Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / نریندر مودی کی بیدخلی اور اڈوانی کی زیر قیادت قومی حکومت کی تشکیل

نریندر مودی کی بیدخلی اور اڈوانی کی زیر قیادت قومی حکومت کی تشکیل

نوٹ بندی اور ترنمول کانگریس ایم پی کی گرفتاری پر برہم ممتا بنرجی کی تجویز

کولکتہ ۔/6جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) نوٹ بندی کے مسئلہ پر مرکز کے خلاف تلخ و تند موقف اختیار کرتے ہوئے چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے استعفی کا مطالبہ کردیا اور یہ تجویز پیش کی کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی، وزیر فینانس ارون جیٹلی یا پھر وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی زیر قیادت ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے۔ترنمول کانگریس سربراہ جنہوں نے نوٹ بندی مسئلہ اور چٹ فنڈ اسکام میں اپنی پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ کی گرفتاری کے خلاف مودی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے ، نریندر مودی کے چنگل سے ملک کو بچانے کیلئے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے فی الفورمداخلت کی گذارش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو باہمی اختلافات فراموش کرتے ہوئے قوم کی حفاظت کیلئے متحد ہوجانا چاہیئے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ صدر جمہوریہ مداخلت کرتے ہوئے قوم کا تحفظ کریں کیونکہ یہ شخص ( مودی ) قوم کی قیادت نہیں کرسکتا۔ وہ فی الفور مستعفی ہوجائیں اور ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے، اور اس خصوص میں مودی کی جگہ اڈوانی، جیٹلی اور راجناتھ کو عنان حکومت حوالے کی جاسکتی ہے۔ چیف منسٹر مغربی بنگال نے پرنب مکرجی کے اس بیان کی ستائش کی کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ملک کی معیشت عارضی طور پر سست رفتار ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے زندگی میں کبھی یہ نہیں دیکھا کہ مرکز میں بدترین انتقامی جذبہ رکھنے والی حکومت بھی ہوسکتی ہے جس نے منصوبہ بندی کمیشن جیسے قدیم اداروں کو تحلیل کردیا اور حکومت کی بنیادوں کو کمزور کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے یہ ادعا کیا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ریاست مغربی بنگال کو 5,500 کروڑ روپئے کا نقصان اٹھانا پڑا اور یہ الزام عائد کیا کہ مرکز، اپوزیشن جماعتوں پر خوف و دہشت طاری کرنا چاہتا ہے۔ جارحیت پسند ممتا بنرجی نے بی جے پی لیڈروں کو چیلنج کیا کہ انہیں چھوکر دکھائیں جب وہ پارٹی کی زیر اقتدار جھارکھنڈ کا دورہ کریں گی۔ ترنمول کانگریس ایم پی سدیپ بنداپادھیائے کی گرفتاری کے خلاف مغربی بنگال میں بی جے پی دفاتر پر حملے کئے گئے تھے جس پر پارٹی کے جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگیا نے سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی اور اس کا بدلہ جھارکھنڈ میں لینے کا اعلان کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT