Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / نریندر مودی کی آمرانہ روش سے جمہوری نظام کو خطرہ لاحق

نریندر مودی کی آمرانہ روش سے جمہوری نظام کو خطرہ لاحق

اپوزیشن کی آواز کچل دینے کی منظم کوشش۔ صدر جمہوریہ سے شکایت
نئی دہلی۔/16ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس کی زیر قیادت بعض اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے آج صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کی اور نوٹ بندی کی وجہ سے عوام کو درپیش مشکلات سے واقف کروایا، اور یہ شکایت کی کہ حکومت، اپوزیشن کی آواز دبانے کیلئے پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔ اگرچیکہ کانگریس زیر قیادت وفد میں ترنمول کانگریس، آر جے ڈی، جے ڈی یو اور اے آئی یو ڈی ایف اور دیگر جماعتیں شامل تھیں لیکن این سی پی، ڈی ایم کے، بائیں بازو کی جماعتیں، سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی غیر وابستہ رہے۔ اپوزیشن کے اتحاد میں لمحہ آخر میں اسوقت دراڑ پیدا ہوگئی جب کانگریس وفد نے کسانوں کے مسائل اور زرعی قرضوں کی معافی پر پارلیمنٹ میں وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی سے علحدہ ملاقات کی۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی اور سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی زیر قیادت اپوزیشن جماعتوں کے وفد نے صدر جمہوریہ کو ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں یہ شکایت کی گئی ہے کہ پارلیمنٹ میں ہمارے جمہوری حقوق کی پامالی اور ہمارا نقطہ نظر پیش کرنے سے باز رکھنے کی کوششوں سے شدید تکلیف پہنچی ہے

اور ہمیں یہ تشویش ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نوٹ بندی کے فیصلہ سے ملک میں ابتر صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ لہذا آپ ( صدر جمہوریہ ) سے ادباً گذارش ہے کہ پاسبان دستور کی حیثیت سے فی الفور مداخلت کرتے ہوئے ملک کو معاشی تباہ حالی سے بچائیں۔ اس موقع پر کانگریس لیڈر ملک ارجن کھرگے نے کہا کہ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس چلانے کیلئے اختیار کردہ طریقہ کار انتہائی قابل اعتراض رہا اور حکومت نے خود کارروائی کومفلوج بنانے کی کوشش کی حتیٰ کہ وزراء نے بھی پلے کارڈس اٹھائے اورنعرے بلند کئے تھے۔ ترنمول کانگریس لیڈر سدیپ بندواپادھیائے نے کہا کہ نوٹ بندی کے اہم فیصلہ پر وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں بیان دینا چاہیئے تھا لیکن انہوں نے ایوان کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عام جلسوں میں پالیسی ساز بیانات دیئے۔ جنتا دل متحدہ لیڈر شرد یادو اور آر ایس پی لیڈر این کے پریم چندرن نے کہا کہ وزیر اعظم کے آمرانہ فیصلوں سے ہمارے جمہوری و پارلیمانی نظام کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ مذکورہ وفد میں کانگریس قائدین  غلام نبی آزاد، موتی لال وورا، آنند شرما، جیوترادتیہ سندھیا، دپیندر ہوڈا اور ٹی ایم سی لیڈر ڈیرک اوبرین اور آر جے ڈی لیڈر جئے پرکاش نارائن یادو شامل تھے۔ تاہم سماجوادی پارٹی لیڈر نریش اگروال اور این سی پی لیڈر پروفل پٹیل نے کہا کہ کاش یہ بہتر ہوتا کہ کانگریس تمام اپوزیشن کو متحد کرتی اور کسانوں کے مسائل پر وزیر اعظم سے علحدہ ملاقات نہیں کی جاتی۔ سی پی ایم لیلار سیتا رام یچوری نے کہا کہ وہ صدر جمہوریہ سے ملاقات کی بجائے عوام سے رجوع ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT