Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / نظامس ٹرسٹ کے ملازمین کو جبراً سبکدوشی کے الزامات مسترد

نظامس ٹرسٹ کے ملازمین کو جبراً سبکدوشی کے الزامات مسترد

آمدنی میں کمی اور خرچ میں اضافہ پر رضاکارانہ سبکدوشی کی اسکیم ، ٹرسٹ کی وضاحت
حیدرآباد۔/11ستمبر، ( سیاست نیوز) ایچ ای ایچ دی نظامس چیریٹبل ٹرسٹ نے بعض سابق ملازمین کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ انہیں جبراً رضاکارانہ سبکدوشی کیلئے مجبور کیا گیا۔ ٹرسٹ کے بعض سابق ملازمین کی شکایات کے بارے میں وضاحت جاری کرتے ہوئے سکریٹری ایچ ای ایچ دی نظامس چیریٹبل ٹرسٹ نے بتایا کہ ٹرسٹ کی آمدنی میں کمی اور اسٹاف کے اخراجات میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے رضاکارانہ سبکدوشی کی اسکیم شروع کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 70فیصد رقم ملازمین پر خرچ کی جارہی تھی اور ٹرسٹ کے اغراض و مقاصد کی تکمیل کیلئے انتہائی کم رقم بچ رہی تھی جس کے پیش نظر 2002اور 2008ء میں رضاکارانہ سبکدوشی کی اسکیم متعارف کی گئی۔ 2002ء میں 19اور 2010ء میں 17ملازمین نے رضاکارانہ سبکدوشی اختیار کرلی۔ اس اسکیم کے تحت ملازمین کو تمام فوائد بشمول گریجویٹی ادا کردی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ملازمین نے تحریری طور پر رضاکارانہ سبکدوشی سے اتفاق کیا جس کے بعد ہی اسکیم پر عمل آوری کی گئی۔ سکریٹری نے جبراً ملازمین کو سبکدوش کرنے کی شکایات کو حقائق سے بعید قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جن ملازمین نے اسکیم کو اختیار نہیں کیا وہ ابھی بھی ٹرسٹ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سکریٹری نے وضاحت کی کہ پنشن سے متعلق تمام فوائد کے حصول کے باوجود دوبارہ پنشن کا مطالبہ نامناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈومنٹ ڈپارٹمنٹ نے بعض تفصیلات طلب کی ہیں جو بہت جلد روانہ کی جائیں گی۔ ٹرسٹ کے اکاؤنٹس کی ہر سال آڈٹ کی جاتی ہے اور 2013ء تک کی آڈٹ رپورٹ محکمہ انڈومنٹ میں داخل کردی گئی۔ 1954ء میں ہز ایکسلینسی نظام میر عثمان علی خاں نے ٹرسٹ قائم کیا تھا تاکہ غریبوں کو علاج اور تعلیم کیلئے امداد فراہم کی جائے۔ ٹرسٹ کے ذریعہ بیواؤں، ضعیفوں اور معذورین کو ماہانہ پنشن کی ادائیگی کے علاوہ مساجد، منادر اور چرچس کے مینٹننس کیلئے بھی امداد کی فراہمی کو اغراض و مقاصد میں شامل کیا گیا۔ گزشتہ 60برسوں کے دوران ٹرسٹ قیام کے مقاصد کی تکمیل کررہا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT