Tuesday , January 16 2018
Home / شہر کی خبریں / نریند رمودی اور خواتین کا احترام

نریند رمودی اور خواتین کا احترام

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ نریند رمودی اور خواتین کا احترام

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
نریند رمودی اور خواتین کا احترام
بی جے پی لیڈر نریندرمودی ہندوستان کا وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس کوشش میں وہ ہر وہ ہتھکنڈہ اختیار کرتے جا رہے ہیں جس کے نتیجہ میں انہیں عوام کے ووٹ مل سکتے ہیں۔ وہ جہاں ایک طرف فرقہ پرستی کو عروج دے رہے ہیں اور دوسری طرف رائے دہندوں کو رجھانے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔ سماج کے ہر طبقہ کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کا دعوی کرتے ہیں ۔ خواتین کو رجھانے کی بھی ہر ممکنہ کوششیں کی جاتی ہیں۔ نت نئے دعوے کئے جاتے ہیں ۔ لیکن ایک حقیقت بالآخر کھل کر سامنے آگئی کہ نریندر مودی ‘ جو فخرسے خود کو آر ایس ایس کا پیرو قرار دیتے ہیں ‘ خواتین کی عزت و احترام کے دعوے کرتے ہیں ان دونوں معاملات میں جھوٹ کا سہارا لیا تھا اور ترقی کی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی ۔ انہوں نے جہاں آر ایس ایس کو اپنے شادی شدہ ہونے سے بے خبر رکھا تھا وہیں انہوں نے خواتین کی ان کے دل میں جو عزت اور احترام ہے اس کو بھی آشکار کرلیا ہے ۔ انہوں نے اس سے قبل گجرات اسمبلی انتخابات میں جب بھی مقابلہ کیا اپنے غیر شادی شدہ ہونے کا دعوی کیا ۔ حالانکہ کانگریس کی جانب سے خاص طور پر کانگریس جنرل سکریٹری مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے بارہا یہ انکشاف کیا کہ نریندر مودی شادی شدہ ہیں اور انہوں نے جشودھا بین نامی خاتون سے شادی کرنے کے بعد اسے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا اور اس سے ترک تعلق کرلیا ۔ مودی اس انکشاف کو جھٹلاتے رہے اور انتخابات لڑنے کیلئے الیکشن کمیشن میں جو حلفنامے داخل کئے جاتے ہیں ان میں بھی غیر شادی شدہ ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن اب لوک سبھا انتخابات کیلئے مقابلہ کرتے ہوئے مودی نے بالآخر اپنے شادی شدہ ہونے کا اعتراف کرلیا ۔ انہوں نے شائد یہ سمجھ کر اعتراف کیا کہ اس سے وہ خواتین کی ہمدردی حاصل کرنے میں اور انہیں اپنے حق میں ووٹ ڈالنے کیلئے تیار کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں نظر آتا کیونکہ اس سے خواتین کے تئیں مودی کے جذبات وا حساسات کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے اور یہ واضح ہوچکا ہے کہ مودی اپنے مفاد کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں اور شادی کرنے کے باوجود غیر شادی شدہ ہونے کا ادعا کرتے ہوئے اقدار اعلی تک پہونچنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
نریندر مودی کے اعتراف سے یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ انہوں نے محض اقتدار حاصل کرنے کیلئے اپنی تنظیم آر ایس ایس کو بھی دھوکہ دیا ہے جس سے وابستگی پر وہ فخر کا اظہار کرتے نہیں تھکتے تھے ۔ آر ایس ایس نے بھی شائد مودی کو اسی لئے گود لیا تھا کہ وہ غیر شادی شدہ ہیں اور ان کے حق میں تائید جٹانے کیلئے ساری تنظیم سرگرم نظر آتی تھی ۔ اب آر ایس ایس کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نریندر مودی سے خواتین کے تعلق سے ان کی غیر سنجیدگی اور لا پرواہی پر ان سے جواب طلب کرے ۔ مودی سے آر ایس ایس کو یہ بھی جواب طلب کرنا چاہئے کہ انہوں نے شادی شدہ ہوتے ہوئے کیوں سنگھ پریوار کو دھوکہ دیا اور غیر شادی شدہ ہونے کا ناٹک کیا اور اس کے پس پردہ ان کے عزائم و مقاصد کیا تھا ۔ انہوں نے ایک خاتون کو شادی کے بندھن میں باندھنے کے باوجود کیوں در در کی ٹھوکریں کھانے کیلئے چھوڑ دیا اور کیوں انہیں وہ سب کچھ نہیں دیا جو شادی کے بندھن میں بندھنے والی خواتین کو حاصل ہوتا ہے ۔ انہوں نے کیوں اس خاتون سے ترک تعلق کرلیا تھا اور خواتین کے تئیں ان کے دل میں احترام اور عزت کیوں نہیں ہے ۔ اس اعتراف کے بعد نریندر مودی کو اب خواتین کی عزت و احترام اور ان کی ترقی اور انہیں با اختیار بنانے کے دعوی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں رہ جاتا کیونکہ ان کا حقیقی چہرہ اب ان کے حامیوں کے سامنے بھی بے نقاب ہو کر رہ گیا ہے ۔
نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں کے دلوں میں خواتین کا جو مقام وہ تو اسی وقت معلوم ہوگیا تھا جب گجرات کے مسلم کش فسادات کے دوران خواتین کی بیحرمتی کی گئی ۔ حاملہ خواتین کے پیٹ کھلے عام سڑکوں پر چاک کرتے ہوئے دنیا میں آنے سے قبل ہی بچوں کا بھی قتل کردیا گیا تھا ۔ سینکڑوں خواتین کی عصمتوں کو داغدار کیا گیا تھا ۔ ایسا سب کچھ کرنے والوں کو سزائیں دینے کی بجائے نریندر مودی نے اپنی کابینہ میں وزارتی قلمدان سونپ کر ان کے رول کا اعتراف کیا تھا ۔ جو شخص اور اس کے ساتھی خواتین کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتے ہیں اور پھر ہندوستان جیسے ملک کی عنان اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کی کوششوں کو ہندوستانی سماج کامیاب ہونے نہیں دے سکتا ۔ اب ہندوستان بھر کی خواتین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں کو خواتین کے تئیں اس طرح کی غیر ذمہ داری اختیار کرنے اور ان کی عصمتوں کو داغدار کرنے والوں کو سبق سکھائیں اور ان کے حق میں ووٹ استعمال کرنے سے گریز کیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT