نریندر مودی کی بی جے پی فرضی ؟ پارٹی میں اختلافات نمایاں

بھوپال / نئی دہلی ۔ 22 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام ) : بی جے پی کے سینئیر لیڈر جسونت سنگھ کو ٹکٹ دینے سے انکار کے بعد اس پارٹی میں اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں ۔ ٹکٹ سے محروم بزرگ لیڈر جسونت سنگھ نے کہا کہ بی جے پی کے حقیقی اور فرضی ہونے کے درمیان فرق کو ظاہر کردیا جائے گا ۔ بادی النظر میں انہوں نے نریندر مودی کی بی جے پی کو فرضی اور سینئیر پارٹی ق

بھوپال / نئی دہلی ۔ 22 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام ) : بی جے پی کے سینئیر لیڈر جسونت سنگھ کو ٹکٹ دینے سے انکار کے بعد اس پارٹی میں اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں ۔ ٹکٹ سے محروم بزرگ لیڈر جسونت سنگھ نے کہا کہ بی جے پی کے حقیقی اور فرضی ہونے کے درمیان فرق کو ظاہر کردیا جائے گا ۔ بادی النظر میں انہوں نے نریندر مودی کی بی جے پی کو فرضی اور سینئیر پارٹی قائدین کی بی جے پی کو حقیقی قرار دیا ۔ جسونت سنگھ کو ٹکٹ سے محروم کردینے پر بی جے پی کی سینئیر لیڈر سشما سوراج نے کہا کہ انہیں پارٹی کے اس فیصلہ سے شدید تکلیف پہونچی ہے کہ سینئیر اور بزرگ لیڈر جسونت سنگھ کو لوک سبھا ٹکٹ نہیں دیا گیا ۔ بی جے پی نے کل راجستھان میں پرمر سے جسونت سنگھ کو ٹکٹ دینے سے انکار کیا تھا جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ سشما سوراج نے کہا کہ اس طرح کا تکلیف دہ فیصلہ کسی وجہ کے بغیر نہیں لیا جاسکتا ۔ اس کی کوئی نہ کوئی ٹھوس وجہ ہوگی ۔ لیکن اس فیصلہ سے ناراضگیاں پیدا ہونے کے بعد بی جے پی میں پھوٹ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں ۔ پارٹی کی سینئیر لیڈر سشما سوراج کا پارٹی فیصلہ پر اعتراض پارٹی میں ناراضگیوں کو عیاں کرتا ہے ۔ سشما سوراج نے واضح کردیا کہ پرمر ٹکٹ کا فیصلہ پارٹی کی مرکزی انتخابی کمیٹی کی جانب سے نہیں کیا گیا ہے اس فیصلہ سے انہیں دکھ ہوا ہے ۔ )

جہاں تک جسونت سنگھ جی کا مسئلہ ہے یہ پارٹی کافیصلہ ہے ۔ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے ۔ اس طرح کے غیر معمولی فیصلہ کسی وجہ سے نہیں لیے جاتے ٹکٹ سے محروم سینئیر لیڈر جسونت سنگھ نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی قیادت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم حقیقی بی جے پی اور فرضی بی جے پی کے فرق کو عیاں کریں ۔ پارٹی کے اندر جو کچھ ہورہا ہے ۔ وہ پارٹی کے نظریہ کے عین مطابق نہیں ہے ۔ 76 سالہ جسونت سنگھ نے جو لوک سبھا میں اس وقت دارجلنگ سے نمائندگی کررہے ہیں ۔ پرمر حلقہ سے ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کرنے پر تجسس کو برقرار رکھا البتہ وہ 24 مارچ کو پرمر میں اپنے فیصلہ کا اعلان کریں گے ۔ ہم کو فرضی اور حقیقی بی جے پی کے درمیان فرق کو عیاں کرنا ہے ۔ بی جے پی میں قبضہ گیر عناصر کو نکال باہر کرنا ہے ۔ جسونت سنگھ جو بی جے پی کے بانیوں میں سے ایک ہیں ان کو بی جے پی کے فلسفہ کو ان لوگوں نے غیر اہم بنادیا ہے جنہوں نے اپنے فائدہ کے لیے پارٹی پر قبضہ کرلیا ہے انہوں نے پارٹی قیادت پر کسی کا نام لیے بغیر تنقید کی اور اشارہ دیا کہ نریندر مودی کی بی جے پی فرضی ہے ۔ جسونت سنگھ کو ایل کے اڈوانی کا قریبی آدمی سمجھا جاتا ہے ۔ یہ قیاس آرائی ہورہی ہے کہ نریندر مودی نے پرمر ٹکٹ مسئلہ پر چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے کے موقف کی حمایت کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT