Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / نریندر مودی کی طرف اُٹھنے والی ہر ’اُنگلی ‘کاٹ دی جائے گی

نریندر مودی کی طرف اُٹھنے والی ہر ’اُنگلی ‘کاٹ دی جائے گی

بہار بی جے پی صدر نتیانند رائے کے تبصرے کے خلاف ہنگامہ ، اپوزیشن پارٹیوں کا اظہار برہمی ، ریمارکس واپس لینے پر زور
پٹنہ ۔ 21 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) بہار بی جے پی صدر نتیانند رائے نے وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف اُٹھنے والی ہر اُنگلی کو کاٹ دینے یا توڑ دینے کا ریمارک کیا ہے ، اس ریمارک کے خلاف اپوزیشن نے شدید برہمی کااظہار کیا اور ان سے فوری معذرت خواہی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے ریمارکس واپس لینے پر زور دیا۔ نتیانند رائے نے کہا تھا کہ وزیراعظم مودی کے خلاف کوئی بھی ہاتھ یا اُنگلی اُٹھی تو اُسے کاٹ دیا جائے گا ۔ اس پر اپوزیشن نے زبردست ہنگامہ کیا اور یہ تنازعہ شدت اختیار کرنے لگا تو بہار بی جے پی یونٹ کے صدر نے اظہارافسوس کیا اور اپنے ریمارکس کو واپس لے لیا۔ انھوں نے کہاکہ نریندر مودی اپنے بچپن سے ہی شدید مشکلات کا سامنا کرتے آرہے ہیں ، وہ مضبوط عزائم کے مالک ہیں ، وہ یہاں کنو طبقہ کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ یہ طبقہ ویشیا س کا ذیلی طبقہ ہے ۔ انھوں نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی ایک غریب شخص کے سپوت ہیں۔ اُن کا زیادہ سے زیادہ احترام کیا جانا چاہئے ۔ اگر ان کے خلاف کوئی ’اُنگلی‘ اُٹھاتا ہے یا ان کی طرف ’ہاتھ ‘ بڑھتا ہے تو اس کاہاتھ توڑ دیا یا کاٹ دیا جائے گا ۔ اخباری نمائندوں نے آج ان کے بیان کے بارے میں سوال کیا تو نتیانند رائے نے جو ریاست میں اُجر پور لوک سبھا نشست سے رُکن پارلیمنٹ بھی ہیں ، کہا کہ میں نے یہ ایک محاورے کے طورپر استعمال کیا ہے اور اپنے جذبات کااظہار کیا تھا۔ میرے الفاظ کو سنجیدہ طورپر لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر کسی کو ٹھیس پہنچی ہے تو میں شدید اظہارتاسف کرتا ہوںاور اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔ ڈپٹی چیف منسٹر بہار سشیل کمار مودی اور وزیرصحت منگل پانڈے بھی اُس وقت موجود تھے جب نتیانند رائے اپنا متنازعہ ریمارکس دوہرا رہے تھے ۔ سشیل مودی اور پانڈے نے اپنی تقاریر میں زور دے کر کہا کہ بی جے پی ہر ذات پات کے گروپ کا احترام کرتی ہے جس میں ویشیا طبقہ بھی شامل ہے ۔ یہ طبقہ عددی اعتبار سے بہت کمزور ہے ۔ سشیل کمار مودی نے آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو پر الزام عائد کیا کہ وہ ویشیا دشمن پالیسیوں پر عمل کررہے ہیں۔ آر جے ڈی نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں کنو طبقہ کے ایک بھی امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا تھا ۔ نتیانندرائے کے تبصرے کے بعد اپوزیشن پارٹیوں خاص کر کانگریس اور آر جے ڈی نے شدید تنقید کی ۔ آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد نے بہار کے بی جے پی صدر کو شدید تنقید کانشانہ بنایا اور کہاکہ آخر بی جے پی کو کسی کی عزت پر تبصرہ کرنا کا حق کس نے دیا ؟ جب کہ وہ خود اخلاقی طورپر اپنا معیار کھوچکی ہے ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر پریم چندر مشرا نے کہاکہ بی جے پی کے ریاستی یونٹ کے صدر اور پارٹی کے ایم پی کی حیثیت سے نتیانند رائے کو یہ محسوس کرنا چاہئے کہ وہ ایک جمہوری سماج میں سانس لے رہے ہیں ۔ یہاں پر اس طرح کی زبان ناقابل قبول ہے۔ آر جے ڈی ترجمان شکتی سنگھ یادو نے کہاکہ مغل شہنشاہ شاہجہاں نے تاج محل تعمیر کرنے والے میستریوں کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دیا تھا ، کیا بی جے پی لیڈر بھی اس شہنشاہ کی نمائندگی کررہے ہیں۔ جنتادل (یو) کے ترجمان نیرج کمار نے کہاکہ بی جے پی ریاست میں ایک حلیف پارٹی ہے اسے اس طرح کے بیانات سے گریز کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT