Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / نسلی نفرت :فرانک فورڈ ائیر پورٹ پر ہندوستانی نژاد خواتین سے بدسلوکی

نسلی نفرت :فرانک فورڈ ائیر پورٹ پر ہندوستانی نژاد خواتین سے بدسلوکی

نئی دہلی:ہندوستانی نژاد 30سالہ خاتون شروتی باساپا جو ائیس لینڈ کے رائیکاجاویک میں مقیم ہے اور جس نے ائیس لینڈ کے شہری سے شادی کی ہے کے ساتھ مبینہ طور پر نسلی تجزیوں کا شکار ہوئی ہے۔

فرینک فورڈ ائیر پورٹ پر اس کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے برہنہ ہونے کو کہاگیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیاجب جاریہ ہفتہ شروتی بنگلور سے ائیس لینڈکے روانہ ہوئی تھی۔تاہم عہدیداروں نے شوہر کی مداخلت کے بعد اپنے اقدام سے دستبرداری اختیار کرلی۔شروتی نے فیس پوسٹ میں سوال پوچھا کہ’’ کیا بھورے لوگ یوروپی ساتھے یاساتھے مسافر کے ساتھ ہوں تو مشکوک نہیں ہوتے‘‘۔

این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق شروتی باساپام جسم کا پورا اسکین مکمل کرلیاتھا ‘ باوجود اسکے سکیورٹی عہدیدار نے شبہ ظاہر کیااور انہیں کپڑ ے اتارنے کو کہاگیا۔ جس کے جواب میں شروتی نے کہاکہ وہ اس کے لئے تیار ہیں اور درخواست کی اس میں کچھ قدر نرمی برتیں کیونکہ ان کے پیٹ کی سرجری ہوئی ہے ۔ یہاں تک کہ اس نے میڈیکل ثبوت بھی پیش کیاجس کو عہدیداروں نے مستر د کردیا۔

باساپا نے کہاکہ عہدیداروں کا رویہ اچانک تبدیل ہوگیا جب انہوں نے اس کے ائیس لینڈ کے شہری شوہر کو دیکھا۔جس کے بعد عہدیداروں نے عام آدمیوں کی طرح تلاشی میں اتفاق کرلیا۔شروتی کے فیس بک پوسٹ پر فوری اپنا ردعمل پیش کرتے ہوئے فرینک فورڈائیر پورٹ نے کہاکہ ’’ میں یہ سن کر حیران ہوں’ یقیناًکسی کے لئے بھی مخصوص طریقہ کار نہیں ہے۔

میں تمہاری تفصیلات کی ستائش کرتا ہوں۔واقعہ میں ہوا کیا ہے؟ کب او رکہا؟۔ یہ تمام واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب شروتی نے اس کی تفصیلات فیس بک پوسٹ پرشائع کرتے ہوئے لکھا کہ میں ایک ہندوستانی نژاد خاتون ہوں جس کے پاسپورٹ ہندوستانی پاسپورٹ ہے میرا شوہر ائیس لینڈ کا شہری ہے اور میرے ایک چارسال کی لڑکی بھی ہے جو اس وقت ائیر پورٹ پر موجود تھے جب میں انڈیا سے یہاں پر پہنچی ‘ بناء کسی وجہہ کے مجھے سکیورٹی چیکنگ کے نام پر کپڑے اتارنے کو کہاگیا مجھے ایک علیحدہ روم میں لے گئے اوریہ سب میرے چار سال کی بیٹی کی موجودگی میں ہورہا تھا۔

میں بارہا عہدیداروں سے پوچھ رہی تھی کہ مجھے برہنہ ہونے کو کیوں کہا جارہا ہے کہ کیا ائیس لینڈ آنے والے ہر مسافر کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کیاجاتا ہے میرے پوچھنے کے باوجو د عہدیداروں کوئی جواب دئے بغیر مجھے باربار برہنہ ہونے کو کہہ رہے تھے۔

میں نسلی تجزیو ں کے کھیل سے نفرت کرتی ہوں ‘ مگر میں وہاں پر واحد فرد تھی جس کو سب سے علیحدہ کرکے تلاشی لینے کی کوشش کی جاہی تھی مگر جب میں شوہر کو ائیر پورٹ عہدیدار نے دیکھا تو اس کا ذہن تبدیل ہوگیااور عام طور پر کی جانے والی تلاشی کے آمادہ ہوگئی‘‘۔شروتی باساپا نے ایک شکایت فرینک فورٹ ائیر پورٹ انتظامیہ کو دی ہے جس کا اب تک کوئی جواب نہیں آیا۔

TOPPOPULARRECENT