Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / نریندر پٹیل کو ایک کروڑ تو مسلم قیادت کے دعویداروں کی قیمت کیا ہوگی

نریندر پٹیل کو ایک کروڑ تو مسلم قیادت کے دعویداروں کی قیمت کیا ہوگی

گجرات میں کمزور موقف سے پریشان بی جے پی، کرناٹک میں مسلم ووٹرس سے خوفزدہ ، کانگریس کو نقصان پہونچانے ووٹوں کی تقسیم کی حکمت عملی
حیدرآباد۔24اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک میں انتخابی ماحول کے دوران الزام و جوابی الزامات کے علاوہ کارکردگی و عدم کارکردگی کے تذکرے کئے جاتے ہیں لیکن اس وقت جو طبقہ حکمرانی کر رہا ہے اس طبقہ کو کارکردگی یا ترقی سے زیادہ کردار کشی میں دلچسپی ہے اور وہ اہانت آمیز ریمارکس کے ذریعہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ہے لیکن اس میں بھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو پا رہی ہے جس کے نتیجہ میں بوکھلاہٹ کا شکار دولت کے دم پر ہجوم پر اثر انداز ہونے والی شخصیتوں کو خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گذشتہ دنوں گجرات میں پٹیل پاٹی دار تحفظات تحریک کے روح رواں ہاردک پٹیل کے ساتھی نریندر پٹیل نے اس بات کا انکشاف کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے انہیں ایک کروڑ روپئے دینے کی کوشش کی گئی ہے اور اس سلسلہ میں بی جے پی نے انہیں 10لاکھ روپئے پیشگی ادا بھی کئے اور مابقی 90 لاکھ دوسرے دن ادا کرنے والے تھے۔ نریندر پٹیل کے اس انکشاف کے بعد یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ جو لوگ صرف تحریک چلا رہے ہیں اور تحریک کے سرکردہ قائد کے ساتھی کو جو نہ رکن پارلیمنٹ ہے‘ نہ کسی سیاسی جماعت کا صدر ہے‘ نہ پٹیل قوم کے ٹھیکیدارہیں اور نہ ہی ان کا انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ ہے ۔

جب ایسے افراد کو ایک کروڑ روپئے میں خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو سیاسی قیادت کے دعویدار ہیں انہیں ایسا کیا حاصل ہو رہا ہوگا جو وہ ہر جگہ کانگریس کو نقصان پہنچانے کے لئے اپنے امیدوار میدان میں اتارنے تیار ہیں۔ سیاسی جماعت یا عزائم نہ رکھنے والے نریندر پٹیل کی قیمت بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظر میں ایک کروڑ ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جن کی تقریریں منافرت پھیلاتی ہیں‘ جو اپنی جماعت کے ٹکٹ پر امیدوار میدان میں اتارتے ہیں‘ جن کے چہروں اور لباس سے لوگ دھوکہ کھاتے ہیں ‘ جو مسلمانوں کی قیاد ت کے دعویدار ہیں ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی میں کیا قیمت ہوگی ؟ کرناٹک اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی کے متعلق بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ سابق ریاست دکن حیدرآباد میں آنے والے علاقو ںمیں کئی اسمبلی حلقہ جات ایسے ہیں جہاں مسلم امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی سخت ہندوتوا شبیہہ کو برقرار رکھنے کیلئے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے سے اجتناب کر سکتی ہے اور اگر دیئے بھی جاتے ہیں تو ایسی صورت میں کوئی قابل لحاظ تعداد نہیں ہوگی اسی لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے مسلم ووٹ کو منقسم کرنے کی ہی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بہار اور اترپردیش کے طریقہ کار کو ہی اپنانے پر غور کیا جا رہا ہے اور اس سلسلہ میں بات چیت کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے لیکن ناندیڑ انتخابات کے نتائج سے پارٹی حلقوں میں پیدا ہونے والی مایوسی کے سبب کرناٹک انتخابی مہم شروع کرنے سے قبل گھر کی حالت سدھارنے پر توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ اس بات کا احساس جماعت کے قائدین کو شدت سے ہونے لگا ہے کہ آقا کے حکم کی اتباع میں اور ان کے لئے مشعل جلانے کے چکر میں گھر کا چراغ بھڑکنے لگا ہے۔اسی لئے کرناٹک میں تحریک شروع کرنے سے قبل گھر کے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

کانگریس پارٹی ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ گجرات میں پارٹی کا موقف انتہائی کمزور ہے اسی لئے ان سرمایہ کاروںکی مد د لی جا رہی ہے جنہیں حکومت کی جانب سے بالواسطہ طور پر فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سرمایہ کاروں کے ذریعہ سیاسی جماعتوں اور بااثر شخصیات بالخصوص ان لوگوں پر دولت نچھاور کی جا رہی ہے جو ووٹ کاٹنے میں مہارت رکھتے ہیں اور اب تک کلیدی کردار ادا کرتے آئے ہیں۔گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیابی حاصل ہونے کے آثار موہوم نظر آتے جا رہے ہیں اور پٹیل برادری کے کانگریس کی سمت جھکاؤ اور تجارتی برادری میں پیدا شدہ ناراضگی سے بی جے پی خوفزدہ ہے اسی لئے گجرات کی 182نشست والی ریاست اگر ہاتھ سے چلی جاتی ہے تو 224 اسمبلی نشست والی ریاست کرناٹک کے حصول کے لئے وسیع حکمت عملی تیار کرچکی ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ اس حکمت عملی کے سلسلہ میں جنوبی ہند کی ریاستوں کے مختلف قائدین سے مشاورت اور انہیں ان کا حصہ پہنچا دیا گیا ہے تاکہ وہ پڑوسی ریاستوں میں مصروف رہنے کے باوجود اپنے حلقہ انتخاب کے نوجوانوں میں کرکٹ کٹس‘ موبائیل فونس اور موٹر سیکل کے علاوہ نقدی تقسیم کرتے ہوئے انہیں اس احساس میں مبتلاء نہ ہونے دیں کہ ان کے اپنے منتخبہ نمائندے دیگر مقامات پر مصروف ہیں اور ان کے علاقو ںکی ترقی کے عمل سے ان کی دلچسپی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے اور مسائل میں ہورہے اضافہ سے عوام کو ہونے والی مشکلات کو قائدین کی طرح مذہبی رنگ دیتے ہوئے نظر انداز کرتے رہیں۔

TOPPOPULARRECENT