Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / نظامیہ طبی ہاسپٹل میں یوم حکیم اجمل خاں تقاریب، حکومت سے رقمی امداد نظرانداز

نظامیہ طبی ہاسپٹل میں یوم حکیم اجمل خاں تقاریب، حکومت سے رقمی امداد نظرانداز

اساتذہ اور طلباء سے چندہ کی وصولی، محکمہ آیوش کی لاپرواہی، حکومت کے وعدے بے وفا ثابت

حیدرآباد۔4فبروری(سیاست نیوز)حکومت تلنگانہ ایک طرف اُردو کو فروغ دینے کا اعلان او ردعوی کررہی ہے تو دوسری طرف اُردو ذریعہ تعلیم کے ساتھ حکومت کا متعصبانہ رویہ بھی واضح طور پر سے دیکھائی دے رہا ہے ۔ دانشوروں اور سماجی جہدکاروں کا کہنا ہے کہ جب تک اُردو کوروزگار سے نہیں جوڑا جاتا تب تک اُردو کی بقاء او ر فروغ ممکن نہیں ہے ۔طب یونانی ایک ایسا شعبہ ہے جس کا راست تعلق اُردو سے ہے ۔یونانی کے صد فیصد نسخے فارسی میںہیں یا پھر اُردو میں ہیں اور نظامیہ طبی کالج کے علاوہ ملک بھر میںاس قسم کے کالجوں میںداخلہ لینے والے طلبہ کا تعلق بھی اُردو میڈیم سے ہی ہے ۔مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ مرکزی او رریاستی حکومتیں طب یونانی کے ساتھ اپنے امتیازی سلوک کو برقراررکھی ہوئی ہیں۔ اس کی مثال ملک کے سب سے قدیم نظامیہ طبی یونانی کالج میں ہمیںملتی ہے۔ تاریخ کے حوالے سے ملی اطلاع کے مطابق 1810میںاس قدیم نظامیہ طبی کالج کا قیام عمل میںلایاگیا تھا جس کا مقصد یونانی طریقے علاج کو فروغ دیتے ہوئے مریضوں کو علاج کی سہولتیں فراہم کرنا تھا۔قیام کے وقت کالج میںزیرتعلیم طلبہ کو تمام تر سہولتیں اور طلبہ کے لئے قیام وطعام کے موثر انتظامات بھی تھے اور ریسرچ کے لئے ریاستی انتظامیہ کی جانب سے ہر قسم کی سہولتیں تھیں۔ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام کے بعد اس قدیم او رعظیم طبی کالج کے ساتھ امتیاز ی سلوک کی شروعات ہوئی جس کا سلسلہ آج تک بھی جاری ہے۔علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ریاست کے تاریخی ورثوں سے وزیراعلی کے چندرشیکھر رائو کا اظہار دلچسپی کے دعوئوں سے نظامیہ طبی کالج کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی کوششوں میںسرگرم طبقے میںایک امید پیدا ہوگئی تھی۔مگر افسوس اس بات پر ہیکہ چار سال کا وقفہ گذر جانے کے بعد بھی نظامیہ طبی کالج کی تاریخ کا احیاء عمل میںنہیں لایاجاسکا۔ نظامیہ طبی کالج چارمینار کی موجودہ حالت اور بھی خراب ہوگئی ہے۔ کالج میں میںبی یو ایم اس کی تعلیم حاصل کررہے طلبہ وطالبات کے اسکالرشپ کو تین سالوں سے اپ ڈیٹ نہیںکیاگیا ہے جبکہ نوماہ سے اسٹیپنڈ سے بھی محروم ہیں۔ مختلف شعبہ جات میںچھ پروفیسرس ریٹائرڈ ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ نئے پروفیسرس کا تقرر اب تک عمل میںنہیںلایاگیا ہے ۔ لکچررس کے فقدان کااثر طلبہ وطالبات کی تعلیم پر پڑرہا ہے ۔کالج میںبنیادی سہولتوں او ر انفراسٹرکچر کی کمی تعلیمی معیار کو متاثر کررہی ہیں۔ا س کالج کے اطراف واکناف میںکافی کھلی اراضی ہے اس کے باوجود نئی عمارتوں کی نہ تو تعمیر کی جارہی ہے اور نہ ہی قدیم عمارت میں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میںسنجیدہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔ عدم صفائی کی وجہہ سے طلبہ کو جہاں دشواریاں پیش آرہی ہیں ‘ تو دوسری جانب پورے علاقے میںمچھروں کی افزائش کا اثر طلبہ کی صحت پر پڑرہا ہے۔ دوروز قبل یہا ںپر سی سی آئی ایم کی ٹیم کے دورہ کے پیش نظر صفائی کی گئی مگر عام طور پر اساتذہ او رلکچررسس کالج کی صفائی پر توجہہ دینے کے بجائے سیاسی سرگرمیوںمیں زیادہ ملوث دیکھائی دیتے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جہاں پر اُردو ذریعہ تعلیم کو فروغ دینے کے دعوے پیش کئے جارہے ہیں وہیں پر مذکورہ کالج کے چند ایک پروفیسر س کا کہنا ہے کہ کالج کے ڈائرکٹر او رایڈیشنل ڈائرکٹر کالج کی ترقی میں مبینہ رخنہ پیدا کررہے ہیں۔ان سب مسائل کے باوجود کالج انتظامیہ 5تا11فبروری کو پانچ روزہ یوم حکیم اجمل خان تقاریب منعقد کی جارہی ہے ۔اطلاعات کے مطابق محکمہ آیوش کی جانب سے اس تقریب کے لئے کوئی فنڈ جاری نہیںکیاگیا ہے اور انتظامیہ اساتذہ کے علاوہ طلبہ وطالبات سے چند ہ وصول کرتے ہوئے اس تقریب کو منعقد کرنے کی تیاری جاری ہے ۔یقینا حکیم اجمل خان کو خراج ضروری ہے مگر اس سے زیادہ ان کے ایجادات کے حفاظت او ریونانی ذریعہ علاج کے فروغ کے لئے تعلیم حاصل کرنے والے کالج کی عظمت رفتہ کی بحالی اور طلبہ کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے ۔حکومت تلنگانہ کو اس ضمن میںسنجیدگی کے ساتھ غور خوص کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT