Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / نصف شب کے بعد اشیائے خورد ونوش استعمال کنندوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ

نصف شب کے بعد اشیائے خورد ونوش استعمال کنندوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ

عارضی ٹرالی کے کچنس ، کمپنیوں اور آئی ٹی ملازمین اور نوجوانوں کے ترجیحی اشیاء
حیدرآباد۔13ستمبر (سیاست نیوز) دونوں شہرو ںمیں نصف شب کے بعد اشیائے خورد و نوش کی فروخت کے مراکز کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہاہے اور ان اشیائے خورد و نوش کی فروخت کے مراکز کی بڑھتی تعداد پر گاہکوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے ۔ پرانے شہر میں ریستوراں اور ہوٹلوں میں رات کے اوقات میں کھانے کے کلچر کے خاتمہ کیلئے کی جانے والی کوششوں کی ناکامی کے بعد اب یہ کلچر نئے شہر کے علاقوں میں تیزی سے فروغ پارہا ہے۔گچی باؤلی‘ مادھا پور‘ پنجہ گٹہ‘ اپل ‘ جوبلی ہلز ‘ بنجارہ ہلز کے علاوہ دیگر علاقوں میں رات دیر گئے اشیائے خورد و نوش کی فروخت کے مراکز چلائے جانے لگے ہیں اور ان مراکز پر رات کے اوقات میں بالخصوص ہفتہ اور اتوار کی شب رات دیر گئے تک ہجوم دکھائی دے رہا ہے ۔ دونوں شہرو ںمیں رات کے اوقات میں چلائے جانے والے ان اشیائے خورد و نوش کے مراکز جو کہ اکثر آٹو ٹرالی میں بنائے گئے کچن کے ذریعہ فروخت کئے جا رہے ہیں جن میں ساؤتھ انڈین اڈلی ‘ دوسہ‘ وڑا اور اپما کے علاوہ اب شاورمہ ‘ مندی اور دیگر عربی اشیاء کے ساتھ چائینیز اشیائے خورد و نوش بھی فروخت کئے جانے لگے ہیں اور شہر کے ان مصروف ترین علاقو ںمیں رات کے وقت یہ کھانوں کے بازار کو مقبولیت حاصل ہورہی ہے۔ مادھاپور میں اسی طرح کی آٹو ٹرالی میں چائینیز اشیاء نوڈلس‘ فرائیڈ رائس‘منچوریا اور چکن 65وغیرہ فروخت کرنے والے رگھونش کا کہنا ہے کہ ان کے کاروبار کا وقت شروع ہوتا ہے 8بجے کے بعد کیونکہ اکثر رات کو ڈنر کے وقت لوگ یہاں پہنچنے لگتے ہیں اور ڈنر کے بعد کی شفٹ میں کام کرنے والے اس بازار کے اہم گاہک ہوا کرتے ہیں جبکہ رات 2بجے جن کی شفٹ ختم ہوتی ہے وہ بھی ان مقامات پر ہلکی پھلکی اشیاء کے لئے پہنچتے ہیں لیکن رات کے اوقات میں بعض مرتبہ پولیس ہراسانی کے سبب بازار بند ہو جاتے ہیں اور اکثر ایسا نہیں ہوتا کیونکہ اکثر ٹکنالوجی کمپنیوں سے وابستہ ملازمین اپنی ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد یہاں کا رخ کرتے ہیں کیونکہ بے وقت گھر پہنچ کر انہیں کھانا دشوار ہوتا ہے۔ اسی طرح اڈلی ‘ دوسہ وغیرہ فروخت کرنے والے سنگرپپا کا کہنا ہے کہ ان بازاروں میں تجارت کرنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ بازار رات کے اوقات میں ملازمت کرنے کے خواہشمندو ںکیلئے کافی سودمند ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ اکثر بازاروں میں ملازمت کرنے والے نوجوانوں کو رات کے اوقات میں کام کرنے 8گھنٹے کے لئے 500تا700روپئے مل جاتے ہیں جس کے سبب تعلیم یافتہ نوجوان بھی اس بازار میں 6تا8 گھنٹے کے لئے خدمات انجام دیتے ہیں جس کے سبب انہیں بھی کافی آمدنی ہو جاتی ہے ۔ مادھاپور‘ اپل‘ پنجہ گٹہ ‘ گچی باؤلی وغیرہ کے علاقہ میں لگائے جانے والے ان بازاروں میں تعلیم یافتہ گاہکوں کے سبب ان مراکز پر کام کرنے کے لئے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT