Tuesday , April 24 2018
Home / مذہبی صفحہ / نظامِ قضا ء ت میں سیاہ نامہ کی ترتیب ایک عظیم کارنامہ 

نظامِ قضا ء ت میں سیاہ نامہ کی ترتیب ایک عظیم کارنامہ 

 محمد عبدالقادرنظامی
قرآن حکیم و حدیث مبارک کی روشنی میں اگرہم مقبولان ِ بارگاہ خداوندی کے متعلق غوروفکرکریں توایسے بے شمار مردان ِ خدانظرآئیں گے جن کے اعمال وافعال ، اخلاق وکردار،نہ صرف انسانیت کی رہبری کرتے ہوئے نظرآتے ہیں ،بلکہ ان کی حیاتِ جاودانی ایمانیات کوبھی تازگی وجلابخشتی ہے ۔ انہی جامع صفات وکمالات شخصیتوں میں سے ایک عظیم المرتبت جلیل القدر حضرت خان بہادرامام اہل سنت شیخ الاسلام عارف باللہ علامہ مولاناالحافظ امام محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ بانی ٔ جامعہ نظامیہ کی ذات بابرکات ہے ، جنہوںنے حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں ایک صالح انقلاب برپاکرکے اس کے ماحول کوجنت نشاں اورراحت افزابنایا۔
حضرت شیخ الاسلام مولاناحافظ امام محمد انوار اللہ فاروقی ؒکاسلسلہ ٔ  نسب انچالیسویں پشت میں خلیفہ ٔ دوم حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘ سے ملتاہے ۔آپ ؒ کے جد ِ اعلیٰ شہاب الدین علی جن کالقب شاہ کابلی تھا۔یہ کابل کے رئوساء شہرتھے۔حضرت خواجہ فریدالدین گنج شکرؒ اورحضرت مجددِ الف ثانی  ؒ ان ہی کی اولاد میں ہوئے ہیں ۔ حضرت شیخ الاسلام ؒ کی چھٹی پشت میں قاضی تاج الدین اس پائے کے عالم گزرے ہیں کہ شہنشاہ اورنگ زیب ؒ نے جب دکن کوفتح کیاتوانہیں قندھار(دکن )کاقاضی یعنی ناظم عدالت مقررکیااورقاضی تاج الدین دکن ہی میں سکونت پذیر ہوئے۔ اس طرح قضاء ت کایہ منصب شیخ الاسلام مولاناالحافظ امام محمد انوار اللہ فاروقیؒ کے خاندان میں موروثی بن گیا۔ حضرت شیخ الاسلام ؒ کے والد بزرگوارقاضی حافظ ابومحمدشجاع الدین ؒ بڑے عالم وفاضل گزرے ہیں ۔ زہدوتقویٰ میں مشہور تھے ۔والدہ محترمہ کی طرف سے حضرت شیخ الاسلام ؒ کانسب حضرت سید احمد کبیررفاعی ؒ تک پہنچتاہے ۔
تعلیم وتربیت :  حضرت شیخ الاسلام ؒ کوان کے والد ماجد نے پانچ سال کی عمرمیں مولاناسیدشاہ رفیع الدین رفاعی قندھاری سے قرآن حکیم ناظرہ کی تکمیل کرائی اورسات سال کی عمرآپ کوحافظ امجد علی صاحب نابینا کے تفویض کیا، جہاں گیارہ سال کی عمرمیں حفظِ کلام پاک مکمل فرمایا۔ ابتدائی تعلیم حضرت والد ماجدسے بھی پائی ۔تعلیم وتربیت یاسلوک کی تکمیل اپنے والدبزرگوار ہی کے یہاں کی اور بیعت وخلافت پائی ،بعد ازاں شیخ الوقت حضرت حاجی امداداللہ مہاجرمکی ؒ کے دستِ حق سے پرست پرتجدید بیعت کی ۔
جامعہ نظامیہ کاقیام : حضرت شیخ الاسلام مولاناانواراللہ فاروقی  ؒ کاعظیم کارنامہ جامعہ نظامیہ کاقیام ہے ۔تعلیم وتربیت کی تکمیل کے بعد دینی مدرسے کے قیام کی جستجو میں لگے رہے ،یوں ۱۹؍ذی الحجہ۱۲۹۲؁ھ کواس مکتب کی بنیاد رکھی جوآگے چل کرایک عظیم الشان جامعہ میں بدل گیا،جسے آج ملک کی عربی یونیورسٹی جامعہ نظامیہ کہاجاتاہے۔جامعہ نظامیہ شہرحیدرآباد ہی میں نہیں بلکہ اضلاع اوردیگرریاستوں میں بھی اپنے مدارس اورفارغین کے ذریعہ علم کی روشنی پھیلارہاہے ۔
نظام قضاء ت کاقیام : حضرت شیخ الاسلام مولاناانواراللہ فاروقی  ؒ ناظم اُمورمذہبی اورصدرالصدورکے منصب پرفائز ہونے کے بعد قاضیوں کو شاہی ملازمین میں شمار کرنے کی تجویز پیش کی جس کی قبولیت۱۹۲۷ ء میں شاہی فرمان جاری کردیاگیا۔اس طرح حضرت شیخ الاسلام ؒ کی تجویز پرقاضی صاحبان کو صاحب دفتر اوردفاترقضاء ت کوباضابطہ سرکاری دفاتر قرار دیاگیااورایک سیاہہ نامہ کانمونہ مرتب کروایا۔جواب تک موجود ہے اسی سیاہہ جات میں شادی کے تمام امورکے اندراجات انجام پارہے ہیں۔
بحیثیت ناظم امورمذہبی : اعلیٰ حضرت نواب میرعثمان علی خان نے آپ کی علمی قابلیت ،حلم وبردباری کی وجہ سے بہ نظرقدردانی ناظم امورمذہبی وصدرالصدورصوبہ جات دکن کے عہدہ جلیلہ کیلئے آپ کاانتخاب فرمایا۔ بانی جامعہ نے بارگاہ شاہی میں عرض کیاکہ ’’سرکاری ملازمت کے لیے انتہائی عمر جو مقررہے اورمیں اُس سے متجاوز ہوں ۔‘‘
شاہی فرمان جاری ہواکہ ’’اس وقت ملک میں ان خدمات کے لیے آپ سے زیادہ کوئی موزوں نہیں ہے۔اس لیے آپ کوہی مقررکیاجاتاہے ‘‘۔ آپ آخری دم تک اس عہدے پرفائز رہے ۔صیغہ مذہبی کے علاوہ دوسرے امورسلطنت میں بھی آپ کی رائے پرعمل کرتے اورکونسل میں بھی آپ کے مشورے بڑی وقعت کی نظروں سے دیکھے جاتے تھے۔
خطابات : آپ کی علمی قابلیت سے متاثرہوکرآصف جاہ سادس نواب میرمحبوب علی خان نے شرف تلمذحاصل کیا،پھرآصف جاہ سادس نواب میرمحبوب علی خان نے اپنے فرزندنواب میرعثمان علی خان آصف سابع کی تعلیم وتربیت کیلئے آپ کومقررفرمایا۔آصف جاہ سادس نواب میرمحبوب علی خان نے اپنی جشن تخت نشینی کے موقع پر ۱۳۰۱ ھ  میں ’’خان بہادر‘‘ کا خطاب سرفراز فرمایااورنواب میرعثمان علی خان نے جشن سالگرہ۱۳۳۲ھ میں ’’فضیلت جنگ‘‘کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔
قادیانی تحریک کا علمی رد: حضرت شیخ الاسلام مولاناانواراللہ فاروقی  ؒ نے ردّ قادیانیت میں چندمعرکۃ الآراء کتابیں لکھیں ،جن میں ’’افادۃ الافہام ‘‘دوجلد ’’مفاتیح الاعلام ‘‘،’’فہرست افادۃ الافہام ‘‘ ،’’انوارالحق‘‘ وغیرہ اہل ِ علم کے طبقے میں کافی مقبول ومعروف ہیں ۔
تصانیف :  حضرت شیخ الاسلام ؒ کوتصنیف وتالیف سے بھی بے حد لگائوتھا۔بانی جامعہ کی کم وبیش چالیس تالیفات وتصانیف ہیں جن میں مقاصدالاسلام ،حقیقۃالفقہ اورانوارلحق کے علاوہ شاعری مجموعہ شمیم الانوارقابل ذکرہے ۔بانی جامعہ کی معرکۃ الاراء تصنیف انواراحمدی ہے جس میں آپ نے حضورﷺ کی محبت سے وابستگی اورقلبی لگائوکابرجستہ اظہارکیاہے ۔ اس کے علاوہ اصلاح معاشرہ اورتعلیمی تحریک سے متعلق متعددمضامین موجود ہیں ۔
TOPPOPULARRECENT