Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / نریندر مودی کو کلین چٹ کیخلاف ذکیہ جعفری کی درخواست مسترد

نریندر مودی کو کلین چٹ کیخلاف ذکیہ جعفری کی درخواست مسترد

گجرات فسادات میں مبینہ بڑی سازش کیس میں ایس آئی ٹی کی کارروائی درست، ہائیکورٹ کا احساس

احمدآباد ۔ 5 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) گجرات ہائیکورٹ نے آج ذکیہ جعفری کی درخواست کو مسترد کردیا۔ درخواست میں 2002ء کے گجرات مسلم کش فسادات کے سلسلہ میں بڑے پیمانہ پر سازش رچانے کے الزامات پر اس وقت کے چیف منسٹر گجرات نریندر مودی اور دیگر کو ایس آئی ٹی کی جانب سے دی گئی کلین چٹ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ تحت کی عدالت نے ایس آئی ٹی کے فیصلہ کو برقرار رکھا تھا۔ ذکیہ جعفری نے تحت کی عدالت کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے ہائیکورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔ جسٹس سونیا گوکانی نے بڑے پیمانہ کی سازش کے الزام کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس الزام کو سپریم کورٹ نے بھی قبول نہیں کیا تھا۔ جسٹس سونیا گوکانی نے کہاکہ بڑے پیمانہ کی سازش کے الزام کو سنجیو بھٹ کے معاملہ میں سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے ہی غوروخوض کیا جاچکا ہے اور عدالت عالیہ نے اس ادعا کو مسترد بھی کردیا تھا۔ میں اس معاملہ پر اپنی رائے دینا نہیں چاہتی۔ لہٰذا میں اس بڑے پیمانہ کی سازش کے الزام کے تحت داخل کردہ درخواست کو مسترد کرتی ہوں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ درخواست گذار اس کیس میں مزید تحقیقات کیلئے اعلیٰ عدالت سے رجوع ہوسکتی ہیں۔ میجسٹریٹ کو یہ کہنے کا حق نہیں ہیکہ اس کے مزید تحقیقات کرانے سے متعلق اختیارات محدود ہیں۔ اس کیس کی سماعت 3 جولائی کو مکمل ہوئی تھی۔ ذکیہ جعفری کانگریس کے مقتول رکن پارلیمنٹ احسان جعفری کی بیوہ ہیں۔ انہوں نے اور تیستاسیتلواد کی این جی او سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس نے مودی اور دیگر کو گجرات فسادات کیلئے بڑی سازش رچائے۔ الزامات میں تحقیقاتی ایجنسی ایس آئی ٹی نے کلین چٹ دیا تھا اور مجسٹریٹ نے اس فیصلہ کو برقرار رکھا تھا۔ مجسٹریٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے ہائیکورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔ درخواست میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ مودی اور دیگر 59 افراد کو جن میں پولیس کے سینئر عہدیدار اور بیوریوکریٹس شامل ہیں کو اس کیس کا ملزم بتایا جائے کیونکہ ان لوگوں نے مبینہ طور پر سازش رچائی تھی جس کے نتیجہ میں گجرات میں بڑے پیمانہ پر مسلم کش فسادات ہوئے تھے۔ درخواست میں یہ بھی خواہش کی گئی کہ اس معاملہ کی تازہ تحقیقات کرانے کیلئے ہائیکورٹ کی جانب سے ہدایت جاری کی جائے۔

TOPPOPULARRECENT