Sunday , February 18 2018
Home / Top Stories / نشستوں میں مناسب حصہ داری پر سکیولر جماعتوں سے اتحاد

نشستوں میں مناسب حصہ داری پر سکیولر جماعتوں سے اتحاد

ہماچل اور گجرات میںاتحاد کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔ بی جے پی سب سے بڑی ’ جملے باز ‘ پارٹی ۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی کا بیان

لکھنو 16 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بی اے سپی کی سربراہ مایاوتی نے آج کہا کہ ان کی پارٹی لوک سبھا اور ریاستی انتخابات میں فرقہ پرست جماعتوں کو روکنے کیلئے سکیولر جماعتوں سے اتحاد کیلئے تیار ہے لیکن اس کی یہی شرط ہے کہ اسے مقابلہ کیلئے قابل لحاظ نشستیں دی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کیلئے بھی ان کی پارٹی کے لیڈر ستیش مشرا نے سینئر کانگریس لیڈر احمد پٹیل سے بات چیت کی تھی لیکن اس کا نتیجہ بھی حوصلہ افزا نہیں رہا ۔ مایاوتی کا پارٹی کے ایک اعلامیہ میں یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا کہ ان کی پارٹی اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کسی بھی سکیولر جماعت کے ساتھ مل کر لڑنے کے حق میں ہے لیکن ایسا اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب پارٹی کو نشستوں کی تقسیم میں قابل لحاظ حصہ داری دی جائے ۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے توا ن کی پارٹی تنہا مقابلہ کریگی ۔ بی ایس پی صدر نے آج پارٹی کے سینئر لیڈرس کا ایک اجلاس طلب کیا تاکہ مجوزہ شہری مجالس مقامی انتخابات کیلئے ہدایات جاری کرسکیں۔ پارٹی نے اپنے انتخابی نشانہ ہاتھی پر ہی ان انتخابات میں مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے ۔ مایاوتی نے کہا کہ پارٹی کا کوئی بھی لیڈر اگر بحیثیت آزاد امیدوار انتخابات میں مقابلہ کرتا ہے تو اسے پارٹی سے خارج کردیا جائیگا ۔ نشستوں کی تقسیم کیلئے حالیہ کوششوں کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے بی ایس پی کو گجرات میں 25 اور ہماچل پردیش میں 10 نشستیں چھوڑنے سے اتفاق نہیں کیا تھا ۔ یہ وہ حلقے تھے جنہیں گذشتہ انتخابات میں کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ مایاوتی نے کہا کہ سینئر بی ایس پی لیڈر ایس سی مشرا نے اس مسئلہ پر کانگریس کے احمد پٹیل سے تفصیلی بات چیت کی لیکن وہ بات چیت کے نتیجہ پر مایوس ہوگئے اور اب وہ اتحاد میں مقابلہ کرنے پر زور نہیں دے رہے ہیں۔ مایاوتی نے ادعا کیا کہ کسی اتحاد میں مقابلہ کرنے کا ان کی پارٹی کو ماضی میں کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے ۔ ایسے میں پارٹی کیلئے یہی بہتر ہوگا کہ وہ اسمبلی اور لوک سبھا کیلئے تنہا مقالبہ کرے جس کیلئے پارٹی کی عوامی تائید میں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جائیں گے ۔ پارٹی چاہتی ہے کہ سروا سماج کی تائید حاصل کرنے پر توجہ دی جائے جیسا اس نے 2007 میں کیا تھا ۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات اور جاریہ سال اسمبلی انتخابات میں یو پی میں بی جے پی کی شاندار کامیابی کے بعد یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ بی ایس پی آئندہ انتخابات میں سکیولر جماعتوں جیسے کانگریس اور سماجوادی پارٹی سے اتحاد کیلئے حامی بھرے گی ۔ بی ایس پی سربراہ نے پارٹی کارکنوں سے مزید کہا کہ آئندہ سال 15 جنوری کو ان کی سالگرہکا دن جن کلیان کاری دیوس کے طور پر منایا جائیگا اور وہ پارٹی قائدین و کارکنوں کے مہینگے تحفے قبول نہیں کرینگی ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بجائے پارٹی کارکنوں کو چاہئے کہ وہ پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے کام کریں اور اقتدار حاصل کرنے پر توجہ دیں۔ بی ایس پی کو اقتدار پر فائز کرنا ہی ان کیلئے سب سے قیمتی تحفہ ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ شہری مجالس مقامی انتخابات میں بی جے پی کی حکمت عملی اور سرکاری مشنری کے استعمال کو ناکام بنانے پر توجہ دیں ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب سے بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوا ہے وہ سب سے بڑی ’ جملے باز ‘ پارٹی بن گئی ہے اور وہ عوام کی بہتری کیلئے کام کرنے کی بجائے صروف اپوزیشن قائدین کی شبیہہ کو عوام میں متاثر کرنے کیلئے کوشش کرنے میں مصروف ہے ۔

TOPPOPULARRECENT