Monday , May 21 2018
Home / شہر کی خبریں / نسلی امتیاز، حقوق انسانی کیلئے سب سے بڑا چیلنج

نسلی امتیاز، حقوق انسانی کیلئے سب سے بڑا چیلنج

غریبی سے متاثرہ ملکوں میں بھی بچے ، بوڑھے اور خواتین بنیادی حقوق سے محروم

حیدرآباد 10 ڈسمبر (ایجنسیز) عالمی یوم حقوق انسانی تقریب ہر سال 10 ڈسمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس اہمیت کے حامل تقریب کی بنیاد عالمی جنگ کے اثرات سے جھلس رہے لوگوں کے درد کو سمجھ کر اور اس کو محسوس کرکے رکھی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے اہم اجلاس نے 10 ڈسمبر 1948 ء کو حقوق انسانی سے متعلق منشور جاری کیا تھا۔ تب سے یہ دن اس نام سے یاد کیا جانے لگا۔ کسی بھی انسان کی زندگی، آزادی، مساوات کا اختیار ہے ’’حقوق انسانی‘‘۔ دستور ہند اس اختیارات کی نہ صرف ضمانت دیتا ہے بلکہ اسے توڑنے والے کو عدالت سزا بھی دیتی ہے۔ 10 ڈسمبر 1948 ء کو اقوام متحدہ نے حقوق انسانی کا اعلامیہ جاری کیا تھا اور 1950 ء میں اقوام متحدہ نے ہر برس کی 10 ڈسمبر کو یوم حقوق انسانی پروگرام منانا طے کیا تھا۔ عالمی حقوق انسانی کا منشور ایک سنگ میل ہے۔ جس کے ذریعہ انسان کی ہتک عزت اور حقوق توڑنے والوں کو عدالت سزا دیتی ہے۔ ہندوستان میں 28 ڈسمبر 1993 ء سے حقوق انسانی قانون کو لاگو کیا گیا ہے۔ 12 اکٹوبر 1993 ء کو حکومت قومی حقوق انسانی کمیشن کا قیام عمل میں لایا۔ اس کمیشن کے دائرے میں شہری، سیاسی اقتصادی اور سماجی و تہذیبی حقوق بھی آتے ہیں۔ جیسے بچہ مزدوری، ایچ آئی وی، ایڈس، صحت، خورد و نوش، کمسنی کی شادی، خواتین کے اختیارات و حقوق، قید و حراست اور مڈبھیڑ میں ہونے والی اموات، اقلیتوں، پسماندہ و درج فہرست طبقات کے حقوق و اختیارات وغیرہ اس کمیشن کے تحت آتے ہیں۔ عالمی حقوق انسانی منشور کے اہم موضوع تعلیم و صحت، روزگار، تہذیب و روایات کی برقراری انسان کے بنیادی مطالبات سے مربوط ہیں۔ دنیا کے بہت سے ملک غریبی سے متاثر ہیں جو انسان کو بنیادی حقوق کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان علاقوں میں بچے، بوڑھے لوگ اور خواتین کے بنیادی حقوق کو پورا نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ نسلی بھید بھاؤ، انسان کے حقوق و اختیارات کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ انسان کے پیدا ہونے کے ساتھ ہی اس کی اہمیت و وقار کو بنائے رکھنے کے لئے اسے خود بہ خود کچھ نہ کچھ حقوق و اختیارات مل جاتے ہیں۔ اس دنیا میں ہر انسان کو اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے انھیں حقوق انسانی ہونے کی حیثیت سے مل جاتے ہیں۔ چاہے وہ اپنے حق کے لئے بولنا بھی جانتا ہو یا نہ ہو۔ یہ حق بچے کی ماں، گھر والے، ڈاکٹر وغیرہ اسے دیتے ہیں۔ لیکن اس کے بڑے ہونے کے بعد اس کے حقوق بھی بڑھنے لگتے ہیں۔ بچوں کے پڑھنے لکھنے اور اس کی پرورش کے لئے بنیادی سہولتیں اسے فراہم کرنا بھی اس کے حقوق میں آتا ہے۔ انھیں باعزت زندگی گزارنے کے لئے اور اپنی ترقی کے لئے اور آگے بڑھنے کے لئے کچھ حالات ایسے چاہئے جس سے کہ ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ پوری دنیا میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے۔ دستور ہند کی دفعات 14 ، 15 ، 16 ، 17 ، 19 ، 20 ، 21 ، 23 ، 24 ، 39 ، 43 ، 45 ملک میں حقوق انسانی کی حفاظت کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں اس ملک میں کمیشن کے تحت کئی این جی اوز کام کرتے ہیں اور ساتھ ہی کچھ سماجی خدمت گذار لوگ بھی اس سمت مہم چلاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT