سرگرمیوں کو جدید طریقہ سے مربوط نہیں کیا جاتا کامیابی کی توقع کم ہوتی ہے۔ عام لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کا عزم رکھنے والے نریندر مودی کو قطر یا افغانستان کے دورہ کے موقع پر ظاہر کردہ اپنی پالیسیوں کے مطابق اندرون ملک عمل آوری پر توجہ دینی ہوگی۔ ان کا موقف اندرون ملک ایک اور بیرون ملک الگ ہو تو پھر ان کی حکمرانی دوہرے پن کا شکار ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT